ڈیجیٹل انقلاب، نوجوانوں کے نام

اداریہ۔۔۔۔
ڈیجیٹل انقلاب، نوجوانوں کے نام
پاکستان میں پانچ لاکھ ہونہار طلبہ کو کروم بکس کی فراہمی کا آغاز بلاشبہ ایک خوش آئند قدم ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سرکاری اسکولوں اور مدارس کے طلبہ و طالبات کو جدید ڈیجیٹل سہولتیں فراہم کرنے کا اعلان اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ آج کی دنیا میں تعلیم محض کتابوں، کلاس رومز اور امتحانات تک محدود نہیں رہی، بلکہ ٹیکنالوجی علم کے حصول، تحقیق، ہنرمندی اور روزگار کے نئے امکانات پیدا کرنے کا بنیادی ذریعہ بن چکی ہے۔ تاہم اس اقدام کی اصل کامیابی صرف پانچ لاکھ کروم بکس تقسیم کرنے میں نہیں، بلکہ ان آلات کو لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل میں حقیقی تبدیلی کا وسیلہ بنانے میں پوشیدہ ہے۔ اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں اس منصوبے کے اجرا کے موقع پر وزیراعظم نے واضح کیا کہ قابلیت کو غربت یا امارت میں قید نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایک ایسا اصول ہے جسے پاکستان کے تعلیمی نظام کی بنیاد بننا چاہیے۔ ہمارے معاشرے میں بے شمار ذہین بچے ایسے گھرانوں میں پرورش پاتے ہیں جہاں والدین کی آمدن محدود، تعلیمی وسائل ناکافی اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی قریباً ناممکن ہوتی ہے۔ ان بچوں میں صلاحیت اور آگے بڑھنے کا جذبہ تو موجود ہوتا ہے، لیکن وسائل کی کمی ان کے خوابوں اور عملی کامیابی کے درمیان دیوار بن جاتی ہے۔ اگر حکومت واقعی اس دیوار کو گرانے میں کامیاب ہوجائے تو ملک کی ترقی کے لیے ایک نئی راہ کھل سکتی ہے۔ وزیراعظم کے مطابق دو سال کے عرصے میں پانچ لاکھ ہونہار طلبہ کو کروم بکس فراہم کی جائیں گی۔ اس منصوبے کے تحت آلات کے ساتھ بیگ اور انٹرنیٹ کی سہولت کے لیے مائی فائی ڈیوائسز دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے، تاکہ طلبہ گھروں میں بیٹھ کر ای لائبریریوں، تعلیمی مواد اور دنیا بھر کے علمی وسائل سے استفادہ کر سکیں۔ یہ پہلو خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ صرف کمپیوٹر فراہم کردینا ڈیجیٹل تعلیم کے لیے کافی نہیں۔ انٹرنیٹ، بجلی، معیاری تعلیمی مواد اور رہنمائی کے بغیر جدید آلہ بھی محض ایک بے جان مشین بن کر رہ سکتا ہے۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی نوجوان مستقبل میں ملک کی معیشت، صنعت، تجارت، تحقیق، صحافت، تعلیم اور حکومتی اداروں کی ذمے داریاں سنبھالیں گے۔ اگر انہیں جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جائے تو یہی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑی معاشی قوت بن سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم، عملی مہارتوں اور روزگار کے مواقع سے محروم رکھا گیا تو آبادی کا یہی اثاثہ ایک بڑا سماجی اور معاشی چیلنج بھی بن سکتا ہے۔ اس لیے ڈیجیٹل تعلیم پر سرمایہ کاری کو محض ایک تعلیمی اسکیم نہیں، بلکہ قومی مستقبل پر سرمایہ کاری سمجھنا چاہیے۔ وزیراعظم نے ماضی میں دس برس کے دوران 6لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کیے جانے اور اب دو برس میں پانچ لاکھ کروم بکس فراہم کرنے کے ہدف کا ذکر کیا۔ یہ تقابل منصوبے کی رفتار اور وسعت کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ تقسیم کا عمل شفاف، منصفانہ اور نتائج پر مبنی ہو۔ ہر طالب علم کو یہ موقع ملنا چاہیے کہ وہ اپنی قابلیت، محنت اور تعلیمی کارکردگی کی بنیاد پر آگے بڑھے۔ مستحق اور ہونہار طلبہ کی شناخت کے لیے واضح معیار، قابلِ تصدیق ریکارڈ اور شکایات کے ازالے کا موثر نظام ضروری ہے، تاکہ یہ سہولت سفارش، سیاسی وابستگی یا اثر و رسوخ کی نذر نہ ہو۔ اس منصوبے کا ایک اہم پہلو مدارس کے طلبہ کو بھی شامل کرنا ہے۔ پاکستان میں تعلیم کے مختلف نظاموں کے درمیان فاصلے کم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ مدارس کے طلبہ بھی جدید علوم، کمپیوٹر کی مہارتوں، زبانوں اور تحقیق کے وسائل تک رسائی کے مستحق ہیں۔ اگر انہیں دینی تعلیم کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی سے استفادے کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ بھی قومی ترقی میں موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو بھی ایسی سہولتیں ملنی چاہئیں جو انہیں نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ کے مقابلے میں آگے بڑھنے کا مساوی موقع دیں۔ تعلیم کے میدان میں برابری کا مطلب صرف یکساں اعلان نہیں، بلکہ عملی طور پر مواقع کی فراہمی ہے۔ تاہم حکومت کو اس حقیقت سے بھی صرفِ نظر نہیں کرنا چاہیے کہ ڈیجیٹل آلات کی افادیت کے لیے اساتذہ کی تربیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر اساتذہ خود جدید تعلیمی ٹیکنالوجی کے استعمال سے پوری طرح واقف نہیں ہوں گے تو طلبہ کی صلاحیتوں کو مطلوبہ انداز میں نکھارنا مشکل ہوگا۔ اس لیے کروم بکس کی تقسیم کے ساتھ اساتذہ کے لیے تربیتی پروگرام، ڈیجیٹل نصاب، آن لائن تدریسی مواد اور طلبہ کی رہنمائی کا نظام بھی تشکیل دیا جانا چاہیے۔ بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ انٹرنیٹ محض تفریح کا ذریعہ نہیں، بلکہ تحقیق، تخلیقی صلاحیت، معلومات کے تجزیے اور ہنر سیکھنے کا وسیلہ بھی ہے۔ اسی طرح ڈیجیٹل سہولتوں کی فراہمی کے بعد ان کے موثر استعمال کی نگرانی بھی ضروری ہے۔ حکومت کو یہ دیکھنا ہوگا کہ طلبہ ان آلات کے ذریعے کیا سیکھ رہے ہیں، ان کی تعلیمی کارکردگی میں کتنی بہتری آرہی ہے اور کتنے نوجوان نئی مہارتیں حاصل کرکے روزگار یا کاروبار کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کروم بکس کی مرمت، سافٹ ویئر کی دیکھ بھال، محفوظ انٹرنیٹ استعمال کرنے کی تربیت اور آلات کے ضیاع سے بچائو کے انتظامات بھی منصوبے کا لازمی حصہ ہونے چاہئیں۔ اس طرح سرکاری وسائل کے درست استعمال اور پروگرام کے حقیقی نتائج کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود نے اسے ڈیجیٹل پاکستان کی جانب اہم قدم قرار دیا، جبکہ وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بدلتے تعلیمی تقاضوں کے مطابق نوجوانوں کے لیے اقدامات کی اہمیت اجاگر کی۔ ٹوکیو کیئر فانڈیشن کے بانی راشد منہاس اور ان کی ٹیم کی جانب سے کروم بکس عطیہ کرنا بھی قابلِ تحسین ہے۔ حکومت، نجی اداروں، فلاحی تنظیموں اور مخیر حضرات کے درمیان ایسا تعاون تعلیم کے شعبے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ اس میں شفافیت اور مستقل مزاجی برقرار رکھی جائے۔ دانش اسکولوں سمیت تعلیمی سہولتوں کی توسیع بھی اسی وقت نتیجہ خیز ہوگی جب بچوں کو اسکولوں میں معیاری تدریس، محفوظ ماحول، ضروری بنیادی سہولتیں اور آگے بڑھنے کے مساوی مواقع میسر ہوں۔ ڈیجیٹل آلات کی فراہمی کے ساتھ بنیادی تعلیمی مسائل، اساتذہ کی کمی، اسکولوں کی حالت، بجلی اور انٹرنیٹ کی عدم دستیابی جیسے چیلنجز کا حل بھی ضروری ہے۔ جدید ٹیکنالوجی بنیادی تعلیم کا متبادل نہیں، بلکہ اسے بہتر اور مثر بنانے کا ذریعہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی قوم کی ترقی کا فیصلہ اس کے نوجوانوں کو فراہم کیے جانے والے مواقع سے ہوتا ہے۔ پانچ لاکھ کروم بکس کی تقسیم ایک امید افزا آغاز ہے، لیکن اس امید کو کامیابی میں بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ منصوبے پر عمل درآمد مسلسل جاری رہے، ہر مستحق طالب علم تک سہولت پہنچے اور اس کے نتائج کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ پاکستان کے نوجوان ذہانت، محنت اور صلاحیت میں کسی سے کم نہیں، انہیں صرف مناسب رہنمائی اور مواقع درکار ہیں۔ اگر یہ منصوبہ دیانت داری، شفافیت اور دوراندیشی کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو یہی کروم بکس علم، خوداعتمادی، ہنر اور باوقار روزگار کے دروازے کھول سکتی ہیں۔ یہی وہ سرمایہ کاری ہے جو آج کی ایک محروم طالبہ یا طالب علم کو کل کا کامیاب محقق، ماہر، کاروباری فرد اور ذمہ دار شہری بنا سکتی ہے۔
