سرحد بند، مسئلہ کھلا

سرحد بند، مسئلہ کھلا
پیامبر
قادر خان یوسف زئی
گبد رمدان کی سرحدی گزرگاہ پر سیکڑوں بھاری مال بردار گاڑیوں کو قطار میں کھڑے دیکھا گیا۔ ڈرائیور ٹرکوں کے سائے میں بیٹھے تھے اور اجازت کے منتظر تھے کہ سرحد کھلے تو وہ ایران کی طرف روانہ ہوں۔ یہی گزرگاہ اگست میں دو ملکوں کی تجارتی امنگوں کی علامت سمجھی جا رہی تھی۔ آج وہاں انتظار کے سوا کچھ نہیں۔ ٹرکوں کی یہ قطار صرف تجارت کی خبر نہیں، اس خطے کی کہانی ہے جس کی سرحد پر جنگ، دہشت گردی اور معیشت ایک دوسرے سے الجھ چکی ہیں۔ میرا موقف سادہ ہے۔ ایران کی جنگ نے بلوچستان کے مسئلے کو پیدا نہیں کیا، مگر اس کی نزاکت ضرور بڑھا دی ہے۔ جب ایک ہمسایہ ملک جنگ میں ہو اور دوسرا ہمسایہ اس جنگ میں ثالثی بھی کر رہا ہو، تو سرحدی صوبے کی سکیورٹی داخلی مسئلہ نہیں رہتی۔ وہ خارجہ پالیسی، معیشت اور توانائی کے سوالات سے جڑ جاتی ہے۔ ہماری پالیسی کا امتحان یہ ہے کہ ہم ان سوالات کو الگ الگ خانوں میں رکھ کر دیکھتے ہیں یا ایک ساتھ۔
اسلام آباد کے تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق جولائی اس سال کا سب سے مہلک مہینہ ثابت ہوا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں دہشت گرد حملوں اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں 606افراد جان سے گئے۔ ان میں 112سکیورٹی اہلکار شامل تھے، جبکہ401عسکریت پسند مارے گئے، جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں ایک مہینے کی بلند ترین تعداد ہے۔ اسی مہینے آٹھ خودکش حملے ہوئے، جن میں پانچ گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے، اور یہ بھی دس سال میں ماہانہ بلند ترین تعداد تھی۔ سب سے زیادہ بگاڑ بلوچستان میں آیا، جہاں اموات جون کے190بڑھ کر جولائی میں 372تک پہنچ گئیں۔ اغوا کے واقعات بھی 33سے بڑھ کر 66ہو گئے۔
اگست میں اموات کم ہو کر369رہ گئیں، یعنی39فیصد کمی آئی، اور بلوچستان میں ہلاکتیں 194رہ گئیں۔ مگر حملوں کی تعداد کم نہیں ہوئی۔ پکس کے مطابق ملک بھر میں حملے جولائی کے144سے بڑھ کر اگست میں 199ہو گئے، اور بلوچستان میں 83سے بڑھ کر89۔ ستمبر میں بلوچستان میں مسلح حملوں کی تعداد131 ریکارڈ ہوئی۔ یہ اگست کے مقابلے میں تقریباً سینتالیس فیصد اضافہ ہے۔ یہاں ایک باریکی ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ہلاکتوں کا گھٹنا اور حملوں کا بڑھنا ایک ہی وقت میں ممکن ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلح گروہوں کی پہنچ اور ارادہ برقرار ہے، چاہے ہر حملہ پہلے جتنا مہلک نہ ہو۔
اب سرحد کی طرف آئیے۔ اٹھائیس فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے جنگ شروع ہوئی۔ تب سے پاکستان واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہا ہے، اور اسی ہفتے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہران جانا بھی اسی کوشش کا حصہ بتایا گیا۔ ساتھ ہی ایران کی سرحدی پٹی، سیستان و بلوچستان، میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کی خبریں آتی رہی ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ضلع چاغی، جہاں تفتان واقع ہے، خود بھی تشدد کی زد میں ہے۔ ایسے میں سترہ اکتوبر کو وزارتِ تجارت نے تین اکتوبر کا وہ حکم واپس لے لیا جس کے تحت دونوں گزرگاہوں سے تجارت کی اجازت تھی، اور تفتان اور گبد رمدان پر تجارت معطل ہو گئی۔ بلوچستان حکومت کے مشیر شاہد رند نے اسے سکیورٹی خدشات اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے عارضی اقدام قرار دیا۔
