
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اعلان کردہ 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے سلسلے میں کارکنوں کو متحرک کرنے کی غرض سے گذشتہ تین روز سے صوبہ پنجاب میں موجود وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا بدھ کی شام وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔
اُن کی اسلام آباد آمد کے موقع پر جڑواں شہروں کی پولیس کی جانب سے کیے گئے سکیورٹی اقدامات کے باعث سڑکوں پر رات گئے تک شدید ٹریفک جام رہا جبکہ سینکڑوں شہری ٹریفک میں پھنسے رہے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق لاہور سے براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد ہائی وے پر پہنچنے والا سہیل آفریدی کا قافلہ ابتدائی طور پر نجی رہائشی سکیم گلبرگ کے قریب واقع پُل پر رُکا۔
یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ راولپنڈی میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکن کے فاتحہ کے لیے جانا چاہتے تھے مگر پولیس کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور انھیں پنڈی کی طرف نہیں جانے دیا گیا۔
اسلام آباد ایکسپریس وے پر اُن کی موجودگی کے باعث پنڈی، اسلام آباد کی اس مرکزی شاہراہ پر گاڑیوں کی طویل قطاریں نظر آئیں جبکہ ذیلی سڑکوں پر بھی ٹریفک جام کی صورتحال رہی۔
ایکپسریس وے پر گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور پولیس کو ناصرف پنجاب بلکہ اسلام آباد میں بھی دھکے دیے جا رہے ہیں۔ ’یہ پاکستان کو تقسیم کرنے کی سازش میں لگے ہوئے ہیں، جو رویہ ہمارے ساتھ روا رکھا گیا وہ انتہائی افسوسناک ہے۔‘