شذرہ۔۔۔۔
انگلینڈ کیخلاف شاندار فتح
پاکستان کرکٹ ٹیم نے سہ ملکی ون ڈے سیریز کے چوتھے میچ میں انگلینڈ کے خلاف جس شاندار انداز میں کامیابی حاصل کی، وہ محض ایک فتح نہیں بلکہ عزم، حوصلے، خود اعتمادی اور آخری گیند تک مقابلہ کرنے کی بہترین مثال ہے۔ لاہور میں کھیلے گئے اس سنسنی خیز مقابلے میں جب پاکستان کی نو وکٹیں صرف 154رنز پر گر چکی تھیں تو بظاہر شکست یقینی دکھائی دے رہی تھی، لیکن شاداب خان نے ہمت نہ ہاری اور اپنی شاندار سنچری کی بدولت میچ کا نقشہ ہی بدل دیا۔ کھیل کے میدان میں اصل پہچان مشکل حالات میں دکھائی جانے والی کارکردگی سے ہوتی ہے۔ پاکستان نے اس مقابلے میں ثابت کیا کہ اگر کھلاڑی اپنے مقصد پر یقین رکھیں اور آخری لمحے تک جدوجہد جاری رکھیں تو بظاہر ناممکن دکھائی دینے والی کامیابی بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ شاداب خان کی اننگز اسی غیر معمولی جذبے کی عکاس تھی۔ ان کی کیریئر کی پہلی سنچری نے نہ صرف پاکستان کو فتح دلائی بلکہ ان کی صلاحیتوں اور دبا میں بہترین کارکردگی دکھانے کی اہلیت کو بھی نمایاں کیا۔ اس کامیابی میں حارث رئوف کا کردار بھی قابلِ تحسین رہا، جنہوں نے شاداب خان کے ساتھ آخری وکٹ پر 89رنز کی ناقابلِ شکست شراکت قائم کی۔ حارث کی جانب سے چوکا لگا کر میچ کا فیصلہ کن اختتام کرنا پاکستانی ٹیم کے اجتماعی عزم کی علامت بن گیا۔ سعد بیگ کی جارحانہ بیٹنگ اور دیگر کھلاڑیوں کی اننگز بھی اس کامیابی میں اہم رہیں۔ یہ میچ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ کرکٹ میں صرف بڑے نام نہیں بلکہ موقع پر ذمے داری نبھانے والے کھلاڑی بھی ٹیم کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ انگلینڈ کے بین ڈکٹ نے 105رنز کی شاندار اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچایا، لیکن شاہین آفریدی کی چار وکٹوں سمیت پاکستانی بولرز کی عمدہ کارکردگی نے حریف کو 241رنز تک محدود رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد پاکستانی بیٹنگ لائن کی مشکلات کے باوجود ٹیم نے ہمت اور حوصلے کا دامن نہیں چھوڑا۔ پاکستانی ٹیم کی یہ فتح نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ ناکامی کے خدشات سے گھبرانے کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر اعتماد رکھنا چاہیے۔ تاہم اس شاندار کامیابی کے ساتھ ٹیم کو اپنی ابتدائی بیٹنگ کی کمزوریوں کا جائزہ بھی لینا ہوگا، کیونکہ ہر میچ میں آخری وکٹ پر ایسی شراکت کی امید نہیں رکھی جاسکتی۔ مضبوط آغاز، وکٹوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور دبائو میں ذمہ دارانہ کھیل مستقبل کی کامیابیوں کے لیے ضروری ہیں۔ پاکستان کا فائنل میں پہنچنا پوری قوم کے لیے خوشی اور فخر کا لمحہ ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ کھلاڑی اس فتح کو اپنی منزل نہیں بلکہ اگلے مرحلے کی تیاری سمجھیں۔ قوم اپنی ٹیم سے امیدیں وابستہ رکھتی ہے اور اسے چاہیے کہ وہ اسی جذبے، اتحاد اور محنت کے ساتھ میدان میں اترے۔ شاداب خان اور ان کے ساتھیوں نے ثابت کر دیا کہ پاکستانی ٹیم آخری لمحے تک لڑنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ یہی جذبہ برقرار رہا تو پاکستان فائنل میں بھی بہترین کارکردگی دکھا کر قوم کو ایک اور خوشی دے سکتا ہے۔







