Column

غربت: عذاب نہیں، نظام کی خرابی کا نتیجہ ہے

غربت: عذاب نہیں، نظام کی خرابی کا نتیجہ ہے
تحریر: رفیع صحرائی
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 29فیصد ہو گئی ہے۔ یہ حکومتی اعداد و شمار ہیں جبکہ حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ شرح شاید چالیس فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ غربت کی اس قدر بلند شرح سوالات کو جنم دیتی ہے کہ کیا غربت خدا کی طرف سے بھیجا ہوا عذاب ہے؟ کیا یہ کسی قوم پر نازل ہونے والا کوئی آسمانی امتحان ہے؟ یا پھر یہ انسانوں کے بنائے ہوئے معاشی اور سماجی ڈھانچے کی خرابی کا نتیجہ ہے؟
اگر ہم تاریخ، معیشت اور سماجیات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں تو ایک حقیقت پوری شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ غربت دراصل وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا شاخسانہ ہے۔ ہمارے یہاں زمین، پانی، معدنیات، صنعت اور سرمایہ سب کچھ موجود ہے، کمی صرف انصاف کی ہے۔ دولت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور قابض طبقے کی اجارہ داری نے معاشرے اور معیشت کو عدم توازن سے دوچار کر رکھا ہے۔
غربت صرف جیب کی خالی حالت کا نام نہیں، یہ ایک ایسا دائمی المیہ ہے جو انسان کی خودی، وقار اور مستقبل کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ معاشرے کا غریب طبقہ ساری عمر محتاجی اور کسمپرسی میں گزار دیتا ہے۔ ایک مفلس شخص کو اپنی جائز اور لازمی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی دوسروں کا دستِ نگر رہنا پڑتا ہے۔ یہ مسلسل انحصار انسان کے اندر احساسِ کمتری کو جنم دیتا ہے دوسری طرف جب وہی شخص اپنے اردگرد چند افراد کو شاہانہ زندگی گزارتے دیکھتا ہے۔ محلات، مہنگی گاڑیاں، بیرونی سیاحت اور بے تحاشا آسائشیں اسے نظر آتی ہیں تو اس کے دل میں احساسِ محرومی شدت اختیار کر لیتا ہے۔ یہی احساسِ محرومی بعض اوقات نفسیاتی بگاڑ، سماجی بے زاری اور بغاوت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایک بات ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ غربت کا سب سے بھیانک اثر آنے والی نسلوں پر پڑتا ہے۔ جب حاملہ ماں کو مناسب اور صحت مند خوراک میسر نہ ہو تو اس کے بطن میں پلنے والا بچہ جسمانی اور ذہنی طور پر کمزور رہ جاتا ہے۔ یوں غربت صرف ایک فرد نہیں بلکہ پوری نسل کو کمزور بنا دیتی ہے۔ کمزور جسم، کمزور تعلیم، کمزور مواقع کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسا معاشرہ عالمی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ تعلیم کی کمی بھی غربت کو جکڑے رکھتی ہے۔ غریب خاندان اپنے بچوں کو معیاری تعلیمی اداروں میں نہیں بھیج سکتے۔ نتیجتاً وہ کم اجرت والے کاموں تک محدود رہتے ہیں اور غربت کا چکر نسل در نسل چلتا رہتا ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب معاشرے میں دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہو اور اکثریت بنیادی ضروریات سے محروم ہو تو امن و امان متاثر ہوتا ہے۔ احساسِ محرومی کئی افراد کو باغی بنا دیتا ہے۔ وہ چوری، ڈکیتی اور دیگر جرائم کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ یقیناً ہر غریب مجرم نہیں ہوتا مگر یہ بھی سچ ہے کہ غیر منصفانہ معاشی ڈھانچہ جرائم کی افزائش کے لیے زمین ہموار کر دیتا ہے۔
معاشی ناانصافی دراصل سماجی عدم استحکام کی جڑ ہے۔ جب نوجوانوں کو روزگار نہیں ملتا، جب محنت کا صلہ نہیں ملتا، جب مواقع صرف سفارش اور سرمائے کی بنیاد پر تقسیم ہوتے ہیں تو ریاست کی رٹ کمزور پڑنے لگتی ہے۔ معاشیات کے اصول بھی یہی کہتے ہیں کہ دولت کا حد سے زیادہ ارتکاز معیشت کو غیر متوازن بنا دیتا ہے۔ جب سرمائے کا بڑا حصہ چند افراد یا خاندانوں کے پاس ہو تو سرمایہ کاری، پیداوار اور کھپت کا دائرہ محدود ہو جاتا ہے۔ متوسط اور نچلے طبقے کی قوتِ خرید کمزور ہونے سے منڈی سکڑتی ہے اور معاشی پہیہ سست ہو جاتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا گیا وہاں استحکام اور ترقی نے جنم لیا۔ مثال کے طور پر اسکینڈینیوین ممالک جیسے سویڈن اور ناروے نے فلاحی ریاست کے ماڈل کے ذریعے تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ کو عام کیا جس کے نتیجے میں معاشرتی سکون اور معاشی استحکام پیدا ہوا۔
پاکستان میں چیریٹی دنیا کے تمام ممالک سے زیادہ ہوتی ہے۔ حکومتی سطح پر بھی اور نجی سطح پر بھی خیرات بہت زیادہ ہوتی ہے۔ رمضان کے مقدس مہینے میں تو یہ جذبہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ شہر شہر سرکاری اور غیرسرکاری دسترخوان، راشن کی تقسیم، زکوٰۃاور خیرات کی تقسیم میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ لیکن یاد رکھیے! غربت کا حل خیرات نہیں بلکہ انصاف ہے۔ وقتی امداد وقتی سہارا تو دے سکتی ہے مگر مستقل حل نہیں۔ مستقل حل اس میں ہے کہ:
ٹیکس کا نظام منصفانہ بنایا جائے۔ تعلیم اور صحت کو ریاستی ترجیح بنایا جائے۔ روزگار کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ کرپشن اور وسائل کی لوٹ مار کا خاتمہ کیا جائے اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو فروغ دیا جائے۔ جب تک وسائل کی مساوی تقسیم نہیں ہو گی، امن، خوشحالی اور ترقی ایک خواب ہی رہیں گے۔ غربت کو تقدیر کا لکھا کہہ کر نظر انداز کرنا دراصل ظلم کو دوام بخشنے کے مترادف ہے۔ یہ ایک سماجی اور معاشی مسئلہ ہے جس کا حل اجتماعی بصیرت اور دیانتدار قیادت میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم واقعی ایک مستحکم، پرامن اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں دولت کے ارتکاز کے بجائے وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہوگا۔
کیونکہ جب معاشرے کے ہر فرد کو باعزت روزگار، معیاری تعلیم اور بنیادی سہولیات میسر ہوں گی تبھی حقیقی خوشحالی کا سورج طلوع ہوگا۔
’’ غربت کا خاتمہ خیرات سے نہیں، انصاف سے ہوتا ہے‘‘۔

جواب دیں

Back to top button