ColumnImtiaz Aasi

سوشل میڈیا، انصاف اور سزائیں

سوشل میڈیا، انصاف اور سزائیں
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
جن معاشروں میں انصاف ناپید ہو ایسے معاشرے صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں۔ قرون اولیٰ کے دور میں یہی کچھ ہوتا تھا بڑا کوئی جرم کرتا تو چھوڑ دیاجاتا اور چھوٹے سے جرم سرزد ہوتا تو سزا دے دی جاتی۔ ہمیں یاد ہے ایک زمانے میں اخبار میں کوئی خبر چھپ جاتی تو جیسے جنگل میں آگ لگ گئی لیکن اب اخبارات کی جگہ سوشل میڈیا نے لے لی ہے۔ جو خبر اگلے روز لوگوں کو پڑھنے کے لئے دستیاب ہوتی تھی وہ چند منٹ میں موبائل پر دیکھی جاسکتی ہے۔ سوشل میڈیا کا جہاں ایک بڑا فائدہ ہے لوگوں کو کسی واقعہ کی جلد اطلاع ہوجاتی ہے وہاں ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے سوشل میڈیا پر بہت سی جھوٹی خبریں دیکھنے کو ملتی ہیں، جس سے سوشل میڈیا سے لوگوں کا اعتبار اٹھاتا جا رہا ہے۔ اب سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں سے نجات کا واحد راستہ ہے ایسی خبریں چلانے والوں کو حق تعالیٰ کا خوف ذہن میں رکھنا چاہیے۔ چلیں دنیا میں نہ سہی آخرت میں تو جواب دنیا پڑے گا۔ جہاں تک حصول انصاف کی بات ہے انگریز دور کے قانون کا ایسا غلبہ ہے ملک کے وجود میں آئے کئی عشرے ہو چکے ہیں جلد انصاف کے حصول کے لئے کوئی کوشش نہیں ہوسکی وہی پرانے دور کا طریقہ کار چلا آرہا ہے کوئی مقدمہ درج ہوتا ہے تو اس کے فیصلوں کو کئی برس لگ جاتے ہیں۔ ایک مشہور محاورہ ہے انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار تصور کیا جاتا ہے۔ عام طور پر ہم سعودی عرب کی مثال لیتے ہیں جہاں چند روز میں جرم کرنے والوں کو سزائوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہی وجہ ہے سعودی عرب میں جرائم کی شرح بہت ہی کم ہے۔ درحقیقت جب معاشرے میں سزائوں کا تصور ختم ہو جائے تو جرائم کو روکنا کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی تاوقتیکہ جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو جلد سے جلد انصاف کے کٹہرے میں نہ لایا جائے۔ ریاست پاکستان میں رہنے والوں کو اس وقت سب سے بڑا مسئلہ انصاف کا حصول ہے۔ مقدمات فوجداری ہوں یا سول ماتحت عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہوتی ہے کیس لگ بھی جائے تو وکلاء حضرات التوا ء لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ماتحت عدلیہ کی کارکردگی دیکھنے کے لئے انسپکشن جج ہونے کے باوجود ماتحت عدلیہ کی کارکردگی حوصلہ افزاء نہیں ہے۔ ہمیں یاد ہے کئی برس پہلے سپریم کورٹ میں موت کی سزائیں پانے والے مجرموں کی اپیلوں کی بھرمار تھی لیکن اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید خان کھوسہ نے اپنی ریٹائرمنٹ سے چند ماہ قبل سزائے موت کی اپیلوں کو نمٹانے کا عہد کر لیا۔ آپ یقین جانئے چیف جسٹس نے چند ماہ میں اپیلوں کے فیصلے کرکے عدلیہ کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ کھوسہ صاحب نے بس ایک ہی بات کی وکلاء کو التواء لینے سے سختی سے منع کر دیا زیادہ سے زیادہ کوئی ایک مرتبہ التواء لے سکتا تھا ورنہ وکلا کو ہر صورت دلائل دینے کے لءے پیش ہونا پڑتا تھا جس کے نتیجے میں صرف چند ماہ میں سینکڑوں مقدمات کے فیصلے کر دیئے گئے۔ بدقسمتی سے ریاست پاکستان میں سزائوں کا تصور ختم ہو چکا ہے آپ دیکھ لیں کم از کم ستر دہشت گرد ایسے ہیں جن کی موت کی سزائوں کے خلاف اپیلوں کو صدر مملکت مسترد کر چکے ہیں مگر حکومت پاکستان کی اپنی مصلحتیں ہیں ان کی سزا پر عمل درآمد رکا ہوا ہے۔ جی وہ یورپی یونین کا بڑا دبائو ہے اس لئے دہشت گردوں کی سزائوں پر عمل درآمد رکا ہوا ہے۔ ریاست پاکستان یورپی یونین سے یہ کہنے سے گریزاں ہے ان دہشت گردوں کے ہاتھ انسانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ یہ بات درست ہے یورپی یونین تجارتی مقاصد میں پاکستان کو ٹیکس سے چھوٹ دیتی ہے لیکن یورپی یونین سعودی عرب کو موت کی سزا دینے سے نہیں روکتی؟۔ بدقسمتی سے ملک جب سے وجود میں آیا ہے ہمیں مانگے بغیر کوئی چارہ نہیں جب ہم کسی سے مانگ کر کھائیں گے ہمیں ان کی شرائط بھی تسلیم کرنا ہوں گی۔ ملک کے وجود میں آنے کے بعد اب تک احتساب کو کوئی تصور نہیں۔ ہر دور میں احتساب کے ادارے بنائے گئے مگر بڑے بڑے لوگ احتساب سے نکل گئے۔ جن معاشروں میں کرپشن کو جرم نہیں سمجھا جاتا ایسے معاشرے زوال پذیر رہتے ہیں۔ ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے غریب عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے حکومت اپنے غیر ضروری اخراجات کم کرنے کو تیار نہیں۔ ٹیکسوں پر سارا بوجھ غریب عوام پر ہے بڑے بڑے لوگ ٹیکسوں سے بری الذمہ ہیں۔ حکومت اپنے مفادات کے حصول کے لئے آئے روز قانون سازی کرتی ہے مگر کرپشن کے خاتمے کے لئے کوئی موثر اقدامات نہیں ہو سکے ہیں نہ ہی جلد انصاف کے لئے کوئی لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ ایک حکومت مقدمہ قائم کرتی ہے نئی آنے والی حکومت انہی کیسوں کو بوگس قرار دے کر ختم کر دیتی ہے۔ کرپشن کے خلاف کتنے محکمے کام کر رہے ہیں ایف آئی اے صوبائی سطح پر اینٹی کرپشن کے محکمے مقدمات درج ہو بھی جائیں تو سزائیں نہیں ہوتیں کیونکہ مقدمات کی تفتیش میں بہت سی قانونی نکات چھوڑ دینے سے ملزم بری ہو جاتے ہیں۔ اگلے روز ایک خبر نظر سے گزری ضلعی عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کرنے کی تجویز ہے جس سے عدلیہ کی رہی سہی ساکھ ختم ہو جائے گی۔ حکومت کو چاہیے ماتحت عدلیہ میں مقدمات کی تیزی سے سماعت کے لئے وکلاء کو التواء ختم کرنے کی طرف لایا جائے اور جج صاحبان کو بھی مقدمات کو طوالت دینے کی بجائے کم سے کم وقت میں فیصلے کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ حیرت ہے حکومت اپنے مفادات کی خاطر آئے روز قانون سازی کرتی رہتی ہے مگر حصول انصاف میں تاخیر کے خاتمے کے لئے کوئی ٹھوس حکمت عملی اپنانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی ہے۔ مملکت میں جرم کرنے والوں کو کم سے کم وقت میں سزائوں کا ماحول بن جائے تو جرائم میں کمی کے ساتھ عدالتوں پر کام کا بوجھ بھی کم ہو سکتا ہے۔ ملک میں جب تک جلد انصاف کی فراہمی کے لئے ماحول پیدا نہیں ہوتا جرائم میں کمی خواب رہے گا۔ ریاست پاکستان شائد دنیا کی واحد مملکت ہے جہاں جلد انصاف ناپید ہونے کی وجہ سے جرائم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

جواب دیں

Back to top button