اساتذہ، قوم کے معمار

اساتذہ، قوم کے معمار
تحریر : رانا اعجاز حسین چوہان
سکندر اعظم سے جب پوچھا گیا کہ وہ اپنے والد سے زیادہ اپنے استاد ارسطو کی عزت کیوں کرتے ہیں ، تو انہوں نے تاریخی جواب دیا: ’’ میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لایا، جبکہ میرے استاد نے مجھے زمین سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا‘‘۔ بلاشبہ استاد وہ دیا ہے جو خود جل کر دوسروں کی زندگی میں علم، شعور اور تہذیب کی روشنی پھیلاتا ہے۔ انسانیت کی تعمیر و علمی ارتقاء میں اساتذہ کا بنیادی کردار ہے ، جو کہ اپنے علم کے ذریعے عقل کو روشن کرنے کا ہنر سکھاتے آئے ہیں۔ اساتذہ قوم کے معمار ہیں اور نوجوانوں کی سیرت کو سنوارنے، انہیں مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور ان کی کردار سازی میں اہم ترین فریضہ سر انجام دیتے آئے ہیں۔ اور اپنی انتھک محنت سے نوجوانوں کو محقق، ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان، سیاستدان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کارہائے منصبی پر فائز کرتے چلے آئے ہیں۔ اساتذہ انسان کو ربّ رحمن سے آشنا کرتے ، دنیا میں انسانیت سے محبت، امن، اور اخوت کا پرچار کرتے، اور جہالت کے اندھیروں کو علم کی روشنی سے ختم اور علم کی قندیلوں سے قندیلیں روشن ومنور کرتے چلے آئے ہیں۔ بلاشبہ درس و تدریس وہ پیشہ ہے جسے صرف اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر مذہب اور معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ لیکن یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ دنیائے علم نے معلم کی حقیقی قدر و منزلت کو کبھی اس طرح اجاگر نہیں کیا جس طرح اسلام نے انسانوں کو معلم کے بلند مقام و مرتبے سے آگاہ کیا ہے۔ اسلام نے معلم کو بے حد عزت و احترام عطا کیا ہے۔ اللہ ربّ العزت نے قرآن مجید فرقان حمید میں نبی اکرم محمدؐ کی شان بحیثیت معلم بیان کی ہے۔ خود خاتم النبین محمدؐ نے فرمایا: ’’ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے‘‘۔ خالق کائنات نے انسانیت کی رہنمائی اور تعلیم کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا ء کرامٌ کو بھیجا، ہر نبیٌ شریعت کا معلم ہونے کے ساتھ ساتھ کسی ایک فن کا ماہر بھی ہوتا تھا، جیسا کہ حضرت آدم ٌ دنیا میں زراعت ، صنعت کے معلم اوّل تھے، کلام کو ضبط تحریر میں لانے کا علم سب سے پہلے حضرت ادریس ٌ نے ایجاد کیا، حضرت نوح ٌ نے لکڑی سے چیزیں بنانے کا علم متعارف کروایا، حضرت ابراہیم ٌ نے علم مناظرہ اور حضرت یوسفٌ نے علم تعبیر کی بنیاد ڈالی۔ خاتم الانبیاء حضرت محمد ؐ نے معلم کو انسانوں میں بہترین شخصیت قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سیکھائے‘‘۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام میں معلم کا مقام و مرتبہ بہت ہی اعلی و ارفع ہے۔ اسلام نے استاد کو معلم و مربی ہونے کی وجہ سے روحانی باپ کا درجہ عطا کیا ہے۔ حضرت علیؓ کا قول استاد کی عظمت کی غمازی کرتا ہے کہ جس نے مجھے ایک حرف بھی بتایا میں اس کا غلام ہوں، وہ چاہے مجھے بیچے، آزاد کرے یا غلام بناکر رکھے۔ پانچ اکتوبر کا دن دنیا بھر میں ’’ ورلڈ ٹیچرز ڈے‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ یہ دن جہاں اساتذہ کرام کی قدر و منزلت کے پہچاننے کا دن ہے وہیں اساتذہ کے لئے غور کرنے کا دن ہے کہ وہ اپنے فرائض منصبی کو احسن طور پر سر انجام دے رہے ہیں یا نہیں۔ وہ اپنے طلباء کی صحیح سمت میں رہنمائی کر رہے ہیں یا اپنی خدمات کو محض ایک ڈیوٹی سمجھ کر انجام دے رہے ہیں۔ ایک استاد کے لئے طلباء کی تربیت، انہیں صحیح راستہ دکھانا، زندگی کے نشیب و فراز سے آشنا کرنا، مشکلات سے نمٹنے کا سلیقہ سکھانا، آگے بڑھنے کے لئے حوصلہ افزائی کرنا اور معاشی و اقتصادی ترقی کے لئے ہنر مندی کی اہلیت پیدا کرنا، بطور معلم اہم ترین فریضہ ہوتا ہے۔ اور نہ صرف طالب علم بلکہ والدین ، رشتہ دار اور سب سے بڑھ کر ملک و قوم اساتذہ کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہوتے ہیںکہ وہ اپنے کردار سے سماجی اور قومی قدروں میں اضافہ کریں گے۔ بلاشبہ اساتذہ کی محنت سے قوموں کی تقدیریں بدل جاتی ہیں۔ آج کا دور ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI)اور ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے ۔ معلومات اب صرف لائبریریوں یا استاد کی زبانی حاصل ہونے تک محدود نہیں رہیں، بلکہ ایک کلک پر دنیا بھر کا علم انسان کے سامنے کھل جاتا ہے ۔ ایسے میں کچھ لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا اب استاد کی اہمیت کم ہو گئی ہے ؟ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ۔ انٹرنیٹ معلومات تو دے سکتا ہے ، لیکن ’’ تربیت ‘‘ نہیں دے سکتا۔ گوگل ہمیں حقائق تو بتا سکتا ہے ، لیکن اچھے اور برے کی تمیز نہیں، اخلاقیات اور انسانی ہمدردی صرف ایک استاد کی صحبت ہی سکھا سکتی ہے ۔ اس ڈیجیٹل سیلاب میں استاد کا کردار اور بھی اہم ہو گیا ہے کیونکہ اب اس نے طالب علم کو صرف پڑھانا نہیں، بلکہ یہ سکھانا ہے کہ صحیح اور غلط معلومات میں فرق کیسے کیا جائے۔ لیکن آج ہمیں اس دن کے موقع پر اپنے گریبانوں میں بھی جھانکنا ہوگا۔ کیا ہم واقعی اپنے اساتذہ کو وہ مقام اور احترام دے رہے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں؟۔ ہمارے معاشرے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کے لئے رکھے گئے اساتذہ کو پیشہ ورانہ اور معاشی نقصان پہنچا کر ان کا استحصال کیا جاتا رہا ہے، اساتذہ کو فریضہ تدریس کی ادائیگی کی بجائے گھروں سے بچے اکٹھے کرنے، پولیو کے قطرے پلانے، ووٹنگ لسٹ بنانے، مردم شماری کرنے، اینٹوں کے بھٹوں پر بچوں کے والدین کو لیجا کر ان کے کارڈ بنوانے کا کام لے کر بچوں کو تعلیم کے حقیقی ثمرات سے محروم کیا جا رہا ہے، اور پھر ان حالات کی ذمہ داری اساتذہ پر ڈال کر ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرکے اساتذہ کی تذلیل کی جاتی ہے۔ افسران تعلیم کی جانب سے اساتذہ کو بلاجواز سزائیں دی جاتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کے عروج و زوال کا براہ راست تعلق اس کے اساتذہ کے حال سے ہوتا ہے ، جس معاشرے میں استاد کا سر فخر سے بلند رہتا ہے ، وہاں ترقی کی راہیں خود بخود ہموار ہو جاتی ہیں، اور جہاں استاد معاشرتی تنزلی یا معاشی بدحالی کا شکار ہو جائے ، وہاں شعور کی شمعیں گل ہونے لگتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اساتذہ کو پرسکون طریقہ سے تدریس کا عمل جاری رکھنے کے لئے ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں بند کی جانی چاہیے، اساتذہ کے سکیلوں کی فوراً اپ گریڈیشن کی جانی چاہیے۔ بہتر کارکردگی دکھانے والے ایجوکیٹرز کو مستقل کیا جانا چاہیے ، اساتذہ کی ہیلتھ انشورنس کی جانی چاہیے تاکہ اساتذہ بہتر طور پر تدریسی خدمات سرانجام دے سکیں۔





