
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب پر مشتمل دفاعی معاہدہ خوش آئند ہے، دفاعی معاہدے کا مقصد فلسطین کا تحفظ ہونا چاہئے، کراچی میں غزہ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود امریکی پشت پناہی سے غزہ میں نسل کشی جاری ہے، مسجد اقصیٰ کی آزادی کے لیے جدوجہد کو مزیدتیز کیا جائے ۔ تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی کراچی کے تحت امریکی پشت پناہی میں جنگ بندی کے باوجود غزہ میں جاری اسرائیلی دہشت گردی و جارحیت، فلسطینیوں کی نسل کشی کے 3سال مکمل ہونے پر، اہل ِ غزہ و فلسطین سے بھر پور اظہار یکجہتی کے لیے شاہراہ قائدین پر عظیم الشان و تاریخی ”غزہ مارچ“ کا انعقاد کیا گیا۔مارچ میں بچے، بوڑھے، خواتین،مرد سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔مارچ سے قبل امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی زیر قیادت نورانی کباب تا اللہ والی چورنگی ریلی نکالی گئی۔امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے غزہ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اکتوبر کا پہلا ہفتہ اہل غزہ و فلسطین کے مظلوم و نہتے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جائے گا،جماعت اسلامی کے پیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس اور مہنگائی کے خلاف تحریک جاری ہے، 7اکتوبر کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا،پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب پر مشتمل دفاعی معاہدہ خوش آئند ہے، دفاعی معاہدے میں ایران، بنگلہ دیش سمیت دیگرمسلم ممالک کو بھی شامل کیا جائے، اگر یہ دفاعی معاہدہ خطے کے دفاع کے لیے ہے تو اس کا پہلا مقصد فلسطین کا تحفظ اور اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ جنگ بندی کے باوجود غزہ کے وسیع علاقوں میں اسرائیلی بمباری جاری ہے





