CM RizwanColumn

تاجر قتل نہیں امن کے خواہاں

تاجر قتل نہیں امن کے خواہاں

تحریر : سی ایم رضوان

گزشتہ دنوں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے انتخابات میں میاں سہیل نثار پیٹرن انچیف ون یونٹی، یونائٹڈ ٹریڈرز اینڈ انڈسٹریل فرنٹ اور ان کے اتحاد ویژن الائنس نے تاریخ ساز، شاندار کامیابی حاصل کر لی۔ نتائج کے مطابق ویژن الائنس نے کل 15میں سے 12نشستوں پر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ ویژن الائنس کے صدارتی امیدوار علی حسام اصغر نے 1700ووٹ حاصل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی اور چیمبر کے نئے صدر منتخب ہوئے جبکہ ان کا حریف گروپ پی پی بی اے الائنس صرف 3نشستیں حاصل کر سکا۔ اس شاندار کامیابی کے اہم عوامل اور محرکات میں میاں سہیل نثار کی بطور پیٹرن انچیف متحرک، حکمتِ عملی سے بھرپور مہم قابل تعریف ہے جس نے بزنس کمیونٹی کو متحد کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور تاجروں اور صنعت کاروں نے بجلی، گیس کے بھاری بلوں، ٹیکس مسائل اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف ویژن الائنس کے واضح، دلیرانہ موقف اور منشور پر بھرپور اعتماد ظاہر کیا۔ علاوہ ازیں اس کامیاب گروپ کے ساتھ دیگر صنعتی، تجارتی گروپس کا اتحاد بھی قابل تحسین ہے کہ قائد اعظم انڈسٹریل اسٹیٹ، یونائٹڈ ٹریڈرز فرنٹ اور دیگر بڑی تجارتی تنظیموں نے ون یونٹی ویژن گروپ کی حمایت میں یکجا ہونے کا عزم کیا تھا جو کہ الیکشن کا اہم ترین موڑ ثابت ہوا۔ معروف تاجر رہنما میاں واجد نے بھی اس الیکشن مہم میں میاں سہیل نثار کی بھرپور حمایت کی تھی جس نے اس کامیابی کو یادگار بنا دیا۔ میاں واجد نے بتایا کہ اس الیکشن میں شاندار کامیابی کے پیچھے میاں سہیل نثار کی تہجد گزار اور خدا رسیدہ والدہ ماجدہ کی خصوصی دعائوں کا بھی خاص عمل دخل ہے کہ ماں کی دعا اولاد کے حق میں ہمیشہ قبول و منظور ہوتی ہے۔ تاہم کامیابی کے بعد ایک دن بھی ضائع کئے بغیر میاں سہیل نثار اور منتخب صدر علی حسام اصغر پر مشتمل لاہور چیمبر کے وفد نے گورنر پنجاب اور وفاقی وزراء سے ملاقاتیں شروع کر دی ہیں تاکہ تاجر برادری کو درپیش مسائل ( جیسے صنعتی سیلنگ اور ٹیکس اصلاحات) کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرایا جا سکے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں تاجر تنظیموں اور چیمبرز آف کامرس ( مثلاً ایف پی سی سی آئی، کراچی، لاہور اور اسلام آباد چیمبرز) کا بنیادی مقصد کاروباری برادری کے مسائل حکومت تک پہنچانا اور سرکاری تجارتی پالیسیوں میں تاجروں کی نمائندگی کرنا ہے۔

