ذاتی فیصلوں کے اثرات

ذاتی فیصلوں کے اثرات
تجمّل حسین ہاشمی
میں محسوس کر رہا ہوں کہ ہم بحیثیت قوم معاشی، اخلاقی طور پر ٹوٹ چکے ہیں، تھوڑی بہت کسر رہ گئی ہے مزید ٹوٹ جائیں گے۔ جو ممالک معاشی طور پر ناکام ہوئے ہیں تاریخ سے ثابت ہے کہ ان معاشروں میں سب سے پہلے بد اخلاقی، فحاشی، بد تہذیبی اور لاقانونیت نے پڑائو ڈالا۔ وہ اخلاقی طور پر تباہ ہوئے۔ وہاں کام چوری، حقوق کی پامالی اور سڑکوں پر فیصلے کئے گئے۔ اس کے بعد تو معاشرہ جنگل بنا۔ ان معاشروں میں طاقت والا کا ’’ ستی وی سو ‘‘ سمجھا گیا ۔ برطانیہ جیسے ممالک بھی ان جرائم کا گڑھ تھے۔ کسی باہر والے نے ان کو سیدھا نہیں کیا بلکہ وفا دار محب وطن لیڈروں نے قوم کو کھڑا کیا۔ آج دنیا کے لیے مثالی ہیں۔ آج ہمارا معاشرہ بھی اسی لاقانونیت کا شکار ہے، جہاں انسان ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے ہیں۔ فیصلے سڑکوں پر ہو رہے ہیں، ماورائے عدالت فیصلے نظر آ رہے ہیں۔ ہر کوئی اپنے حق میں فیصلہ چاہتا ہے۔ انا، تکبر نے اخلاقیات کو ختم کر دیا ہے۔ ہمارے ہاں صرف طاقتور خاندانوں کا گزارا اچھا چل رہا ہے، جو سیاست میں ہیں یا جنہوں نے فائلوں کے لیے گاڑی کے پہیوں کا استعمال کیا۔ ایک پہیے والا ملک سے باہر ہے۔ موجودہ حالات میں فائلوں کے پہیے والے بھی انجانے خوف میں مبتلا ہیں۔ رہی سہی کسر وزیر اعلیٰ پنجاب کے ٹویٹ نے پوری کر دی۔ ویسے عام فہم بندے کی سوچ ہی تبدیل ہو گئی ہے، وہ بھی فیس بک پر اپنے حقوق مانگ رہا ہے ۔ یہ اداروں کے لیے شرم کی بات ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ طاقتور کو بھی انجانا خوف ہے حالانکہ اس کی کوٹھی میں دانے پورے ہیں۔ میں تو کہتا ہوں کہ سب سے زیادہ خوف زدہ اس وقت وہی خاندان ہیں جن کی کوٹھی میں دانے ہیں لیکن انہوں نے اپنی کاروباری سرگرمیوں کو روک دیا ہے، یا پھر کم کر دیا ہے۔ حالات کے پیش نظر غریب تو پس رہا ہے اور مزید پستا رہے گا۔ پنجاب میں حالیہ واقعات پر وزیر اعلیٰ نے معاشرے میں ایک نئی سوچ کو جنم دیا ہے، اس سوچ کے کیا نتائج ہوں گے، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ چاروں اسمبلوں میں بیٹھے لوگ حق گوئی اور آئینی تقاضوں سے کیوں دور بھاگ رہے ہیں۔ خاموش کیوں ہیں۔ بڑے بہادر ہیں تو جمہوریت اور عدل و انصاف کے لیے کھڑے ہوں۔ آئین اور جمہوریت کا پرچار کرنے والے حکمران اپنی مرضی سے ملک کیوں چلانا رہے ہیں۔ معاشی ترقی کے لیے خوف نہیں امن ، اعتماد کی ضرورت ہے۔ عدل و انصاف کی ضرورت ہے، ہمارے نظام میں اس کی شدید کمی ہے۔ وزیر دفاع خود اعترافی بیان دے چکے ہیں کہ قومی ادارے کھنڈر بن چکے ہیں۔ اس سے بڑا کوئی اعترافی بیان نہیں ہو سکتا۔ جمہوری لیڈروں نے عسکری اداروں کے مخالف بیانیہ بنایا جو قومی خزانہ کو اربوں روپے ٹیکس جمع کراتے ہیں۔ وزیر دفاع نے اپنی تقریر میں کہنا تھا کہ فوجی فائونڈیشن نے گزشتہ سال 323ارب روپے کا ٹیکس قومی خزانہ میں جمع کرایا۔ رپورٹس کے مطابق یہ ٹیکس 325ارب روپے ہے جو قومی خزانہ میں جمع ہوا لیکن اگر آپ سیاسی جماعتوں کے سیاسی بیانیوں کو دیکھیں تو اس میں ما سوائے تنقید کے کچھ نہیں ہے۔ عسکری ادارے کے زیر نگرانی ادارے میں ہزاروں افراد کام کرتے ہیں، ان کا 84 فیصد سول لوگ ہیں ۔ یہ حقیقت ہے اور اسے تسلیم کرنا چاہئے۔ وزیر دفاع نے سول حکومت کے ماتحت اداروں کو کھنڈر قرار دیا۔ وزیر دفاع کبھی کبھار کھول کر بات کرتے ہیں، لیکن خاص جگہ پر خاموش ہی رہتے ہیں ۔ ایسے سیاست دانوں کو ملکی سلامتی اور معاشی فیصلوں میں کھول کر بولنا چاہئے۔ ان حضرات کو آگے آنا چاہئے اور مثال بنانا چاہئے۔ ملکی ترقی میں اداروں کے کردار کے ساتھ فرد واحد کا کردار بھی اہمیت کا حامل ہے۔ عادت بن چکی ہے ہمیں محنت نہیں گھر بیٹھے روزگار ملنا چاہئے۔ ہزاروں گھوسٹ ملازمین اداروں پر بوجھ ہیں۔ جہاں قومی ادارے کھنڈر بن چکے ہیں وہاں معاشرہ بھی کھنڈر بن چکا ہے۔ اب ہمیں غلط کام درست نظر آتا ہے۔ آج کوئی فرد دوسرے سے محفوظ نہیں ہے۔ افراتفری کی بنیاد سیاست دانوں نے رکھی ہے۔ کرپشن اور غیر شفاف انتخابات کی وجہ بھی ہے۔ دہشتگردی کی جنگ دوسروں کی جنگ ہے لیکن ہم نے لڑی اور یہ جنگ ہماری بن چکی ہے، جب تک آئین پر عمل نہیں کیا جائے گا اس وقت تک کچھ بھی سیدھا نہیں ہو سکتا۔ ایک وزیر اعلیٰ جب آئیں سے ہٹ کر اپنی منشا پر فیصلہ کرے تو پھر کیسے ترقی ممکن ہو گی، اللّہ پاک خیر کرے۔ اللّہ کا شکر ہے کہ وہ ظلم کو مٹا دیتا ہے۔ آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ حکمران طبقہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے اور عوام کو صرف ووٹ بینک سمجھ کر استعمال کرتا ہے۔ جب اسمبلیاں خاموش رہیں، عدلیہ پر دبائو ڈالا جائے اور ریاستی ادارے ذاتی مفادات کے آلہ کار بن جائیں تو معاشرہ بربادی کی طرف بڑھتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر کئی قومیں تاریخ کے صفحے سے مٹ گئیں۔ اب بھی موقع ہے کہ آئین کی بالادستی، شفاف احتساب اور حقیقی جمہوری اقدار کو اپنا کر اس زوال کو روکیں، ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔





