
کیپٹن ( ر) صفدر سلجھے رویے پر گامزن
تحریر :سی ایم رضوان
پاکستانی سیاست میں عام طور پر سیاست دانوں کی جانب سے اپنے سیاسی مخالفین کو کسی بھی صورت میں معاف کرنے یا جائز مقام یا سہولت دینے کی اکثر بات بھی نہیں کی جاتی بلکہ اکثر سیاستدانوں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین یا ان کی خواتین کو بھی انتقام کا نشانہ بنائیں یا بننے دیں لیکن یہ یقین بہرحال کرنا ہی پڑے گا کہ مسلم لیگ ن میں سے خاص طور پر کیپٹن ( ر) صفدر کا رویہ اور بیانات خاص طور پر لائق تحسین ہیں کہ انہوں نے حالیہ دنوں میں اپنے اس سیاسی مخالف کی بہنوں کی بھی رہائی کی حمایت کی ہے جو اپنے وزارت عظمیٰ کے دور میں کیپٹن ( ر) محمد صفدر کو محض اس بناء پر انتقام کا نشانہ بنانے کا اعلانیہ اظہار کرتا رہا کیونکہ وہ نواز شریف کے داماد اور مریم نواز کے شوہر ہیں۔ کیپٹن ( ر) محمد صفدر کا یہ بھی ایک کریڈٹ ہے کہ حالات خواہ جیسے بھی ہوں۔ وقت اقتدار کا ہو یا احتساب کا، وہ ہمیشہ خوش گوار اور ہلکے پھلکے انداز میں ہی رہتے ہیں۔ ان کے حالیہ دنوں میں کچھ بیانات سامنے آئے ہیں جن میں ان کی ذاتی زندگی، ازدواجی امور اور سیاسی معاملات سے متعلق تبصرے شامل ہیں۔ مثال کے طور پر ایک انٹرویو یا گفتگو کے دوران انہوں نے اپنی بیوی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے یہ دلچسپ جملہ کہا کہ ’’ دنیا میں ہی حور مل گئی‘‘۔ اس کے علاوہ بھی انہوں نے اپنی ازدواجی زندگی کے حوالے سے ہلکے پھلکے انداز میں انکشافات کیی کہ گھر میں صلح وغیرہ کے معاملات کیسے ہوتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ حال ہی میں انہوں نے ایک بیان میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی بہنوں کی رہائی کی حمایت کی ہے۔ کابینہ کا حصہ نہ بننے کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چونکہ وہ وزیر اعلیٰ ( مریم نواز) کے شوہر ہیں، اس لئے وہ ان کے دفتر یا کابینہ کا حصہ نہیں ہیں۔
یہاں ضمنی طور پر یہ بات بھی اہم ہے کہ گزشتہ دنوں وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کے فلیگ شپ پروگرام‘‘ اپنی چھت، اپنا گھر‘‘ کو اقوام متحدہ کے ادارے کا باوقار عالمی اعزاز ’’ یو این ہیبی ٹیٹ سکرول آف آنر ایوارڈ‘‘ حاصل ہوا۔ مسقط ( عمان) میں ورلڈ ہیبی ٹیٹ ڈے کے موقع پر منعقدہ ایک عالمی تقریب کے دوران وزیر اعلیٰ مریم نواز کو ملنے والا یہ اعزاز یا ایوارڈ کم آمدنی والے خاندانوں کو سستے، محفوظ اور معیاری مکانات کی فراہمی اور پائیدار شہری ترقی میں بہترین اقدامات کے اعتراف میں دیا گیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس عالمی اعزاز کو پنجاب کے بے گھر اور مستحق عوام کے نام وقف کیا ہے۔ اس عالمی اعزاز اور صوبہ کے لئے دیگر لاتعداد احسن اقدامات کے باوجود مریم نواز پر تنقید برائے تنقید عروج پر ہے جو کہ مریم نواز اور ان کے خاندان خاص طور پر ان کے شوہر کیپٹن ( ر) صفدر کے لئے حوصلہ شکن ثابت ہو سکتا تھا لیکن ان کے حوصلے کو داد دینا پڑے گی کہ وہ اس بیجا اور اخلاق سے گری ہوئی تنقید پر بھی جواب نہیں دیتے اور سلجھے ہوئے باوقار رویے پر قائم رہتے ہوئے وہ ہر وقت خوشگوار موڈ میں رہتے ہیں۔ پاکستانی سیاسی ماحول اور اخلاق کے پس منظر میں یہ امر انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ کیپٹن ( ر) محمد صفدر نے مریم نواز کے شوہر کی حیثیت سے ملکی سیاست کے ایک ایسے دور اور حوصلہ شکن مرحلے اور صورت حالات کا خوش اخلاقی کے ساتھ سامنا کیا ہے اور اب بھی کر رہے ہیں کہ ان کے خیال میں انہیں اس سیاسی ماحول میں بھی باوقار اور بااخلاق رہنا ہے جہاں سیاسی مخالفت اکثر ذاتی نوعیت کی ناقابل برداشت تنقید، بے رحم انتقام اور اخلاق سوز بیانات کی حد تک پہنچ جاتی ہے۔