بدقسمتی سے تاجر برادری کی فعال کارکردگی اور معاشی بہتری کو ملک میں جاری بدامنی، لوٹ مار اور خراب معاشی حالات شدید متاثر کر رہے ہیں۔ گو کہ چیمبرز آف کامرس باقاعدگی سے بجٹ تجاویز، ٹیکس تنازعات اور انرجی نرخوں پر حکومت کے ساتھ مذاکرات کرتے ہیں۔ تاہم، پالیسی میں عدم استحکام اور حکومتی فیصلے تحریری طور پر نافذ نہ ہونی کے باعث ان کے مطالبات پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو پاتا۔ ان خراب حالات کے باعث اکثر اوقات تاجر تنظیمیں اور چیمبرز احتجاجی لائحہ عمل یا ہڑتالوں پر بھی مجبور ہوتے ہیں، جس سے ان کی روزمرہ کی کاروباری، ترقیاتی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔ ان خراب معاشی حالات کا مختلف صنعتی و تجارتی شعبوں پر مختلف تناسب سے اثر پڑتا ہے۔ جس سے کاروباری حجم میں کمی 30%تا 50%ہوتی ہے۔ افراطِ زر ( مہنگائی)، روپے کی قدر میں کمی، توانائی کی بلند قیمتوں کے باعث مارکیٹ میں خریداروں کی قوتِ خرید گھٹ چکی ہے، جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کا کاروبار اندازاً 30%سے 50%تک متاثر ہوا ہے۔ سرمایہ کاری میں تعطل کی وجہ سے کاروبار میں 40%تا 60%کمی آئی ہے۔ اسی طرح پالیسی کمزوری، عالمی جنگی حالات اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے نئے صنعتی منصوبوں یا کاروبار کی توسیع میں 40%سے 60%تک کا التواء یا رکاوٹ دیکھی گئی ہے۔ واضح رہے کہ مندرجہ بالا اعدادوشمار اور فیصدی تناسب مختلف تجارتی ایسوسی ایشنز کے زمینی مشاہدات اور صنعتی سرویز پر مبنی تخمینوں سے لئے گئے ہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ اگر ملک اور دنیا میں مکمل امن و امان کی صورتِ حال بحال ہو جائے، مقامی طور پر بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، ڈکیتی اور تاجر برادری پر حملے ختم ہو جائیں تو خاطر خواہ مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی بھی ممکن ہے کیونکہ امن کے بغیر ملک میں نہ تو اندرونی سرمایہ کاری پھل پھول سکتی ہے اور نہ ہی غیر ملکی راست سرمایہ کاری آتی ہے جبکہ خوف کے ماحول کا خاتمہ تاجروں کو آزادانہ فعالیت کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ احساس عدم تحفظ کے باعث جو پاکستانی تاجر اپنے سرمائے اور صنعتوں کو دیگر ممالک منتقل کر رہے ہیں، وہ ملک کے اندر ہی سرمایہ کاری کریں گے۔ جس سے کاروباری نمو اور پیداوار میں 25%تا 40% بہتری آ سکتی ہے۔ اسی طرح سرمایہ کاری اور برآمدات میں 30%تا 50%اضافہ ممکن ہے کیونکہ امن اور معاشی اصلاحات کا ملاپ ملکی برآمدات، بالخصوص ہنر مند شعبوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ تاجر تنظیمیں اور چیمبرز اپنے طور پر متحرک ہیں، مگر بدامنی اور خراب معاشی ڈھانچے نے ان کی کارکردگی اور عام تاجر کے کاروبار کو 30%سے 50%تک مفلوج کر رکھا ہے۔ یاد رہے کہ تحفظ کا احساس اور امن و امان کی مستقل بحالی ملکی معیشت اور تجارتی حجم کو 25%سے 40%تک فوراً بہتر بنا سکتی ہے۔ مگر حالات تو یہ ہیں کہ کراچی میں میر رضا جیسے نمایاں تاجر رہنما کے مبینہ طور پر لرزہ خیز قتل اور ان پر تشدد کے ہولناک حقائق سامنے آنے کے تازہ انکشافات تاجر برادری کو شدید احساس عدم تحفظ اور خوف کا شکار کرتے ہیں۔ اب اس کیس کی جے آئی ٹی کی تشکیل اور تفتیش اپنی جگہ اہم لیکن اس واقعے نے ایک بنیادی معاشی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا خوف، قتل و غارت اور عدم تحفظ کا ماحول معاشی نمو، بہتر کاروبار اور تجارتی رجحان کے ساتھ ساتھ چل سکتا ہے۔ مروجہ معاشی اصولوں اور زمینی حقائق کی روشنی میں اس سوال کا جواب بالکل نفی میں ہے کہ خوف اور تجارت کبھی اکٹھے نہیں چل سکتے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ معاشی سائنس کا یہ بنیادی قانون ہے کہ ’’ سرمایہ بزدل ہوتا ہے ‘‘ اور سرمایہ کاری ہمیشہ تحفظ اور پیشگوئی کے قابل ماحول کا تقاضا کرتی ہے۔ جب کسی شہر یا ملک میں تاجروں کو اپنی جان، مال اور آبرو کا خطرہ لاحق ہو، تو وہ نیا سرمایہ لگانے کے بجائے موجودہ سرمائے کو محفوظ جگہوں یا بیرونِ ملک منتقل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر کراچی جو کہ پاکستان کی معاشی شہ رگ اور ریونیو کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، وہاں جب بھی تاجر برادری ہدف بنتی ہے تو متعدد صنعتکار اپنے یونٹس دیگر صوبوں یا بیرونِ ملک منتقل کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یعنی جب حقائق یہ ہوں کہ ایک تاجر کو مبینہ طور پر قتل کر دیا جائے اور متعلقہ پولیس تین چار ماہ تک یہی کہتی رہے کہ یہ قتل نہیں خودکشی ہے تو پھر کاروباری برادری کیا سوچے گی۔ کیونکہ میر رضا کیس میں قائم جے آئی ٹی کی سفارشات صرف ایک فرد کے قاتلوں کی گرفتاری تک محدود نہیں، بلکہ اس کیس کی بنیاد پر ملک میں ادارہ جاتی اعتماد کی بحالی ضروری ہے۔ جب تک قاتلوں اور اس کے پشت پناہوں کو عبرتناک سزا نہیں ملتی، تاجر برادری کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔ اس اعتبار کی بحالی کے لئے تاجروں کو تحفظ فراہم کرنا ہو گا۔ سکیورٹی کا جامع میکانزم تیار کرنا ہو گا، بھتہ خوری کے نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنا ہو گا، اور ہاٹ لائنز کا قیام عمل میں لانا ہو گا لیکن جب تاجر اپنے دفاتر سے نکلتے ہوئے جان کے خوف میں مبتلا ہوں یا انہیں بھتہ خوری، ڈکیتی اور ٹارگٹ کلنگ کا سامنا ہو، تو وہ معاشی ترقی کے بارے میں سوچنے کے بجائے صرف بقا کی جنگ لڑتے ہیں۔

