چنّڑ پیر یا چنن پیر؟ ۔۔۔ ( ایک ضروری وضاحت)
چنّڑ پیر یا چنن پیر؟ ۔۔۔ ( ایک ضروری وضاحت)
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری
صحرائے روہی کی خاموش وسعتوں میں جب ہوا ریت کے ذروں سے سرگوشی کرتی ہے تو ایک نام گونجتا ہے
’’ چنّڑ پیر‘‘ ( چنن پیر ) ۔ مگر آج اسی نام کے گرد ایک غلط فہمی بھی گردش کر رہی ہے۔ کچھ لوگ انہیں’’ چنن پیر‘‘ لکھتے اور پڑھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اصل نام کیا ہے؟ اور اگر رَسمُ الخط کی تبدیلی نے نام کی صورت بدل دی ہے تو کیا ہمیں اصل تلفظ اور تاریخی شناخت کی حفاظت نہیں کرنی چاہیے؟
یہ معاملہ محض املا کا نہیں، وِرثے کا ہے۔ بہاولپور ڈویژن کی تحصیل یزمان، چولستان کے دل میں واقع یہ دربار صدیوں سے روحانیت، رواداری اور ثقافتی ہم آہنگی کا مرکز رہا ہے۔ یہاں ہندو، مسلمان، سکھ اور دیگر عقائد کے لوگ یکساں عقیدت کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں۔ سالانہ عرس سات جمعرات تک جاری رہتا ہے، جہاں اونٹوں کے قافلے، جھومر کی تھاپ، ڈھول کی گونج اور صحرائی ثقافت کا جوبن اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ مگر اس میلے کی اصل روح تفریح نہیں، روحانیت ہے۔
چنّڑ پیر ( چنن پیر ) کی شخصیت کے گرد جو روایات ملتی ہیں، وہ انہیں ایک ایسے بزرگ کے طور پر پیش کرتی ہیں جنہوں نے صحرا میں انسان دوستی اور توحید کا پیغام عام کیا۔ مقامی روایت کے مطابق ان کا نام ’’چنّڑ‘‘ ( چنن) تھا، جس کی صوتی ادائیگی سرائیکی لہجے میں مخصوص انداز رکھتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب اردو رسم الخط میں تحریر کیا گیا تو بعض لوگوں نے اسے ’’ چنن‘‘ پڑھ لیا۔ حالانکہ اصل نام چنڑ پیر ہے۔ چنڑ پہلے سرائیکی میں اس طرح لکھا اور بولا جاتا تھا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں زبان اور تحریر کے فرق نے تاریخ کو الجھا دیا۔
خدا یار چنڑ ہر سال عرس کے موقع پر اس روحانی مرکز پر چادر پوشی اور تمام رسومات ادا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
یہ وضاحت حالیہ ایک ویڈیو مکالمے میں اُس وقت نمایاں ہوئی جب دربار کے موجودہ اولادِ چنڑ پیر ’’ خُدا یار چنّڑ‘‘سے یہی سوال پوچھا گیا کہ اصل نام کیا ہے؟ ان کا موقف واضح تھا: اصل نام ’’ چنّڑ پیر‘‘ ہے، اور ’’ چنن‘‘ محض تحریری یا تلفظی یا محکمہ اوقاف کی غلطی کی وجہ سے تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خاندانی روایت اور قدیم زبانی تسلسل میں ہمیشہ ’’ چنّڑ‘‘ ہی مستعمل رہا ہے۔
یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔ جنوبی پنجاب اور چولستان کے کئی نام ایسے ہیں جن کی ادائیگی اور تحریر میں فرق رہا ہے۔ سرائیکی لہجے میں موجود بعض حروف اردو میں مکمل نمائندگی نہیں پاتے۔ نتیجتاً نام کی صوتی اصل کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔ اگر ہم تاریخ کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں محض لکھے ہوئے لفظ پر نہیں بلکہ اس کے پس منظر پر بھی غور کرنا ہوگا۔
خُدا یار چنّڑ بطور اولادِ چنڑ پیر اور پورے پاکستان کی تمام چنڑ قوم اس روحانی ورثے کے امین ہیں۔ ان کی ذمہ داری صرف عرس کے انتظام تک محدود نہیں بلکہ روایت کی درست سمت میں رہنمائی بھی ہے۔ انہوں نے بارہا اس امر پر زور دیا ہے کہ لوگوں کو نام کی درستی سے آگاہ کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں کسی ابہام کا شکار نہ ہوں۔ یہ محض ایک خاندانی مسئلہ نہیں، ایک تہذیبی امانت ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ چولستان کی دھرتی نے ہمیشہ رواداری کو جنم دیا ہے۔ یہاں کے دربار صرف مذہبی مراکز نہیں بلکہ ثقافتی ہم آہنگی کے استعارے ہیں۔ اگر ہم ناموں کی تحریف کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کریں گے تو کل کو پوری شناخت دھندلا سکتی ہے۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی ادارے، مقامی محققین اور میڈیا اس موضوع پر سنجیدہ مکالمہ کریں۔ مقامی زبانوں کی صوتیات کو محفوظ کیا جائے، اور تاریخی ناموں کو درست انداز میں تحریر و نشر کیا جائے۔ یہ کام صرف کسی ایک خاندان یا ادارے کا نہیں، پورے معاشرے کا ہے۔
آخر میں سوال آپ سے ہے: کیا ہم اپنے روحانی ورثے کو محض سہولت کی خاطر بدلنے دیں گے؟ یا ہم تحقیق، شعور اور دیانت کے ساتھ اصل کو برقرار رکھیں گے؟
صحرا کی ریت پر لکھا نام مٹ بھی سکتا ہے، مگر اگر وہ دلوں میں درست صورت میں محفوظ ہو تو صدیوں تک زندہ رہتا ہے۔ چنّڑ پیر کا نام بھی اسی امانت کا حصہ ہے اور اسے درست پہچان دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ چنڑ پیر جیسل میر راجہ سدھیرن کا بیٹا ہے۔ تو پھر چنڑ قوم کا کلیم سچ ثابت ہوتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ چنڑ قوم بھی راجہ سدھیرن کی اولاد ہے۔ اس حوالے سے بھی ایک مضبوط کڑی ہے۔ صدیوں سے اس دربار پر چنڑ قوم ہی اس روہی کے روحانی مرکز پر تمام رسومات اور ثقافت کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ چنڑ پیر کا اصل نام عماد الدین ہے جو کہ سید جلال الدین سُرخ پوش بخاریؒ کے خلیفہ بھی تھے اور نام بھی انہوں نے رکھا تھا۔ جس کی وجہ سے سید جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ کا فیض بھی ہر وقت جاری و ساری رہتا ہے۔





