Column

پاکستان اور سعودی عرب کا زرعی وغذائی برآمدات بڑھانے پر اتفاق

پاکستان اور سعودی عرب کا زرعی وغذائی برآمدات بڑھانے پر اتفاق
تحریر: علی احمد
اسلامی جمہوریہ پاکستان اور مملکت سعودی عرب کے درمیان تعلقات انتہائی گہرے، تاریخی اور برادرانہ ہیں جن کی طویل تاریخ ہے۔ 1947ء میں پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے فوراً بعد سعودی عرب نے نہ صرف پاکستان کو تسلیم کیا بلکہ محبتوں کایہ رشتہ سات دہائیوں میں ایک شجر سایہ دار، پھولدار؍ پھلدار تناور درخت بن چکاہے۔ ارض مقدس حرمین شریفین کی وجہ سے بھی پاکستانی قوم کے دِلوں میں سعودی عرب کے لیے خاص عقیدت اور احترام پایا جاتا ہے۔ گزشتہ برس ہی دونوں برادر اسلامی ملک’’ پاک، سعودی عرب دفاعی معاہدہ‘‘ کے بعد ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں اور رواں سال اِس معاہدہ میں پاکستان کا عظیم دوست اور برادر اسلامی ملک تُرکیہ بھی شامل ہو چکاہے۔ اگر پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات کا ذکر کیا جائے تو1967ء میں دونوں برادر اسلامی ممالک میں فوجی تعاون کا معاہدہ ہوا جس کے تحت پاکستان کی چٹان صفت مسلح افواج نے سعودی عرب کی بری، بحری اور فضائی افواج کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان فوجی مشقیں اور عسکری ماہرین کا تبادلہ معمول کا حصہ ہے۔ اِسی طرح سیاسی اور سفارتی طور پر بھی دونوں ممالک کا تعاون مثالی ہے او آئی سی (OIC)اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کے موقف کی بھرپور حمایت کرتے ہیں بالخصوص مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے دونوں ممالک یکساں موقف رکھتے ہیں۔ اِسی طرح پاکستانیوں کی بڑی تعداد آج بھی سعودی عرب میں مقیم ہیں جو نہ صرف سعودی معیشت کی ترقی میں اپنا بھرپور حصہ ڈال رہے ہیں بلکہ پاکستان کے لیے قیمتی ترسیلاتِ زر ( زرمبادلہ) کا بھی بڑا ذریعہ ہیں۔ دونوں ممالک میں اقتصادی اور تجارتی تعلقات بھی مزید مضبوط اور ایک نئے دور میں داخل ہوچکے ہیں خصوصاً گزشتہ دو سال میں دوطرفہ تجارتی اور معیشت کے حوالے سے مزید معاہدے ہورہے ہیں۔ گزشتہ روز ہی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان زرعی اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے انتہائی اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ اِس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف کی ذاتی دلچسپی اور سرپرستی میں سعودی وزیرِ ماحولیات، پانی و زراعت انجینئر عبدالرحمان اے الفضلی نے خصوصی طور پر دورہ پاکستان کیا۔ وفد میں سعودی وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت، جنرل فوڈ سیکیورٹی اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام بھی شامل تھے۔ دوطرفہ معاہدہ کے موقع پر پاکستان کی جانب سے وفد کی قیادت وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کی۔ وفد میں سیکریٹری تجارت جواد پال، سیکریٹری قومی غذائی تحفظ و تحقیق عامر علی احمد، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت و غذائی تحفظ احمد عمیر اور پاکستان کے چاول، سرخ گوشت، پراسیسڈ فوڈ، فروٹ کنسنٹریٹ اور سبز چارے کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے نجی شعبے کے نمائندگان بھی شامل تھے ۔ اِس موقع پر دونوں ممالک نے مشترکہ عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی زرعی اور غذائی مصنوعات کی سعودی عرب کو برآمدات کو 3ارب امریکی ڈالر تک پہنچایا جائے گا جس کے لیے آئندہ 2سال کے دوران اس ہدف کے حصول کی کوشش کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے سعودی نجی شعبے کے ساتھ مل کر چاول، سرخ گوشت، پھل اور ان کے کنسنٹریٹس، سبز چارہ اور پانی کے موثر استعمال پر مبنی زرعی ٹیکنالوجیز کو ترجیحی شعبے قرار دیا گیا۔ چاول کے شعبے میں دونوں جانب سے نوٹ کیا گیا کہ پاکستان نے 2025ء میں سعودی عرب کی چاول کی درآمدی منڈی کو قریباً 169 ہزار ٹن چاول فراہم کیے، جن کی مالیت قریباً 163ملین امریکی ڈالر تھی۔ سعودی وفد نے آئندہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان چاول کی دوطرفہ تجارت مزید بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ سرخ گوشت کے شعبے میں دونوں فریقین نے پاکستان کی جانب سے سالانہ قریباً 30ہزار ٹن سرخ گوشت کی فراہمی کا جائزہ لیا گیا، جس کی مالیت قریباً 167 ملین امریکی ڈالر ہے۔ سعودی وفد نے پاکستان سے سرخ گوشت کی درآمد کو بتدریج دوگنا کرنے میں دلچسپی کا بھی اظہار کیا۔ پھلوں اور ان کے کنسنٹریٹس کے حوالے سے دونوں ممالک نے سعودی عرب میں پاکستان کے برآمدی حصے کو مزید بڑھانے کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا جبکہ دونوں فریقین نے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط اور میچ میکنگ کو آسان بنانے اور معیار کی سرٹیفکیشن کی باہمی منظوری کے لیے اقدامات کی حوصلہ افزائی کی۔ سعودی فریق نے سبز چارے کو تجارت میں وسعت اور طویل المدتی سپلائی پارٹنر شپ کے قیام کے لیے ایک امید افزا شعبہ قرار دیا۔ دونوں ممالک نے بھکر، پنجاب میں پانی کے موثر استعمال پر مبنی آبپاشی پروگرام کے پہلے مرحلے کی کامیاب تکمیل کا خیرمقدم کیا اور چھوٹے کاشتکاروں کے لیے مجوزہ دوسرے مرحلے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ سعودی وفد نے پاکستان کو انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل میں شمولیت اختیار کرنے کی ترغیب بھی دی، جس کا پاکستان کی جانب سے خیرمقدم کیا گیا۔ دونوں فریقین نے لائیو اسٹاک، ایگری فوڈ پراسیسنگ اور چاول کی ویلیو چین کے شعبوں میں پاکستان کے نجی شعبے کی جانب سے پیش کردہ سرمایہ کاری تجاویز کا بھی جائزہ لیا اور ان مواقع پر باہمی تعاون کے لیے رابطہ کاری جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں ممالک نے سعودی عرب کے ویژن 2030کے تحت غذائی تحفظ کی ترجیحات اور پاکستان کے زرعی و غذائی برآمدی شعبے کے درمیان موجود باہمی ہم آہنگی کو بھی اجاگر کیا۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک میں جہاں دیگر شعبوں میں تعاون مزید مضبوط ہو رہاہے، وہیں زرعی و غذائی برآمدات بڑھانا وقت کی اہم ضرورت بھی تھی اور اِس تعاون سے نہ صرف دوطرفہ تجارت مزید پروان چڑھے گی، بلکہ پاکستان کی زراعت میں بھی مزید کامیابیاں ملیں گی۔

جواب دیں

Back to top button