Column

پٹرول لیوی اور وزیراعظم کے لئے متبادل ریوینیو پلان

پٹرول لیوی اور وزیراعظم کے لئے متبادل ریوینیو پلان
تحریر: عبدالرشید مرزا
16ستمبر سے حافظ نعیم الرحمان امیر جماعت اسلامی پاکستان چاروں صوبوں میں دھرنے دے رہے ہیں، 3ستمبر کو ملک گیر شٹر ڈان ہڑتال کی کال دی جسے کاروباری طبقے نے خوش آمدید کہا، اب ’’ اسلام آباد مارچ‘‘ 20ستمبر کو کرنے جارہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ سیاسی سکورنگ نہیں بلکہ حقیقتاً عوام پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے شدید پریشان ہیں جس کی حافظ نعیم الرحمٰن نے نشان دہی ہی نہیں کی بلکہ پچھلے 31دنوں سے سڑکوں پر ہیں ان کا مطالبہ کہ لیوی پٹرولیم میں سے ختم کی جائے۔
وزیر اعظم کے لئے ریوینیو پلان پیش کر رہا ہوں جس سے وہ آسانی سے پٹرول لیوی ختم کر سکتے ہیں۔ مالی سال 27۔2026ء میں پٹرولیم لیوی کا ہدف 1677ارب روپے ہے، پٹرول کی قیمت کا مسئلہ اب صرف پٹرول کا مسئلہ نہیں رہا۔ یہ مہنگائی، ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت اور عام آدمی کے ماہانہ بجٹ کا مسئلہ بن چکا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان کا پٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ سیاسی احتجاج سے آگے بڑھ کر ایک بنیادی معاشی سوال بن چکا ہے۔
پاکستان میں ایک عجیب معاشی روایت بن چکی ہے۔ حکومت کو جب ریونیو کی ضرورت ہوتی ہے تو اسے سب سے آسان راستہ عام آدمی کی جیب نظر آتا ہے۔ پٹرول، بجلی، گیس، موبائل فون، بینکنگ اور روزمرہ استعمال کی اشیا پر بلواسطہ ٹیکس لگا دیں؛ وصولی خود بخود ہو جاتی ہے۔ لیکن ملک کی اصل دولت کہاں ہے؟
پٹرولیم لیوی: اصل اعداد کیا ہیں؟ وفاقی بجٹ 27۔2026کے مطابق حکومت نے ایف بی آر ٹیکس ریونیو کا ہدف 15.264 ٹریلین روپے مقرر کیا ہے، جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5.336ٹریلین روپے ہے۔ کل وفاقی وسائل کا ہدف قریباً 18.771ٹریلین روپے رکھا گیا ہے۔
اسی بجٹ میں پٹرولیم لیوی سے 1677ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہ رقم معمولی نہیں؛ یہ وفاقی حکومت کے پورے 1000ارب روپے کے PSDPسے قریباً 677ارب روپے زیادہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں حکومت ایک ایسے ٹیکس پر اتنا انحصار کر رہی ہے جو براہ راست عوام کی نقل و حرکت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں سے جڑا ہوا ہے کہ اس سے حاصل ہونے والی رقم پورے وفاقی ترقیاتی پروگرام سے بھی زیادہ ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پٹرولیم لیوی گزشتہ چند برسوں میں غیر معمولی طور پر بڑھی ہے۔2015۔16میں پٹرولیم لیوی کی وصولی قریباً 149ارب روپے تھی۔24۔2023ء میں یہ قریباً 1019ارب روپے، 25۔2024میں 1161ارب روپے سے زائد، 26۔2025کے نظر ثانی شدہ تخمینے میں 1498ارب روپے اور 27۔2026کے بجٹ میں 1677ارب روپے کردی گئی ہے۔ حالیہ مالیاتی اعدادوشمار بھی بتاتے ہیں کہ جولائی تا مارچ 26۔2025میں پٹرولیم لیوی سے حکومت نے 1205ارب روپے وصول کیے تھے، جبکہ پورے مالی سال کے لیے نظر ثانی شدہ ہدف 1498ارب روپے تھا۔
