Columnمحمد مبشر انوار

ملک دشمنی ۔ پرانی کہانی  

ملک دشمنی ۔ پرانی کہانی

محمد مبشر انوار(ریاض)

 

ایک فقرہ ’’ ملک نازک دور سے گذر رہا ہے،قوم کو قربانی دینا ہوگی‘‘ سنتے سنتے بوڑھے ہو چکے، مگر وہ فقرہ ابھی تک کانوں میں گونجتا ہے اور دکھ ہوتا ہے، افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ارباب اختیار کی اہلیت و قابلیت کس قدر کم ہے کہ ہم آج تک اس گرداب سے نہیں نکل سکے البتہ اس دوران یہ ضرور دیکھا کہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے والوں کی تقدیر اور نصیب ضرور بدل گیا۔ وہ خواہ کوئی بھی نعرہ لگا کر یا کسی بھی منشور کے تحت، اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے ہوں، سب سے پہلا نعرہ روٹی کپڑا اور مکان کا لگا گو کہ پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ان خرافات کا حصہ نہیں بنے مگر بدقسمتی سے ان کی دختر بے نظیر کے شوہر اس سے نہیں بچ پائے اور ساتھ ساتھ بے نظیر کو بھی اس میں ملوث کر لیا۔ بعد ازاں کراچی کی سیاسی جماعت، جسے مکمل طور پر آمر کی پشت پناہی حاصل رہی، تعلیم یافتہ اور ہجرت کرنے والے طبقے سے تعلق رکھنے والی اس جماعت کے ابتدائی اراکین کی مالی حیثیت کیا تھی، کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں لیکن آج ان کے مالی حالات کیا ہیں، ساری دنیا بخوبی جانتی ہے، سندھ کے وڈیروں کو چھوڑ کر سیدھا پنجاب کے جاگیرداروں کے گریبانوں تک پہنچنے والی اس جماعت کی آج جو حالت ہے، اس سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ پاکستان کیوں آج تک نازک دور سے گزر رہا ہے اور کیوں قوم کو قربانی دینا پڑ رہی ہے۔ پھر لسانیت کا نعرہ لگوا کر، ایک تاجر کے سر پر اقتدار کا تاج رکھا گیا، جس نے کبھی صنعت کے لئے پالیسیاں دی کہ ملک میں صنعتی ترقی ہو تو دوسری طرف قرض اتارو ملک سنوارو کا نعرہ لگایا، لیکن بدقسمتی سے قوم نے اپنی اور ملک کی تقدیر سنوارنے کے لئے، اس پر اعتبار کرتے ہوئے، رقوم تو دیں مگر ان رقوم کا فائدہ کس نے اٹھایا، وہ رقوم کہاں گئیں؟، کسی کو نہیں معلوم مگر ملک آج پہلے سے کہیں زیادہ قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہے اور مسلسل قرض لیا جارہا ہے، پوری کی پوری معیشت قرضوں کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے، جس کا انجام نوشتہ دیوار ہے، لیکن اگر کسی کو اس کا علم نہیں تو صرف اور صرف اشرافیہ ہی اس سے لاعلم ہے اور ملک و قوم پر مسلسل قرضوں کا بوجھ لادے جارہی ہے البتہ ذاتی تجوریاں مسلسل فروغ پا رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی پامالی ہو یا قانون کی بالا دستی ایک خواب بنتی جارہی ہے کہ اس ملک کے شہریوں کو کوئی علم نہیں کب کوئی نادیدہ ہاتھ، کسی حق کے مطالبے کی پاداش میں کہاں سے نکلے اور کسی بھی شہری کو کہیں سے بھی اٹھا لے۔ عام شہری کی تو بات ہی کیا یہاں تو صورتحال اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ اگر کوئی مخالف، ناپسندیدہ ہے تو خواہ وہ قومی اسمبلی کا رکن ہو یا صوبائی اسمبلی کا یا صوبائی وزیر ہو، نادیدہ ہاتھ اور نقاب پوش سر عام اور دن دیہاڑے اٹھانے سے گریز نہیں کرتے۔

