Uncategorized

امریکہ کے لڑاکے طیارے کے مسترد ڈائزین پرچین کامیاب

چینی قوم کی مہارت سے کوئی انکار نہیں‌کر سکتا. چین کے جدید ترین ہائپرسونک لڑاکا طیارے کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ اس کا ڈیزائن 20 سال پہلے امریکی ادارے ’ناسا‘ نے مسترد کردیا تھا لیکن اب چین اسی ڈیزائن پر بہت تیزی سے کام کر رہا ہے۔ اس کے انجنوں کو جیانگسو، چین میں واقع ’نانجنگ یونیورسٹی آف ایئروناٹکس اینڈ ایسٹروناٹکس‘ کی جدید ہوائی سرنگ (وِنڈ ٹنل) میں کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے۔یہ ہوائی سرنگ، طیاروں اور میزائلوں کے پروٹوٹائپس کو آواز سے 4 تا 8 گنا رفتار پر آزمانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ ڈیزائن 1990 کے عشرے میں ’ناسا‘ سے وابستہ چینی نژاد چیف انجینئر منگ ہانگ تانگ نے بنایا تھا جسے امریکی حکام نے مسترد کردیا۔2000 میں امریکا اور چین میں تناؤ بڑھنے کے بعد منگ ہانگ تانگ سمیت درجنوں چینی ماہرین اپنے وطن واپس آگئے؛ اور تقریباً اسی زمانے میں چین نے بھی ہائپرسونک طیارے کے منصوبے پر کام کا آغاز کردیا۔
واضح رہے کہ ہر وہ چیز جو آواز سے پانچ گنا یا اس سے بھی زیادہ رفتار سے حرکت کرسکے، اسے تکنیکی زبان میں ’ہائپرسونک‘ کہا جاتا ہے۔
اس منصوبے پر اب تک کی پیش رفت یہ ہے کہ اس طیارے کے پروٹوٹائپ انجن کی آزمائشیں کامیابی سے مکمل کی جاچکی ہیں۔ البتہ یہ اپنی تکمیل سے بہت دور ہے۔
یہ ’ناسا‘ کے متروک ’ایکس 47 سی‘ (X-47C) منصوبے کی بنیاد پر بنایا گیا ہے جس کے تحت پروفیسر تانگ نے دو مرحلوں والا طیارہ ڈیزائن کیا تھا: پہلے مرحلے میں اس کے انجن، عام جیٹ انجنوں کی طرح کام کرتے ہوئے اسے مناسب بلندی پر پہنچاتے؛ پھر تیز رفتاری سے آگے بڑھنے کےلیے یہ ’ہائپرسونک موڈ‘ میں چلے جاتے اور طیارے کی رفتار آواز سے پانچ گنا زیادہ ہوجاتی۔
اس پر بوئنگ کارپوریشن میں ’مینٹا ایکس 47 سی‘ پروگرام کے عنوان سے ابتدائی کام ہوا تھا لیکن بعض تکنیکی اور مالیاتی وجوہ کی بناء پر ناسا نے یہ منصوبہ منسوخ کردیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button