
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے حکومت کو جاری امن مذاکرات کے سلسلے میں بعض اختیارات تفویض کیے ہیں، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے قطر کی ثالثی میں سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، مسعود پزشکیان نے بڑے شہروں کے گورنرز اور میئرز کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت موجودہ بحران کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کر رہی ہے۔ ان کے بقول، ’ہم بات چیت کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں رہبرِ انقلاب نے حکومت کو کچھ اختیارات بھی دیے ہیں۔‘ تاہم انھوں نے ان اختیارات کی نوعیت یا دائرۂ کار کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
ادھر خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی مذاکرات کاروں نے گذشتہ چند روز کے دوران قطری ثالثوں کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کی ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد امریکہ کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے اور خطے میں جاری جنگ کے لیے ممکنہ سیاسی حل تلاش کرنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک ابتدائی مسودۂ تجویز زیرِ غور ہے، جبکہ فریقین کے درمیان مزید ملاقات کا بھی امکان موجود ہے۔
ان سفارتی پیش رفتوں کی خبروں کے بعد عالمی تیل منڈی میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً چھے فیصد کمی کے بعد 106.65 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 6.1 فیصد گر کر 97.75 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مذاکرات میں ممکنہ پیش رفت کی امید نے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں کے خدشات کم کیے، جس کے نتیجے میں قیمتوں پر دباؤ آیا۔