ان ناانصافیوں کے خلاف تحریک انصاف نے گزشتہ چند دنوں سے کے پی میں ایک لانگ مارچ ترتیب دے رکھا ہے کہ ان کا بنیادی مطالبہ ہی یہ ہے کہ عمران خان کے نہ صرف بنیادی حقوق بلکہ اس کے ناحق قید میں قیدیوں کے حقوق فراہم کئے جائیں۔ سہیل آفریدی اس لانگ مارچ کے روح رواں کے طور پر سامنے نظر آ رہے ہیں جبکہ ان کے رفقاء میں صوبائی و قومی اسمبلی کے اراکین ہیں اور کے پی عوام کا جم غفیر سہیل آفریدی کے ساتھ ہے البتہ لانگ مارچ کی رفتار ایسی ہے کہ اسے اسلام آباد آنے میں ابھی بھی کئی دن درکار ہیں۔ ایک طرف لانگ مارچ میں شدت ہے اور عوام کا مطالبہ ہے ک جلد از جلد ڈی چوک پہنچا جائے جبکہ دوسری طرف سہیل آفریدی نے دانستہ اس لانگ مارچ کی رفتار سست رکھی ہے کہ اس طرح ایک طرف عوام کا جوش و خروش بڑھانے کی کوشش ہے، زیادہ سے زیادہ عوام کو اس میں شامل کرنے کی خواہش ہے تو دوسری طرف پس پردہ یہ خواہش بھی اپنی جگہ محترم ہے کہ کسی طرح معاملات تصادم کے بغیر حل ہو جائیں اور تحریک انصاف کے مطالبات تسلیم کر لئے جائیں۔ گو کہ تحریک تحفظ آئین و تحریک انصاف کے حکومت سے مذاکرات کا دور ختم ہو چکا، جس کی ناکامی کا باقاعدہ اعلان کیا جا چکا مگر ابھی بھی پس پردہ روابط موجود ہیں اور تحریک انصاف کی قیادت ابھی بھی معاملات کو مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے پر آمادہ ہے بشرطیکہ تحریک انصاف کے آئینی و قانونی مطالبات تسلیم کر لئے جائیں۔ ممکنہ طور پر تحریک انصاف کے ذہن میں ماضی کی تلخ یادیں ہیں، تو اس وقت وفاقی حکومت کے لانگ مارچ سے نپٹنی کے انتظامات اور بیانات بھی مد نظر ہیں کہ وفاقی وزراء بالخصوص محسن نقوی، رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف، طلال چودھری اور عطا تارڑ واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ اس مرتبہ ’’ مستقل علاج‘‘ کیا جائے گا اور روز روز کے اس احتجاج کو ختم کیا جائیگا۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد، تحریک انصاف کے پاس ممکنہ طور پر براہ راست حکومت سے رابطہ کرنے کی اخلاقی ساکھ بھی نہیں رہی تو دوسری طرف اپنی کمزوری ظاہر کرنے سے بھی گریزاں دکھائی دیتے ہیں جبکہ حکومت خواہ سخت ارادے ظاہر کر رہی ہے لیکن عوام پر تشدد کرنے کا داغ بھی اپنے ماتھے پر سجانے سے گریزاں ہے لہذا اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے، کسی ثالث کے ذریعہ گفت و شنید ہی ممکن ہے۔ ثالثی کے لئے قرعہ مولانا فضل الرحمان کے نام نکلا ہے اور مولانا کے فریقین کے ساتھ رابطے ہو چکے ہیں، شہباز شریف کی جانب سے واضح طور پر کہا گیا ہے کہ لانگ مارچ کسی صورت اسلام آباد برداشت نہیں کریں گے کہ بقول شہباز شریف معیشت بحالی کے لئے سرتوڑ محنت کی گئی ہے، معاملات کو سیاسی انداز میں حل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ الگ بات کہ معیشت کی بحالی یا ترقی کا جو دعویٰ شہباز شریف کی جانب سے کیا جارہا ہے، زمینی حقائق چیخ چیخ کر اس دعوے کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس کا اظہار اسلام آباد کے تاجروں نے پریس کانفرنس کے ذریعہ بھی کیا ہے، اور تحریک انصاف کے اس لانگ مارچ میں شریک ہونے کا اعلان کرکے دیا ہے۔ رہی بات معاملات کو سیاسی انداز میں حل کرنے کی، تو یہ دعویٰ بھی مضحکہ خیز ہی دکھائی دیتا ہی کہ ایک طرف سیاسی انداز کا دعویٰ کیا جارہا ہے اور دوسری طرف اسلام آباد کو کینٹینرز کا شہر بنایا جا چکا ہے، مذاکرات کے دوران، مخالفین کو اتنی رعایت بھی نہیں دی جاتی کہ وہ اپنے قائد سے مشاورت کر لیں جبکہ حکومتی وفد کی حالت یہ ہے کہ ڈرافٹ میں نہ اپنی مرضی سے ایک لفظ شامل کر سکتے ہیں اور نہ تبدیل کرنے کی ہمت ان میں ہے، الفاظ کی تبدیلی یا شمولیت کے لئے بھی ’’ فرد واحد‘‘ کی منظوری کے لئے مذاکرات کے دوران ہی اٹھ جاتے ہیں۔ اپوزیشن کے بنیادی مطالبے کہ عمران خان سے ملاقات کروائی جائے، کو بھی پذیرائی نہیں بخشی گئی البتہ اسے اپنے شرط کے ساتھ مشروط کر دیا گیا کہ اگر کے پی حکومت آپریشن کی ذمہ داری قبول کر لے تو پھر عمران خان سے ملاقات کروائی جاسکتی ہے، جسے کے پی کے وزیراعلیٰ نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور معاملات سیاسی انداز سے حل نہیں ہو سکے۔ تحریک انصاف کی جانب سے مولانا کے سامنے دو مطالبات رکھے گئے کہ اولا ایمرجنسی کے نفاذ کو رکوایا جائے اور دوسرا معاملات کو لانگ مارچ کے اٹک پل پر پہنچنے سے پہلے حل کیا جائے، ایمرجنسی تادم تحریر نافذ نہیں ہوئی اور مولانا کے مطابق حکومت نے مولانا کا یہ مشورہ فی الوقت تسلیم کرلیا ہے البتہ معاملات کو اٹک پل تک پہنچنے سے قبل حل کرنے کی کوشش کی جائیگی۔

اس پس منظر میں لانگ مارچ کی سست رفتاری سمجھ میں آتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے، دوسرا ہتھکنڈا بھی زور و شور سے استعمال ہونا شروع ہو چکا ہے اور خواجہ آصف نے ببانگ دہل یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ تحریک انصاف کے کالعدم جماعت تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ نہ صرف روابط ہیں بلکہ اس کے ثبوت بھی موجود ہیں۔ حیرت اور افسوس ہے کہ ملک دشمنی اور سیکیورٹی رسک کے ان الزامات کا یہ وتیرہ بہت پرانا ہے اور مسلم لیگ ن یہ کارڈ کبھی پیپلز پارٹی کے خلاف بھی کھیل چکی ہے، اور پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی یہ کارڈ مسلم لیگ ن کے خلاف کھیلا جا چکا ہے، لیکن آج دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے گلے کا ہار بنی ہوئی ہیں، جبکہ ٹھوس ثبوتوں کی بابت پانامہ کیسز کا حوالہ بھی دیا جا سکتا ہے کہ کسی زمانے میں مسلم لیگ ن کے خلاف پانامہ ثبوتوں کو مسلم لیگ ن مسترد کرتی رہی ہے۔ بہرحال حقیقت یہی ہے کہ مسلم لیگ ن ہی نہیں بلکہ ماضی میں بھی مقتدرہ کے ایماء پر ناپسندیدہ شخصیات و جماعتوں کو ملک دشمن قرار دیا جاتا رہا ہے، حتی کہ بنگالیوں کو بھی ایک زمانے میں غدار قرار دیا گیا تھا اور حال ہی میں کشمیریوں کو بھی ملک دشمنوں کا آلہ کار ثابت کرنے کی بھونڈی کوشش کی گئی تھی۔ خواجہ آصف جیسے سیاستدان، جو صرف اپنی ایک نشست کے لئے ایسے بیانات دینے سے نہیں کتراتے، ایسے بیانات سے ملک میں انتشار پھیلانے والوں کی صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں، لیکن اس کا خمیازہ پاکستانیوں کے ذہن میں نفرت پیدا کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ بنیادی انسانی حقوق، آئین و قانون کے مطابق، کے مطالبہ کرنے والوں کو ، کسی کے ایماء پر، ملک دشمن قرار دے کر یا ان کے خلاف طاقت کا استعمال کرکے، موجودہ حالات میں، آپ اس نظام کو ہی لپیٹنے میں اپنا نام لکھوائیں گے، جو کسی بھی طور جمہوریت یا پاکستان کی خدمت نہیں ہو سکتا کہ ملک دشمنی کی یہ پرانی کہانی ، اب قوم کو ازبر ہو چکی ہے اور بہتر ہے کہ اس کو باربار نہ ہی دہرائیں تو اچھا ہے۔

جواب دیں

Back to top button