Columnمحمد مبشر انوار

دانش بروئے کار یا نئی حکمت عملی 

دانش بروئے کار یا نئی حکمت عملی

تحریر : محمد مبشر انوار(ریاض)

ملکی صورتحال بظاہر فی الوقت ایک بڑے بحران سے بچ گئی کہ تحریک انصاف کی جانب اپنے مجوزہ 27ستمبر، آج کے روز کا لانگ مارچ موخر ؍ ملتوی کر دیا گیا ہے اور لانگ مارچ کے روح رواں وزیر اعلی کے پی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے، کچھ حقائق کا سہارا کہیں یا جواز لانگ مارچ موخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سہیل آفریدی کی جانب سے جو باتیں کی گئی ہیں، ان میں سب سے اہم بات، کے پی کو باقی پاکستان سے الگ کرنے کی سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے، اٹک پل پر بچھائی گئی لمبی کیلوں کی ویڈیو دکھا کر کئی سوال کئے تو اس کے ساتھ ساتھ واضح طور پر کہا کہ کے پی کے ساتھ اس قسم کے روئیے سے وفاق ہمیں پاکستان سے الگ نہیں کر سکتا اور ہم پاکستان کے اتحاد کو قائم بھی رکھیں گے اور اس کو بچائیں گے۔ علاوہ ازیں! سہیل آفریدی کا زیادہ زور پنجاب وزیر اعلی کے بیان کو خصوصی طور پر اور زیادہ زور دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی وزیر اعلی کو بھارت سے خطرہ نہیں لیکن ان کو پاکستان کی دیگر اکائیوں سے خطرہ ہے، اس روئیے سے کیا سمجھا جائے؟۔ بہرحال ایک بات سامنے نظر آ رہی ہے کہ اس لانگ مارچ موخر کرنے سے وقتی طور پر تو پاکستان بچ گیا ہے مگر اس تاخیر سے کیا کچھ اخذ کیا جا سکتا ہے؟، میری دانست میں اس کے تین پہلو نظر آتے ہیں کہ کیا واقعی دانش و حکمت بروئے کار آئی ہے ؟، کیا واقعی ’’ مستقل علاج ‘‘ ممکن ہوتا؟، کیا واقعی یہ تحریک انصاف کی نئی حکمت عملی ہے؟۔ دانش و حکمت کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس کے بروئے کار آنے کا ثبوت اسی صورت ہو سکتا ہے کہ اس قسم کے احتجاج کا امکان مکمل طور پر ختم ہو جائے اور اپوزیشن باقی ماندہ مدت کے لئے بالکل خاموشی اختیار کر لے کہ اگر اس وقت حالات کو سمجھتے ہوئے ایک قدم پیچھے ہٹایا ہے تو پھر اس پر قائم رہنا چاہئے ۔ اس کا امکان بالکل نہ ہونے کے برابر دکھائی دیتا ہے کہ جو انتظامات، اقدامات حکومت کی جانب سے کئے گئے تھے، ان کے ہوتے ہوئے یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ یہ احتجاج کسی تصادم کے بغیر ہو جاتا کہ اسلام آباد کو جس طرح کنٹینرز سے ڈھانپ دیا گیا تھا، اس حوالے سے ایک واٹس ایپ میسج موصول ہوا، جس میں لکھا تھا کہ سمندر کے بغیر دنیا کی واحد بندرگاہ ، اسلام آباد، اور اس میسج میں اسلام آباد کے گرد کنٹینرز دکھائے گئے تھے۔ لانگ مارچ کا اس قدر خوف کہ اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں کو مکمل طور پر بند کرنے کے انتظامات کئے جا چکے تھے، حالات و واقعات کے مطابق ان پر عمل درآمد موقع کی مناسبت سے کیا جانا تھا۔ شنید یہ بھی ہے کہ اسلام آباد میں پچاس پچپن ہزار کی پولیس نفری بھی اکٹھی کر لی گئی تھی ، جو حکومتی زعماء کے مطابق صرف پانچ ہزار مظاہرین کو روکنے کی غرض سے تھی، سوال تو بنتا ہے کہ کیا پاکستانی اتنے طاقتور ہو گئے ہیں کہ صرف پانچ ہزار اکٹھے ہو جائیں تو ان کو روکنے کے لئے پچاس پچپن ہزار کی پولیس نفری درکار ہے؟، جبکہ ایسے چھوٹے موٹے مظاہرے کے لئے بالعموم اس نفری کا پانچ فیصد بھی بہت سے زیادہ کافی رہتا ہے۔ علاوہ ازیں جس طرح کنٹینرز کو کیل کانٹوں سے لیس کیا گیا تھا، وہ اپنی نوعیت کا سب سے منفرد اقدام تھا، جو اس سے قبل کبھی دیکھنے کو نہیں ملا تھا۔ زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے سہیل آفریدی نے، جہاں آج لانگ مارچ کا لائحہ عمل دینا تھا، باہمی مشاورت سے اس لانگ مارچ کو موخر کرنے کا اعلان کیا کہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری صرف حکومت وقت پر نہیں بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کی بھی ہے، لیکن بدقسمتی سے حکومت وقت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کو دیکھتے ہوئے یہ نہیں لگتا کہ وہ اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرنے کے لئے کئے گئے ہیں، لہذا جس دانش و حکمت کی توقع بالعموم شہری حکومتوں سے کرتے ہیں، اس کا مظاہرہ اپوزیشن کی جانب سے نظر آیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے گو اس پر نمک چھڑکنے یا اکسانے کی کوشش ضرور کی ہے، اور انہوں نے اس اعلان کے بعد کہا ہے کہ تحریک انصاف کی اپنی تیاری ہی نہیں تھی اور نہ ہی وہ جرات کہ وہ لانگ مارچ کر سکتے، یہ بزدلوں کی پارٹی ہے اگر ہمت ہے تو لانگ مارچ کرکے دکھائیں۔ جب معاملات سنبھل رہے ہیں، تو ایسی زبان سے گریز کیا جانا چاہئے۔ رہی بات مستقل علاج کی، تو اس حوالے سے وزیر داخلہ کا بیان لفاظی ہی سمجھا جا سکتا ہے کہ سیاسی جماعتیں ایسے اقدامات یا زبردستی سے ختم نہیں ہوتیں اور نہ انہیں اس طرح تشدد سے ختم کیا جا سکتا ہے، اس کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو طاقت کے ذریعہ ختم نہیں کیا جا سکا بلکہ طاقتور اپنے وقت کے ساتھ ختم ہوگئے اور ان طاقتوروں کا سورج غروب ہوتے ہی، سیاسی جماعت دوبارہ پنپنے لگی۔ جو بھی سیاسی جماعت عوام میں غیر مقبول ہوئی یا اس کی جڑیں عوام میں ختم ہوئی، اس کی وجہ بہرحال طاقت کا استعمال یا تشدد نہیں رہا بلکہ اس سیاسی جماعت کی اپنی کارکردگی یا پالیسیاں ہی اسے عوام میں غیر مقبول کرتی رہی ہیں، ماسوائے ایسی سیاسی جماعتوں کے جو نوشتہ دیوار پڑھنے کے باوجود چور دروازوں سے اقتدار کی غلام گردشوں میں، اپنی عزت نفس گروی رکھ کر اقتدار نشین ہوئی ہیں۔ اس وقت بھی اگر غیر جانبدرانہ دیکھا جائے تو مسند اقتدار پر جلوہ افروز سیاسی جماعتیں، اسی چور دروازے سے اقتدار میں بیٹھی ہیں، جبکہ عوام میں ان کی پذیرائی اور جڑیں نہ ہونے کے برابر رہ چکی ہیں، لیکن چونکہ ان سیاسی جماعتوں کے اکابرین کو ’’ اقتدار کے راستے‘‘ کا بخوبی علم ہے، لہذا اس راستے کو اختیار کرتے ہوئے، وہ اقتدار میں موجود ہیں۔ دوسری طرف اس مخصوص راستے سے تخت نشین ہونے والوں کو عوامی مسائل سی کوئی دلچسپی نہیں ہوتی، بلکہ ان کی ذاتی نمود و نمائش و مفادات ہی ترجیح ہوتے ہیں، اور وہی اس وقت ہمیں دیکھنے کو مل رہے ہیں، اگر ان سیاسی جماعتوں کی نشو و نما ہی جمہوری اقدار پر ہوتی، اور اگر واقعتا یہ ’’ ووٹ کی عزت‘‘ کو سمجھتے، سپورٹس مین سپرٹ سے واقف ہوتے، تو یقینا ایسے اقتدار کی بجائے دوبارہ محنت کرتے اور عوام نبض کو سمجھتے ہوئے اپنی ترجیحات کا تعین کر کے، عوامی حمایت سے اقتدار میں آتے، لیکن ایسی سوچ کا اظہار بھی یہ بونے سیاستدان صرف ’’ شاہ ‘‘ کو متاثر کرنے کے لئے ہی کرتے ہیں۔ وزیر داخلہ بھی اگر ان حقائق کو سمجھتے اور پروردہ نہ ہوتے تو یقینا ’’ مستقل علاج‘‘ اس وجہ کا کرتے، جس کے باعث پاکستان آج اس صورتحال سے دوچار ہے۔