میر رضا کیس کے تناظر میں پاکستان، بالخصوص کراچی کی تجارتی صلاحیت کو مکمل طور پر فعال کرنے کے لئے تاجروں کے لئے فولادی تحفظ سب سے پہلی اور لازمی شرط ہے۔ بغیر تحفظ کے بہتر تجارتی ماحول اور معاشی بہتری محض ایک خام خیالی ہی رہے گی۔

اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں کہ ملک بھر میں تاجر برادری کے خلاف ہونے والے مجرمانہ واقعات ( جیسا کہ بھتہ خوری، ڈکیتی، اسٹریٹ کرائم، اور دکانوں میں چوری) عام شہریوں کے مقابلے میں خاصے مختلف اور اکثر زیادہ ہدف بننے والے ہوتے ہیں۔ اس پر ستم یہ کہ سرکاری اور پولیس کے مرکزی اعداد و شمار میں عام جرائم اور تاجروں کے خلاف جرائم کا کوئی باضابطہ یا متفقہ تقابلی فیصد تناسب الگ سے شائع نہیں کیا جاتا، تاہم پبلک سیفٹی رپورٹس اور تاجر تنظیموں ( جیسے انجمن تاجران اور چیمبرز آف کامرس) کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تاجر برادری منظم جرائم کی زد میں عام شہریوں کی نسبت زیادہ رہتی ہے۔ اس خطرناک صورتحال کے تدارک کے لئے تجارتی مراکز اور مارکیٹوں میں پولیس کے خصوصی اور فعال گشت یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ اب ڈیجیٹل تحفظ بھی ضروری ہے۔ ہیکنگ اور ڈیجیٹل فراڈز پر روک لگانا بھی وقت کا تقاضا ہے۔ ہر بڑی مارکیٹ اور تجارتی مرکز میں تاجر نمائندگان اور مقامی پولیس کے مابین باقاعدہ رابطہ کمیٹیاں بنائی جائیں تاکہ ہنگامی صورتحال میں فوری رد عمل دیا جا سکے۔ تمام تجارتی مارکیٹوں، بازاروں اور دکانوں کے داخلی و خارجی راستوں پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کو لازمی بنایا جائے اور ان کا براہ راست رابطہ پولیس کے تھانوں یا کنٹرول رومز سے ہو۔ دکانوں اور صرافہ بازاروں میں ایمرجنسی پینک بٹن یا سائلنٹ الارم سسٹمز کا استعمال بڑھایا جائے۔ تاجروں کو دھمکیاں دینے اور بھتہ وصول کرنے والے عناصر اور با اثر گینگز کے خلاف مقدمات کو انسداد دہشت گردی عدالتوں یا خصوصی عدالتوں میں چلایا جائے تاکہ عدالتوں سے جلد اور عبرتناک سزائیں مل سکیں۔ مالیاتی سراغ رساں اداروں کو متحرک کیا جائے تاکہ بھتہ خوروں کے بینک اکانٹس اور مالیاتی نیٹ ورکس کو توڑا جا سکے۔ تاجروں کے ساتھ ہونے والی وارداتوں پر لیت و لعل یا ٹال مٹول سے کام لینے کی بجائے فوری طور پر ایف آئی آرز درج کی جائیں اور تفتیش کو جدید سائنسی خطوط ( جیسے جیو فینسنگ اور ڈیجیٹل فارنزک) پر آگے بڑھایا جائے۔ تجارتی تنظیمیں اپنی مدد آپ کے تحت مارکیٹوں میں پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز اور نگران چوکیداروں کا بہتر نظام قائم کریں۔ لین دین کے معاملے میں ڈیجیٹل بینکنگ چینلز کا استعمال زیادہ کیا جائے تاکہ دکانوں میں نقدی کی دستیابی اور اس کی وجہ سے ہونے والے خطرات کو کم کیا جا سکے۔ القصہ حکومت کو اس ترجیح پر کام کرنا چاہئے کہ تاجر خوف یا معاشی جبر کا شکار نہ ہو کیونکہ اس کے پاس جو کچھ ہو گا وہی بیچے گا۔

سی ایم رضوان

جواب دیں

Back to top button