اگست میں پاکستان اور ایران کی مشترکہ تجارتی کمیٹی کے دسویں اجلاس میں دو طرفہ تجارت دس ارب ڈالر تک لے جانے اور گزرگاہوں کو چوبیس گھنٹے کھلا رکھنے پر اتفاق ہوا تھا۔ دو ماہ بعد انھی گزرگاہوں پر قفل ہے۔ ظاہر ہے سکیورٹی اور تجارت میں سے کسی ایک کو چننا آسان فیصلہ نہیں، مگر جو ریاست دس ارب ڈالر کے وعدے کرتی ہے، اسے یہ بھی بتانا چاہیے کہ سرحدی انتظام کے لیے اس کے پاس کیا منصوبہ ہے۔ اس کا بوجھ عام لوگوں پر پڑ رہا ہے۔ تجارتی حلقوں نے خبردار کیا تھا کہ بندش سے کراچی اور دیگر شہروں میں ایل پی جی کی قلت بڑھ سکتی ہے، اور سرحدی آبادیاں، جن کی روزی اسی آمد و رفت سے جڑی ہے، پہلے ہی پریشان ہیں۔
پہلی بات یہ کہ ایران کی جنگ کو بلوچستان کے تشدد کی واحد وجہ قرار دینا درست نہیں۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تشدد میں اضافہ اس وقت سے ہے جب سے افغان طالبان 2021ء میں اقتدار میں آئے۔ پکس کے مطابق سال کے پہلے سات مہینوں میں دہشت گردی اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں 2786 اموات ہو چکی تھیں۔ یہ مسئلہ جنگ سے پہلے کا ہے، اور جنگ زیادہ سے زیادہ اس کی رفتار تیز کر سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا بھی یہی ہے کہ مسلح گروہ صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں، یہ نہیں کہ لازماً اٹھا رہے ہیں۔ جو چیز ثابت نہیں، اسے ثابت شدہ کہنا بھی ایک طرح کی لاپروائی ہے۔
دوسری بات یہ کہ ریاست کی کارروائیاں رکی نہیں۔ فوج کے مطابق ستمبر میں آپریشن شعبان اور نوشکی میں ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی سمیت مختلف آپریشنوں میں تینتیس عسکریت پسند مارے گئے۔ پنجاب، اسلام آباد، کشمیر اور گلگت بلتستان جولائی میں تشدد سے قریباً محفوظ رہے، اور اگست میں پنجاب میں صرف دو حملے ہوئے۔ یعنی ریاست کی گرفت کئی جگہ مضبوط ہے۔ اور سرحد پر نگرانی سخت کرنے کا مطالبہ بھی بے وزن نہیں۔ مگر یہاں ایک بنیادی فرق ہے جو اس بحث کو دلچسپ بناتا ہے۔ سرحد بند کرنا ایک عارضی انتظامی قدم ہے، جبکہ تشدد کی جڑیں سیاسی، معاشی اور سماجی ہیں۔ بندش سے ٹرک رک جاتے ہیں، مگر وہ نوجوان نہیں رکتے جو مسلح گروہوں کی طرف جاتے ہیں۔ اسمگلنگ پر قابو پانا ضروری ہے، لیکن جب جائز روزگار بند ہو تو ناجائز راستے مزید پرکشش ہو جاتے ہیں۔ یہ نکتہ کسی ایک جماعت یا ادارے پر تنقید نہیں، ہر پالیسی ساز کے لیے سوال ہے۔
تو حل کیا ہو سکتا ہے؟ میرے خیال میں تین باتیں سامنے رکھنی چاہئیں۔ ایک، سرحدی بندش کی مدت اور شرائط واضح ہوں، تاکہ تاجر اور مقامی آبادی اندازہ لگا سکیں کہ انھیں کتنا انتظار کرنا ہے۔ دو، سکیورٹی اقدامات اور مقامی روزگار کو ایک ہی منصوبے کے دو حصے سمجھا جائے، کیونکہ سرحدی تجارت پر پلنے والے لوگ حکومت کے مخالف نہیں، اس کے سب سے بڑے شراکت دار ہیں۔ تین، حملوں کے اعداد و شمار پر کھلی بحث ہو اور آزاد اداروں کی رپورٹس کو سنجیدگی سے لیا جائے، چاہے وہ سرکاری بیانیے سے ہم آہنگ ہوں یا نہیں۔
آخر میں پھر اسی قطار کی طرف لوٹتے ہیں۔ گبد رمدان پر کھڑے ٹرک ڈرائیور کو اس سے غرض نہیں کہ ایران کی جنگ کون جیتے گا یا کون سی پالیسی کس وزارت نے بنائی۔ اسے صرف اتنا معلوم کرنا ہے کہ اس کا سامان کب پہنچے گا۔ ریاست کو اس سوال کا جواب دینا ہے، اور جواب صرف بندش یا کشادگی میں نہیں ملتا۔ سرحد بند کرنے سے تجارت رک جاتی ہے، تشدد نہیں۔ جب تک مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کا راستہ نہیں کھلے گا، قطار لمبی ہوتی جائے گی۔