پاکستانی سیاست میں جب کوئی خاندان اقتدار یا مخالفت کے مرکز میں ہوتا ہی، تو وہاں تنقید صرف سیاسی نہیں رہتی بلکہ ذاتی اور نجی زندگی تک پھیل جاتی ہے۔ کیپٹن ( ر) صفدر نے جس طرح پبلک پلیٹ فارمز، عدالتوں کے باہر اور میڈیا میں سخت تنقیدی بلکہ تحقیری جملوں اور بیانات کا سامنا کیا، یہ انہی کا اعزاز ہے کہ وہ یہ سب برداشت کر رہے ہیں حالانکہ وہ نہ تو روایتی سیاست دان ہیں اور نہ ہی اقتدار و اختیار سے فائدہ اٹھانے والے شخص بلکہ وہ بحیثیت عام شہری زیادہ راحت محسوس کرتے ہیں لیکن ان کے مخالفین نے انہیں سیاسی حلقوں میں ہمیشہ بحث اور تنقید کا موضوع بنائے رکھا۔
نفسیاتی حوالے سے ایک عام انسان کی نفسیاتی اور سماجی زندگی کسی بڑے سیاسی رہنما یا اس کے قریبی رشتہ دار سے مختلف ہوتی ہے۔ عام انسان کے پاس نہ تو میڈیا کی وہ توجہ ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے پاس ایک باقاعدہ سیاسی پلیٹ فارم یا کارکنوں کی حمایت ہوتی ہے جو اس کے دفاع میں کھڑے ہوں۔ عام آدمی کے لئے ذاتی عزت پر اس نوعیت کے حملے ذہنی اور سماجی دبا کا باعث بن سکتے ہیں جنہیں برداشت کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف، سیاستدان اور ان کے اہل خاندان پہلے سے ہی اس بات سے آگاہ اور مستعد ہوتے ہیں کہ وہ پبلک فگر ہیں اور انہیں اس قسم کے ماحول کا سامنا کسی بھی صورت میں اور کسی بھی وقت کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انہیں دبا محسوس نہیں ہوتا، بلکہ سیاسی تربیت، ماحول اور بعض اوقات ایک خاص حکمت عملی اس برداشت کا حصہ اور باعث بن جاتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کیپٹن ر صفدر اس صورت حال میں بھی ثابت قدم بلکہ خوش اخلاق رہتے ہیں۔
پاکستانی سیاست میں جب ہم مریم نواز شریف کے سیاسی سفر اور اس دوران کیپٹن ( ر) محمد صفدر کے کردار کا جائزہ لیتے ہیں، تو اس پر مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے متنوع نقطہ ہائے نظر سامنے آتے ہیں۔ اس ضمن میں معاشرے اور سیاسی تجزیہ کاروں کے خیالات کو بنیادی طور پر دو اہم زاویوں سے دیکھا جاتا ہے۔ ایک زاویہ مثبت اور تحسین کا زاویہ ہے جس کے تحت ان کی برداشت اور حوصلہ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بہت سے حامیوں اور مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستانی سیاسی کلچر میں ایک خاتون کے لئے عملی سیاست میں قدم رکھنا، جلسوں کی قیادت کرنا اور مخالفین کا سیاسی طور پر مقابلہ کرنا ایک انتہائی کٹھن مرحلہ ہے۔ اس پس منظر میں کیپٹن صفدر کو ایک ایسے شریکِ حیات کے طور پر دیکھا جاتا ہے جنہوں نے ہر قدم پر مریم نواز کی سیاسی جدوجہد کا ساتھ دیا، مشکل ترین حالات ( جیسے کہ عدالتی مقدمات اور گرفتاریوں کے ادوار) میں ان کا حوصلہ بڑھایا اور ان کی سیاسی سرگرمیوں میں ڈھال بن کر کردار ادا کیا۔ ہمارے جیسے ایک قدامت پسند معاشرتی پس منظر میں جہاں روایتی طور پر مردوں کی سیاست میں بالادستی سمجھی جاتی ہے، وہاں اپنی اہلیہ کو ملکی سطح پر ایک مرکزی سیاسی رہنما کے طور پر ابھرتے دیکھنا اور اس میں بھرپور تعاون فراہم کرنا ایک غیر روایتی اور حوصلہ افزا عمل قرار دیا جاتا ہے۔
