
کوئٹہ کے علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں پھنسے 34 کانکنوں میں سے 32 کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ مزید 2 کانکنوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ڈی جی مائنز بلوچستان عبداللّٰہ شاہوانی کے مطابق جاں بحق کانکنوں کی میتیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات میں کان میں 42 کانکنوں کے پھنسنے کی خبر سامنے آئی تھی تاہم بعد ازاں تصدیق ہوئی کہ کان میں مجموعی طور پر 34 کانکن پھنسے تھے۔
اس سے قبل کان کے مالک کا کہنا تھا کہ دھماکے کے وقت 42 مزدور موجود تھے، دھماکا میتھین گیس کے باعث ہوا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے حادثے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی







