تازہ ترینخبریںپاکستان سے

محتسب کا ادارہ غریبوں کی عدالت ہے: خالد پرویز

سینئر ایڈوائزر وفاقی محتسب خالد پرویز نے کہا ہے کہ محتسب ادارے کے قیام کا بنیادی مقصد وفاقی حکومت کے تحت چلنے والے سرکاری اداروں کے خلاف عوام کی شکایات کا ازالہ کرنا ہے۔

خاص طور پر معاشرے کے غریب عوام جن کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ عدالتوں اور وکلا کے بھاری اخراجات برداشت کرسکتے ہیں،سادہ کاغذ پر ایک درخواست لکھ کر وقافی محتسب کو بھجوائیں تو اس پر کارروائی شروع ہو جاتی ہے۔اسے آپ غریبوں کی عدالت بھی کہہ سکتے ہیں۔

وفاقی محتسب کے ملک بھر میں 13 ریجنل دفاتر موجود ہیں دنیا بھر میں 190ممالک میں اس قسم کے ادارے موجود ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی محتسب ادارہ کے 39سال مکمل ہونے پر یوم تاسیس کے حوالے سے پیر کو وفاقی محتسب ریجنل سیکرٹریٹ آفس لاہور میں میڈیا بریفنگ میں کیا۔

انہو ں نے کہا کہ موجودہ وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی جو حال ہی میں اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں، انہوں نے فوری طور پر کئی اقدامات اٹھائے ہیں جن سے فوری انصاف اور شکایت کندگان کی داد رسی میں اضافہ ہوا ہے۔سینئر ایڈوائزر نے کہا کہ 2001 میں ایک لاکھ 6 ہزار سے زائد شکایات نمٹائی گئیں، وفاقی محتسب کے فیصلوں پر 98فیصد عمل درآمد ہو چکا ہے جن میں سے تقریبا 15ہزار 513 شکایات آن لائن موصول ہوئیں جس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ رفتار کار میں خاطر خواہ اضافہ کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استعمال کو بھی بروئے کار لایا جارہا ہے۔

وفاقی محتسب سیکرٹریٹ میں سکائپ ایمو اور انسٹا گرام پر بھی شکایات کی سماعت کی جاتی ہے، شکایت کندگان بھی گھر بیٹھے شامل ہوسکتے ہیں،انہیں سفر کی مشکلات اٹھانے کی بھی ضرورت نہیں،ان میں 22ہزار شکایات لاہور سے موصول ہوئیں جن میں 70 فیصد واپڈا کی تھیں۔

خالد پرویز نے کہا کہ وفاقی محتسب نے کہا کہ یہ ادارہ عوام کو ان کے گھر کی دہلیز پر انصاف فراہم کرنے کے لیے بھی سرگرم ہے اس مقصد کے لیے او سی آر کے نام سے ایک پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے جس کے تحت وفاقی محتسب کے افسران تحصیل اور ضلعی کوارٹرز میں جا کر عام شہریوں کو ان کے گھر کی دہلیز پر انصاف فراہم کرتے ہیں،ایسی شکایات کا فیصلہ 45 دن میں کیا جاتا ہے،

یہ ایک ایسا انقلابی قدم ہے جسے پوری دنیا میں سراہا گیا ہے، لاہور آفس کے افسران نے مختلف اضلاع میں جا کر 915شکایات سنیں اور ان میں سے 809 شکایات کا موقع پر فیصلہ سنایا گیا اور اس سلسلے میں مختلف اضلاع کے 32 دورے کیے گئے۔

خالد پرویز نے کہا کہ وفاقی محتسب سیکرٹریٹ کی وجہ سے آج تمام پنشرز لائنوں میں لگے بغیر بینکوں کے ذریعے پنشن وصول کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ 24جنوری 1983 کو ایک صدارتی فرمان کے مطابق قائم کیا گیا، 8اگست 1983 کو پہلے وفاقی محتسب نے حلف اٹھایا۔

ایک سوال میں انہوں نے بتایا کہ کسی بھی شکایت کندہ کو اپنی شکایت ثابت کرنا ہوتی ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی وفاقی ادارے سے شکایت ہے تو اس ادارے سے رجوع کر سکتا ہے،کسی بھی شکایت کا فیصلہ 60دن میں کیا جاتا ہے،لوگوں کو اس کے بارے میں مکمل طور پر آگاہی نہیں ہے جسے ہم میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں،

اس سے قبل سینئر ایڈوائزر وفاقی محتسب عبدالحمید رازی نے کہا کہ وفاقی محتسب سستا ترین،سادہ اور عوام دوست سسٹم ہے،اس ادارے میں آنے والے لوگوں کی داد رسی فوری طور پر کی جاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button