دوسرا ایک تنقیدی اور سیاسی مخالفت کا زاویہ ہے جس کے تحت سیاسی مخالفین اور ناقدین کی ایک بڑی تعداد کیپٹن صفدر کے بیانات، خطابات اور بعض اوقات ان کے اندازِ سیاست پر شدید تنقید کرتی ہے۔ ان کا موقف ہوتا ہے کہ کئی مواقع پر ان کی تقاریر نے سیاسی تلخی کو بڑھایا یا عدالتی و ریاستی اداروں کے ساتھ تنا کو وسعت دی۔ حالانکہ اس حوالے سے ان کے سیاسی مخالفین ان سے کافی زیادہ آگے جا چکے ہیں اور جا رہے ہیں۔ کچھ تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ ( ن) کی خاندانی سیاست کے اندر کیپٹن ( ر) صفدر کا کردار ایک ثانوی حیثیت رکھتا ہے، جہاں اصل مرکزِ نگاہ مریم نواز خود ہیں، اور ان کے سیاسی ردعمل کو ہمیشہ خاندانی اور پارٹی مفادات کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے لیکن بحیثیت مجموعی، کیپٹن صفدر کے کردار کو دیکھنا اس بات پر منحصر ہے کہ دیکھنے والا کس سیاسی فریم ورک سے حالات کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ حامی اسے ایک مشکل وقت میں سیاسی رفاقت اور برداشت کی مثال قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ایک متنازعہ سیاسی بیانیے اور تلخی کا حصہ سمجھتے ہیں لیکن یہ بھی ماننا پڑے گا کیپٹن ر صفدر کو مخالفین کے جن جملوں کو سننا پڑتا ہے ان میں اگر برداشت کی قدرتی طور پر ودیعت کردہ تحمل مزاجی بدرجہ اتم موجود نہ ہوتی تو مخالفین کو ان کی جانب سے وہ کچھ سننا پڑتا جو وہ عام طور پر خود کہہ دیتے ہیں۔ یہاں یہ تذکرہ بھی ضروری ہے کہ گزشتہ دنوں کیپٹن ( ر) محمد صفدر اور سینئر قانون دان و سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر احسن بھون کے مابین پیدا ہونے والی کشیدگی کو خاص طور پر سوشل میڈیا میں بڑی جگہ ملی۔ یہ تنازع بنیادی طور پر پیشہ ورانہ نوعیت کے الزامات، وکلا کی سیاست اور تعلیمی اسناد ( ڈگریوں) کی جانچ پڑتال کے گرد گھومتا ہے۔ ہوا یہ کہ گزشتہ دنوں کیپٹن صفدر کی جانب سے بعض وکلا کی تعلیمی قابلیت اور ڈگریوں پر سوالات اٹھائے گئے تھے، جن میں اتفاقاً احسن بھون کی ڈگری کا معاملہ بھی شامل تھا۔ حالانکہ کیپٹن ر صفدر نے اس حوالے سے مجموعی بات کی تھی۔ تاہم احسن بھون نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے نہ صرف اپنی ڈگری کو قانونی اور درست قرار دیا بلکہ پنجاب یونیورسٹی نے بھی ان کی ڈگری و ریکارڈ کی تصدیق کر دی ہے۔ اپنی پوزیشن کا اصولی دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے احسن بھون نے اس معاملے پر سختی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیپٹن صفدر کو 5ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھیجا اور غیر مشروط معافی مانگنے کا مطالبہ کیا، جس کے بعد یہ معاملہ سیاسی و قانونی حلقوں میں ایک بڑی بحث بن گیا۔ تاہم اس تنازع میں چونکا دینے والا موڑ اس وقت آیا جب کیپٹن ( ر) صفدر نے اپنی قانونی پیروی کے لئے شیر افضل مروت کو اپنا وکیل مقرر کرنے کا اعلان کیا، جس سے اس معاملے میں سیاسی شخصیات اور وکلا کی رسہ کشی مزید واضح ہوئی۔ اگرچہ اس کشیدگی میں دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آئے، تاہم کیپٹن صفدر کی طرف سے بعد میں یہ موقف سامنے آیا کہ ان کا مقصد کوئی ذاتی دشمنی نہیں اور وہ معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس پورے تنازع کو عمومی طور پر سیاسی وابستگیوں، وکلا کی تنظیموں کے اندرونی معاملات اور بیانات کی حد سے تجاوز کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں ہر فریق اپنے موقف اور قانونی حق کے دفاع کے لئے کوشاں ہے لیکن کیپٹن ر صفدر کا یہ بیان ان کی معاملہ فہمی اور امن پسندی کی دلیل ہے کہ ان کا مقصد کسی پر ذاتی تنقید نہیں اور وہ بات چیت کے ذریعے معاملے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔






