ایمرجنسی ضرورت یا سیاسی حکمت عملی

ایمرجنسی ضرورت یا سیاسی حکمت عملی
تحریر : مشتاق الرحمان زاہد
کیا واقعی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانا ناگزیر تھی یہ وہ بنیادی سوال ہے جو اس وقت پاکستان کے ہر سیاسی، آئینی اور عوامی حلقے میں بڑی شدت کے ساتھ زیرِ بحث ہے اور جس نے ملک کا سیاسی حرارت انتہا تک پہنچا دیا ہے۔ اس وقت سیاسی منظر نامے پر دو مختلف اور متضاد بیانیے سامنے آ رہے ہیں، جس نے عوام اور سیاسی مبصرین کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے اسلام آباد اور گوجرانوالہ کی تقریروں میں اس معاملے پر حکومتی موقف کو تفصیل سے واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دفعہ بھی پی ٹی آئی کا لانگ مارچ میں خونریزی کا منصوبہ تھا۔ وزیراعظم کے بقول، اس متوقع خونریزی کو بچانے اور عام شہریوں و ملکی املاک کے تحفظ کے لیے ایمرجنسی لگانا حکومت کے لیے ایک مجبوری بن چکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو مجبورایہ انتہائی مشکل اور تلخ فیصلہ کرنا پڑا، ورنہ ملک اور خصوصاً خیبر پختونخوا میں بہت زیادہ خونریزی ہو جاتی جس کے بعد حالات کو سنبھالنا ناممکن ہو جاتا۔
ٔاسی تناظر میں مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے بھی لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حکومتی اقدام کی مکمل تائید کی اور کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی تو بہت پہلے لگائی جانی چاہیے تھی۔ انہوں نے ’’ دیر آید درست آید‘‘ کے مصداق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی اس اقدام کی شدید ضرورت تھی۔ انہوں نے گزشتہ سالوں کے سیاسی اور انتظامی حالات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 14سالوں میں پی ٹی آئی نے صوبہ خیبر پختونخوا کو تباہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے وہاں کے عوام ترقی کے دور سے پیچھے رہ گئے اور صوبہ معاشی و انتظامی طور پر زوال کا شکار ہوا۔
ٔایک طرف ایمرجنسی کے حوالے سے حکومتی موقف جس طرح روز بروز سامنے آ رہا ہے، اس سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اس اقدام کی بہت زیادہ ضرورت تھی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر ہم یہ نافذ نہ کرتے تو خیبر پختونخوا میں انتظامی و سیکیورٹی مسائل مزید خراب ہو جاتے اور اس کے اثرات سے پورے ملک کی صورتحال بھی انتہائی پیچیدہ ہو جاتی۔ دوسری طرف ایمرجنسی مخالف سیاسی جماعتوں نے بھی اپنے موقف بدستور برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اپوزیشن کا واضح موقف ہے کہ ایمرجنسی کسی صورت بھی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس سے سیاسی بحران ختم کیے جا سکتے ہیں۔
مخالف جماعتوں کا کہنا ہے کہ حکومت افہام و تفہیم اور بات چیت سے یہ تمام سیاسی معاملات حل کر سکتی تھی، لیکن حکومت کی ہٹ دھرمی اور جمہوری راستے اختیار نہ کرنے کی وجہ سے حالات کو اس خطرناک نہج تک پہنچایا گیا، جس کا نتیجہ بالآخر اس طرح کے انتہائی اقدامات کی صورت میں سامنے آیا۔
اس تمام تر سیاسی تنا کے ساتھ ساتھ، سینئر سیاستدان مولانا فضل الرحمان نے بھی دو دن قبل ملتان میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کے دوران اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں ایک نیا اور انتہائی حساس زاویہ پیش کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ دراصل صوبے کے معدنیات پر قبضہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے، جس کو وہ اور ان کی جماعت مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے مختلف حوالوں سے اسٹیبلشمنٹ کے کردار اور پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی۔
اگر دیکھا جائے تو مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اس قسم کی تنقید کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اگر ان کے 45سالہ سیاسی کردار اور تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ مخالف رہے ہیں۔ سیاسی سفر کے تمام تر اتار چڑھائو کے باوجود ان کے تنقیدی تیر ہمیشہ ان کے خلاف برستے رہے ہیں۔ کبھی جنرل پرویز مشرف کا دورِ حکومت ہو، کبھی ماضی کی ایم آر ڈی کی جمہوریت بحالی تحریک ہو، یا پھر سابقہ عمران خان کی حکومت کا دوریہ سلسلہ کافی عرصے سے یونہی بلا تعطل جاری و ساری ہے۔
موجودہ حالات کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو ایک طرف حکومت ایمرجنسی کے نفاذ کو امن و امان، خونریزی کے خاتمے اور ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری طرف اپوزیشن اور مولانا فضل الرحمان جیسے سیاستدان اسے سیاسی دبائو اور صوبائی وسائل و معدنیات پر اثر انداز ہونے کا حربہ قرار دے رہے ہیں۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتا ہوا یہ خلیج اور محاذ آرائی ملک کو کس سمت لے جائے گی، اور خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے یہ فیصلہ کتنا مفید یا نقصان دہ ثابت ہوگا، اس کا حتمی فیصلہ آنے والا وقت اور سیاسی حالات ہی کریں گے۔





