Column

خوراک کا زیاں، بھوک اور ہماری اجتماعی ذمہ داری

خوراک کا زیاں، بھوک اور ہماری اجتماعی ذمہ داری

تحریر: رفیع صحرائی

دنیا میں ایک طرف کروڑوں انسان ایسے ہیں جو دو وقت کی مناسب غذا کے لیے ترستے ہیں اور دوسری طرف ہر روز لاکھوں ٹن خوراک کوڑے دانوں کی نذر ہو جاتی ہے۔ یہ صرف معاشی بے احتیاطی نہیں بلکہ انسانیت کا ایک ایسا المیہ ہے جس کے اثرات بھوک، غربت، ماحولیاتی آلودگی، پانی کے ضیاع اور موسمیاتی تبدیلی تک پھیل رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب دنیا میں خوراک پیدا ہو رہی ہے تو پھر بھوک کیوں باقی ہے؟ اس سوال کا ایک اہم جواب خوراک کی پیداوار سے زیادہ اس کے نقصان، ضیاع، ناقص تقسیم اور غیر مساوی رسائی میں پوشیدہ ہے۔

اقوام متحدہ نے 29ستمبر کو ’’ خوراک کے نقصان اور ضیاع کے بارے میں آگاہی کا عالمی دن‘‘ قرار دیا ہے تاکہ دنیا کو اس مسئلے کی سنگینی کا احساس دلایا جا سکے۔ 2026ء میں اس دن کا موضوعThe Transformative Potential of Reducing Food Loss and Wasteرکھا گیا ہے۔ یعنی خوراک کے نقصان اور ضیاع میں کمی محض کھانا بچانے کا عمل نہیں بلکہ ایسا اقدام ہے جو غذائی تحفظ بہتر بنانے، قدرتی وسائل پر دبائو کم کرنے، گرین ہاس گیسوں کے اخراج میں کمی اور معاشی پیداواریت بڑھانے میں تبدیلی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

اعدادوشمار اس مسئلے کی ہولناکی واضح کرتے ہیں۔ UNEPکے مطابق 2022ء میں دنیا بھر میں قریباً 1.05ارب ٹن خوراک ضائع ہوئی، جو صارفین کے لیے دستیاب خوراک کا قریباً 19فیصد تھی۔ اس ضیاع میں گھروں کا حصہ قریباً 60فیصد، فوڈ سروسز کا 28فیصد اور ریٹیل کا 12فیصد تھا۔ گویا خوراک کا زیاں صرف شادی ہالوں، ہوٹلوں یا ریستورانوں کا مسئلہ نہیں، ہمارے گھروں کے باورچی خانے بھی اس میں نمایاں بلکہ سب سے زیادہ کردار ادا کرتے ہیں۔

اس سے بھی زیادہ تشویش ناک حقیقت یہ ہے کہ خوراک ضائع ہونے سے صرف ایک لقمہ ضائع نہیں ہوتا۔ اس لقمے کو پیدا کرنے کے لیے استعمال ہونے والی زمین، پانی، بیج، کھاد، توانائی، محنت، پیکنگ، ٹرانسپورٹ اور وقت بھی ضائع ہوتا ہے۔ FAOاور UNEPکے مطابق خوراک کا نقصان اور ضیاع عالمی گرین ہاس گیسوں کے اخراج میں قریباً 8سے 10فیصد تک حصہ ڈالتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ 2026ء کا موضوع محض ’’ کھانا ضائع نہ کریں‘‘ کی تلقین تک محدود نہیں۔ اس کے پیچھے ایک وسیع تصور ہے کہ اگر ہم کھیت سے دسترخوان تک خوراک کے ہر مرحلے کو بہتر بنائیں تو اس کے بیک وقت کئی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ خوراک زیادہ لوگوں تک پہنچے گی، کسان کا نقصان کم ہوگا، قدرتی وسائل محفوظ ہوں گے، ماحول پر دبا کم ہوگا اور معیشت میں بھی بہتری آئے گی۔

خوراک کا نقصان کھیت ہی سے شروع ہو جاتا ہے۔ نامناسب وقت پر کٹائی، روایتی طریقہ کاشت و برداشت، کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں کا حملہ، مزدوروں کی کمی اور مارکیٹ تک رسائی کے مسائل فصل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس کے بعد مناسب گوداموں، کولڈ چین، معیاری پیکیجنگ اور بہتر ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی پھلوں، سبزیوں، دودھ، گوشت اور دیگر اشیائے خورونوش کے ایک بڑے حصے کو ناقابلِ استعمال بنا دیتی ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں یہ مسئلہ مزید سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ ایک طرف مہنگائی نے عام آدمی کے لیے خوراک خریدنا مشکل بنا دیا ہے اور دوسری طرف شادی بیاہ، دعوتوں، ہوٹلوں اور گھریلو تقریبات میں ضرورت سے زیادہ کھانا تیار کرکے ضائع کرنا ہمارے معاشرتی رویوں کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ پلیٹ میں ضرورت سے زیادہ کھانا ڈالنا، بچا ہوا کھانا محفوظ نہ کرنا، صرف شکل و صورت کی بنیاد پر پھلوں اور سبزیوں کو مسترد کرنا اور ضرورت سے زیادہ اشیا خرید لینا ایسے معمولات ہیں جنہیں بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں یہ پریکٹس عام ہے کہ شادی بیاہ کے موقع پر گوشت سے پلیٹیں پوری کی پوری بھر لی جاتی ہیں اور جب وہ نہیں کھایا جاتا تو اسی طرح چھوڑ دیا جاتا ہے جو ظاہر ہے ضائع ہو جاتا ہے۔

اسلام نے صدیوں پہلے رزق کے احترام اور اسراف سے اجتناب کا اصول واضح کر دیا تھا۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: ’’ کھائو اور پیو اور حد سے زیادہ خرچ نہ کرو، بے شک وہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ ( الاعراف: 31)۔ یہ حکم صرف مالی اسراف تک محدود نہیں؛ خوراک جیسی نعمت کا بلا ضرورت ضائع کرنا بھی اسی اخلاقی تصور کے دائرے میں آتا ہے۔

اسی طرح قرآن ہمیں مسکین، محتاج اور ضرورت مند کا حق ادا کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر ہمارے پاس ضرورت سے زیادہ خوراک موجود ہے اور وہ محفوظ و قابلِ استعمال ہے تو اسی کوڑے دان میں پھینکنے کے بجائے کسی مستحق تک پہنچانا نہ صرف انسانی ہمدردی بلکہ معاشرتی ذمہ داری بھی ہے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ خوراک کے ضیاع کے خلاف صرف تقریریں اور سیمینار نہ ہوں بلکہ عملی نظام تشکیل دیا جائے۔ حکومت کسانوں کو جدید ذخیرہ گاہیں، کولڈ اسٹوریج اور بہتر نقل و حمل کی سہولت فراہم کرے۔ مارکیٹ میں صرف خوب صورت شکل و صورت کے پھل اور سبزیاں قبول کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ ہوٹلوں، ریستورانوں اور شادی ہالوں میں محفوظ اضافی خوراک کی ذمہ دارانہ ترسیل کے لیے فوڈ ڈونیشن نظام وضع کیا جائے۔ فلاحی اداروں اور فوڈ بینکس کو سرکاری و نجی تعاون فراہم کیا جائے۔

اسکولوں میں بچوں کو ابتدا ہی سے ’’ خوراک کی قدر‘‘ کا شعور دیا جائے۔ گھروں میں ہفتہ وار خوراک کی منصوبہ بندی کی جائے، ضرورت کے مطابق خریداری کی جائے، مناسب مقدار میں کھانا پکایا جائے اور بچ جانے والی صاف اور محفوظ خوراک کو مناسب طریقے سے محفوظ یا مستحق افراد تک پہنچایا جائے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ خوراک بچانا بھوک کا مکمل علاج نہیں۔ جنگیں، غربت، مہنگائی، موسمیاتی تبدیلی، کمزور انفراسٹرکچر، ناقص تقسیم اور خوراک تک عدم رسائی بھی غذائی عدم تحفظ کی بڑی وجوہ ہیں۔ تاہم خوراک کے نقصان اور ضیاع میں کمی ایک ایسا عملی قدم ہے جو بیک وقت

کئی مسائل کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

29 ستمبر ہمیں یہ یاد دلانے کا دن ہے کہ رزق صرف ہمارے دسترخوان کی چیز نہیں بلکہ کسان کی محنت، قدرت کے وسائل اور معاشرے کی مشترکہ امانت ہے۔ اگر دنیا کا ایک حصہ بھوک سے لڑ رہا ہو اور دوسرا حصہ قابلِ استعمال خوراک کو کوڑے میں پھینک رہا ہو تو یہ تضاد ختم ہونا چاہیے۔

آئیے! اس دن محض ایک عہد نہیں بلکہ ایک عادت تبدیل کریں۔ اتنا ہی خریدیں جتنی ضرورت ہو، اتنا ہی پکائیں جتنا کھایا جا سکے، پلیٹ میں اتنا ہی لیں جتنا کھا سکیں اور جو محفوظ خوراک اضافی بچ جائے اسے کسی مستحق تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ خوراک کا احترام دراصل انسان کا احترام ہے۔ اور شاید 2026ء کے عالمی دن کا اصل پیغام بھی یہی ہے کہ خوراک کا ضیاع کم کرنا صرف کھانا بچانا نہیں، مستقبل بچانا ہے۔

جواب دیں

Back to top button