تحریک انصاف نے اس لانگ مارچ اور سٹریٹ موومنٹ کے لئے اچھی محنت کی اور بالخصوص سہیل آفریدی کی جانب سے جو کاوشیں ہوئی، ان کو نہ سراہنا زیادتی ہو گی، کہ مختصر وقت میں ایک ایسی سیاسی جماعت کے کارکنوں کو گرمانا اور سڑکوں پر لانے کے لئے تیار کرنا، جو دو مرتبہ قبل بھی یہ مشق لاحاصل کر چکیں ہوں، بلکہ اسلام آباد کے ڈی چوک میں اپنے ساتھیوں پر سیدھی فائرنگ اور لاشیں دیکھ چکے ہوں، ایک بڑا کارنامہ کہلایا جا سکتا ہے۔ تاہم سہیل آفریدی کی جانب سے عین آخری لمحات میں، جب تحریک انصاف کے کارکنوں اور قوم ان کی طرف سے ایک موثر لائحہ عمل کا انتظار کر رہی تھی، لانگ مارچ کو موخر کر دینا بھی کیا تحریک انصاف کی حکمت عملی و لائحہ عمل ہو سکتا ہے؟۔ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا مقصد تو یہی تھا کہ پاکستان میں سڑکیں بند کرکے احتجاج کیا جائے اور حکومت سے اپنے مطالبات منوائے جائیں، جو عمران خان کے مناسب علاج کے متعلق، عمران خان کے مقدمات کی شنوائی سے متعلق اور عمران خان کی ملاقاتوں سے متعلق تھے، جن کو کسی بھی صورت غیر مناسب نہیں کہا جا سکتا۔ حکومتی اقدامات نے تحریک انصاف کا مقصد تو خود پورا کر دیا کہ جس طرح سڑکوں کو بند کیا گیا، ان پر خندقیں کھودی گئی، سڑکوں پر بڑے بڑے کیل رکھے گئے، موٹر ویز اور اہم شاہراہوں کو ازخود بند کیا گیا، تو جو کام تحریک انصاف کرنے کے لئے لانگ مارچ کرنا چاہ رہی تھی، وہ کام خود حکومت نے کر دیا۔ رہی بات مطالبات کی تو محسن نقوی نے اپنی پریس کانفرنس میں خود اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ عمران خان کو طبی سہولیات کے لئے ہسپتال لایا جاتا ہے، البتہ ہسپتال کے متعلق یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال بھی لایا گیا ہے، واللہ اعلم بالصواب البتہ مقدمات کی سماعت کے حوالے سے بھی اگلے چند دن میں واضح ہو جائے گا کہ کیا واقعی عمران خان کے مقدمات کی سماعت جلد ہوتی ہے یا نہیں اور یہ بھی کہ کیا مقدمات میرٹ پر سنے جاتے ہیں یا نہیں؟۔ اسی طرح ملاقاتوں کے حوالے سے بھی حقائق سامنے آ جائیں گے اور اگر واقعتا تحریک انصاف کے یہ مطالبات پورے ہوتے ہوئے نظر آئے تو یقین طور پریہ بات کہی جا سکتی ہے کہ حکمت و دانش بروئے کار آئی ہے رہی بات اس ساری مشق کی تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ پس پردہ معاملات بھی ساتھ ساتھ چلتے رہے ہو ں گے اور آخر وقت پر طے ہوئے ہوں گے یا بصورت دیگر فریقین نے رنگ اچھا بھرا ہے۔

جواب دیں

Back to top button