
یمن میں حوثیوں نے پیر کو دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے بحیرۂ احمر کے ایک اہم بندرگاہی علاقے اور صوبہ الحدیدہ میں واقع ایک تیل تنصیب پر فضائی حملے کیے گئے، جن میں سات افراد زخمی ہوئے۔
حوثیوں کی وزارتِ صحت کے ترجمان انیس الاصبحی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ سعودی قیادت والے اتحاد کے حملے میں راس عیسیٰ بندرگاہ پر چار شہری زخمی ہوئے، جبکہ باجل کے علاقے میں ایک تیل تنصیب پر حملے میں مزید تین افراد زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ "تیل کی تنصیبات اور اہم بندرگاہوں پر بار بار حملے بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور یمن میں جنگی جرائم کی فہرست میں اضافہ کرتے ہیں، جن میں شہریوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔”
حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ نے اس سے قبل خبر دی تھی کہ سعودی عرب نے راس عیسیٰ بندرگاہ پر ایک گھاٹ اور ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔
الحدیدہ حوثیوں کے زیرِ کنٹرول سب سے بڑی بندرگاہ ہے اور اس کے ذریعے خوراک اور انسانی امداد کا بڑا حصہ حوثیوں کے زیرِ انتظام علاقوں تک پہنچتا ہے۔
راس عیسیٰ بندرگاہ، جو الحدیدہ شہر کے شمال میں واقع ہے، تیل کی درآمد اور ذخیرہ کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔
حوثی ذرائع ابلاغ نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ اتوار کو الحدیدہ صوبے میں واقع یونیورسٹی آف الحدیدہ کے میڈیکل کالج پر بھی حملے کیے گئے۔
دوسری جانب سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد نے کہا ہے کہ اس نے حوثیوں کے زیرِ استعمال "اہم وسائل کو ناکارہ بنانے کے لیے ایک درست اور ہدفی کارروائی” انجام دی ہے







