ColumnTajamul Hussain Hashmi

قانون سازی سے متاثر معاشرتی رویے؟

قانون سازی سے متاثر معاشرتی رویے؟

تجمّل حسین ہاشمی

ویسے یہ رواج ہمارے ہاں عام ہے جب بھی اقتدار ملے، فوراً اپنے مخالفین کو جیل میں فِکس کرو۔ جھوٹے سچے پرچے دو۔ ویسے جیل میں فِکس ہونے والوں کو اچھی خاصی سیاسی شہرت مل جاتی ہے، تازہ دم ووٹر بھی میسر ہو جاتے ہیں۔ ان کے ووٹ بینک میں اضافہ ہوتا ہے، بلکہ یوں کہیں کہ اگلی باری پکی ہو جاتی ہے۔ یہی کچھ ماضی سے ثابت بھی ہوتا رہا ہے۔ آمریت کو برا کہنے والے جمہوری انہیں کے کندھوں پر چلتے رہے ہیں۔ جمہوری لیڈر بھی اپنے حریفوں کو فِکس کرکے اپنے زخموں کی تسکین چاہتے رہے اور امر بھی یہی چاہتا رہا۔ اپنے دورِ حکومت میں ایک دوسرے پر جھوٹے سچے کیس بنا کر اپنے انتقام کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن ابھی تک کسی بھی جماعت کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوئی۔ غریبوں کو ٹھنڈا کیا ہوا ہے۔ انتقام کی آگ میں گزشتہ کئی سالوں میں تیزی ہے۔ اس نفرت کی آگ میں اب خواتین، بچوں اور عمر رسیدہ افراد بھی محفوظ نہیں رہے۔ گزشتہ سالوں سے چادر اور چار دیواری کا تقدس ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ پولیس جہاں چاہے جس گھر میں چاہے گھس جاتی ہے، یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں، کیونکہ غریبوں اور ان کی عورتوں کے ساتھ ایسے رویے عام ہیں، جن کا گناہ کوئی نہیں وہ گرفتار ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سیاسی لیڈر کے لیے جیل مفادات یا پھر لین دین کا نام رہ گیا ہے، کیونکہ وہ اپنی مظلومیت کا سیاسی فائدہ لے لیتے ہیں، جبکہ عام آدمی کے پاس نہ سیاسی پلیٹ فارم ہوتا ہے، نہ میڈیا، نہ ووٹ بینک اور نہ ہی اپنی داستان کے لیے بروقت انصاف کی فراہمی ۔ بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کو کئی بار جیل بھجوا چکی ہیں، اب یہی باری ایک تیسری سیاسی جماعت بھگت رہی ہے۔ ان کے نعروں، جلسوں میں نفرت کی کھلی آبکاری تھی۔ اب 27ستمبر کا لانگ مارچ جس سے مکر گئے، غریبوں کا کیا قصور ہے۔ اس پورے سیاسی منظر نامے نے ایک بار پھر وہی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ہم قانون کو قانون کے طور پر استعمال کر رہے ہیں یا سیاسی ضرورت کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں؟۔ عمران خان کی تین بہنوں کو 30روزہ حراست پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کی دفعہ 3کے تحت رکھا گیا ہے، ان گرفتاریوں کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج بھی کیا گیا۔ ایسا کب تک چلے گا، اسلام آباد کی حالت سب کے سامنے ہے ۔ وہاں شہریوں کو شدید مشکلات ہیں۔ ایسی جمہوریت عوام کو کیا دے رہی ہے ۔ دوسری طرف وزیرِ اطلاعات عطاء تارڑ لانگ مارچ کے حوالے سے بیانات دے رہے تھے، جیسے کوئی جنگ ہونے جا رہی ہو۔ شاید سیاسی لوگ وقت بھول جاتے ہیں اور اب عوام کو بھی بھولنے کی عادت پڑ چکی ہے۔ سیاسی نعرے بازی، بڑے بڑے بیانات اور ایک دوسرے کو ختم کرنے کے دعوے آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ عوامی بھروسہ ختم ہوتا نظر آ رہا ہے۔ آج کل سیاست میں ہمدردی حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی سامنے آ سکتا ہے، یا پھر حکومت کچھ بھی کر سکتی ہے۔ ریاستی ادارے آئین کے تابع رہتے تو بہتر تھا لیکن وہ سیاست یا سیاست ان کے تابع ہیں۔ گرفتاریوں کا خوف کب تک کارآمد رہے گا ۔ اس کو بھی ختم ہونا ہے، 8اگست 2019ء کو نیب نے چودھری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کو گرفتار کیا تھا۔ وہ اپنے والد نواز شریف سے ملاقات کے لیے کوٹ لکھپت جیل گئی تھیں، جہاں سے انہیں حراست میں لیا گیا۔ فریال تالپور کو 14جون 2019 ء کو نیب نے اسلام آباد میں جعلی اکائونٹس کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا اور ان کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دیا گیا تھا۔ آج دونوں خواتین ہمارے سامنے ہیں، اور ان کے کیسز کا انجام بھی ہمارے سامنے ہے۔ ان واقعات سے کم از کم یہ ضرور سمجھا جا سکتا ہے کہ سیاسی گرفتاری کوئی عوامی تبدیلی نہیں لا سکتی، بلکہ ان لیڈروں کی سیاست مضبوط کرتی ہے، ہمارے ہاں اقتدار بدلتا ہے، کردار بدلتے ہیں، مگر طریقہ کار اکثر وہی رہتا ہے۔ سیاسی گرفتاریوں کا سیاسی فائدہ بالآخر انہی سیاستدانوں کو ملتا ہے، لیکن اس کے برعکس غریب عوام کے ہزاروں کیس ایسے ہیں جہاں اداروں کی طرف سے ظلم اور بربریت کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔ مجرم کو بازیاب کروانے کے لیے ان کی خواتین کو اٹھا لیا جاتا ہے، رشتہ داروں کو حراست میں لے لیا جاتا ہے، اور بعض اوقات خاندان کو دبائو میں لانے کے لیے ایسے طریقے اختیار کیے جاتے ہیں جس کی آئین میں اجازت نہیں ۔ 2020ء کے موٹر وے کیس میں پولیس کارروائی کے دوران مرکزی ملزم اور اس کی اہلیہ فرار ہو گئے تھے، جس پر پولیس نے ان کی نابالغ بیٹی کو حراست میں لیا اور بعد میں اسے چائلڈ پروٹیکشن حکام کے حوالے کیا۔ اس کارروائی میں قریباً ایک درجن رشتہ داروں کو بھی حراست میں لیے جانے کی رپورٹ سامنے آئی تھی۔ یہ واقعہ صرف ایک پولیس کارروائی نہیں، بلکہ اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ جرم کسی ایک شخص نے کیا ہو تو سزا، دبائو یا حراست اس کے پورے خاندان کو کیوں بھگتنا پڑے؟۔ آج تک کسی جمہوری حکومت نے اس بارے کوئی اقدام نہیں کیا۔ ہمارے ہاں نظام ایسے ہی چل رہا ہے، اس لیے حکومتی کوششوں پر عوام کو یقین نہیں رہا، حکومتی ریلیف پر عوام کو یقین نہیں رہا، حکومتی پالیسیوں کو عوامی تنقید کا سامنا ہے۔ فیصلہ سازی میں بے سمتی، سیاسی انتقام اور قانون کی کمزوری نے معاشرے کے اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کس حکومت نے کس مخالف کو گرفتار کیا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہم ایسا نظام قائم کر رہے ہیں جہاں کل یہی قانون ہمارے سیاسی مخالف کے بجائے ہمارے اپنے لیے استعمال ہو تو بھی ہم اسے درست سمجھیں گے؟۔معاشرہ تباہی کا شکار ہو رہا ہے۔ نظام ایسے نہیں چلے گا، چاہے آپ جتنے نئے صوبے بنا لیں۔ جہاں پاکستان کے منیجنگ ایڈیٹر سردار سراج صاحب نے منجے ہوئے سیاست دان سید مشاہد حسین سید کا انٹرویو کیا، جس میں انہوں نے نئے صوبوں کے سوال پر بات کرتے ہوئے زور دیا کہ ہمیں بیرونی مشوروں کے بجائے اپنی ملکی صورتحال کو بہتر کرنا ہوگا۔ انہوں نے دو بڑے مسائل کی طرف بھی توجہ دلائی۔ یہی وہ مسائل ہیں جن پر ہمارے سیاسی لیڈر قابض رہ کر کرپشن اور لاقانونیت سے مال بنا رہے ہیں، انہیں ایسی صورتحال سوٹ کرتی ہے کیوں یہ سیاستدان نہیں کاروباری ہیں، نئے صوبے بنانا اپنی جگہ ایک انتظامی اور سیاسی بحث ہے، لیکن کیا نئے صوبے بنانے سے سیاسی انتقام ، معاشی تنائو ختم ہو جائے گا ؟ کیا اس سے پولیس کا رویہ بدل جائے گا؟ کیا اداروں میں احتساب کا نظام مضبوط ہو جائے گا؟ کیا عام شہری کو اس وقت انصاف ملنے لگے گا جب وہ کسی طاقتور سیاسی خاندان کا حصہ نہیں ہوگا ؟۔ اگر ان سوالات کا جواب نہیں ہے تو پھر صرف نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے سے معاشرے کی بنیادی مشکلات کیسے ختم ہوں گی؟۔ حکومت کو عورتوں کی پکڑ دھکڑ کے بجائے مفاہمت اور ملکی معاشی صورتحال پر توجہ دینی چاہیے۔ ماضی میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں کرتی چلی آئی ہیں۔ اس کے بعد عمران خان کے دور میں سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیوں پر سوالات اٹھتے رہے، اور آج وہی سیاسی قوتیں عمران خان اور ان کے خاندان کے حوالے سے کارروائیوں کے سوالات کا سامنا کر رہی ہیں۔ اقتدار کا پہیہ گھومتا رہتا ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس پہیے کے نیچے ہر بار عوام کیوں آتے ہیں؟۔ یہ سب کچھ نئے صوبوں سے کیسے تبدیل ہو پائے گا؟ یہی سوال عوامی ذہنوں کو منتشر کر رہا ہے۔ اصل ضرورت شاید صرف قانون سازی کی نہیں بلکہ معاشرتی رویوں اور سیاسی طرزِ عمل کی تبدیلی کی ہے۔ قانون تب ہی مضبوط ہوتا ہے جب اسے بنانے والے، نافذ کرنے والے اور اس کے تابع رہنے والے سب اس کی بالادستی کو تسلیم کریں۔ اگر قانون صرف مخالف کو قابو کرنے کا ہتھیار بن جائے تو پھر مسئلہ صوبوں کی تعداد نہیں رہتا، مسئلہ پورا نظام بن جاتا ہے۔ عوام کو نئے وعدوں سے زیادہ ایک ایسا نظام چاہیے جہاں سیاسی مخالف کو دشمن نہ سمجھا جائے، جہاں عورت کو سیاسی انتقام کا ذریعہ نہ بنایا جائے، جہاں غریب کے گھر کی چار دیواری بھی اتنی ہی مقدس ہو جتنی کسی بااثر شخص کی، اور جہاں گرفتاری جرم کی بنیاد پر ہو، سیاست کی بنیاد پر نہیں۔ ورنہ کل کی حکومت آج کے مخالف کو جیل بھیجے گی، آج کا حکمران کل جیل جائے گا ۔

جواب دیں

Back to top button