اس لیے حافظ نعیم الرحمان کا یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ عوام کو پٹرول کے ذریعے کتنا مزید نچوڑا جائے گا؟ آج پٹرول کی قیمت صرف عالمی تیل کی قیمت کا نتیجہ نہیں، 15ستمبر 2026ء کو حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 4.42روپے فی لٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6.10روپے فی لٹر اضافہ کیا، جس کے بعد پٹرول 380.24روپے فی لٹر اور ڈیزل 409.42روپے فی لٹر ہوگیا۔ اس ماحول میں اگر حکومت فی لٹر ٹیکس اور لیوی کو بھی بلند رکھتی ہے تو اس کا اثر صرف گاڑی کے مالک پر نہیں پڑتا۔ ایک ٹرک کا ڈیزل مہنگا ہوگا تو مال برداری مہنگی ہوگی۔ مال برداری مہنگی ہو گی تو آٹا، سبزی، پھل، دودھ، تعمیراتی سامان اور دیگر اشیا مہنگی ہوں گی۔ یعنی پٹرولیم لیوی دراصل معیشت کے ہر شعبے پر بلواسطہ ٹیکس بن جاتی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا سوال اگر 1677ارب روپے پٹرولیم لیوی سے نہ آئیں تو یہ رقم کہاں سے آئے گی؟
یہ رقم ایک ہی جگہ سے نہیں، دس مختلف معاشی ذرائع سے پیدا کی جاسکتی ہے۔ اور ان میں سے بعض ذرائع ایسے ہیں جہاں حکومت پہلے ہی بڑی رقم چھوڑ رہی ہے۔
سب سے پہلے مختلف شعبوں میں ٹیکس چھوٹیں دی ہوئی ہے انہیں ختم کیا جائے، ایف بی آر کے Tax Expenditure Report 2026 کے مطابق مختلف ٹیکس استثنا، رعایتوں، زیرو ریٹنگ اور خصوصی ٹیکس سہولتوں کے باعث 26۔2025میں حکومت کی متوقع ٹیکس آمدن میں قریباً 2352.81ارب روپے کی کمی ہوئی۔ پٹرولیم لیوی کا ہدف 1677ارب روپ اور ٹیکس اخراجات ؍ رعایتوں کی مالیت 2353ارب روپے ہے یعنی ٹیکس رعایتوں کی مجموعی مالیت پٹرولیم لیوی کے ہدف سے قریباً 676ارب روپے زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وزیراعظم کل صبح تمام ٹیکس چھوٹیں ختم کر دیں۔ ایسا کرنا صنعت، برآمدات یا کم آمدنی والے طبقوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ لیکن سوال ضرور پیدا ہوتا ہے، کون سی ٹیکس چھوٹ واقعی معاشی فائدہ پیدا کر رہی ہے اور کون سی صرف مخصوص گروہوں کو فائدہ دے رہی ہے؟ پہلا حل تو یہ ہے وزیراعظم ایک Tax Expenditure Review Commissionقائم کریں۔ ہر بڑی ٹیکس چھوٹ کے سامنے تین سوال ہوں:1، اس سے خزانے کو کتنے ارب کا نقصان ہے؟۔2، اس کے بدلے کتنے روزگار پیدا ہوئے؟۔3، اس سے برآمدات یا سرمایہ کاری میں کتنا اضافہ ہوا؟۔ جس رعایت کا کوئی معاشی جواز نہ ہو، اسے مرحلہ وار ختم کیا جائے۔ اگر صرف ٹیکس رعایتوں کا ایک محدود حصہ بھی واپس حاصل کرلیا جائے تو پٹرولیم لیوی کم کرنے کے لیے بڑا مالیاتی راستہ نکل سکتا ہے۔
دوسرا شعبہ: ایف بی آر کا موجودہ نظام جسے بہتر کرنے کی ضرورت ہے، 2026۔27ء میں ایف بی آر کا ہدف 15.264ٹریلین روپے ہے، جو 26۔2025ء کے نظر ثانی شدہ 12.983ٹریلین روپے سے قریباً 18فیصد زیادہ ہے۔ لیکن یہاں اصل مسئلہ صرف ٹیکس کی شرح نہیں۔ اصل مسئلہ Tax Baseہے۔ ایف بی آر کو انہی لوگوں سے مزید ٹیکس نہیں لینا چاہیے جو پہلے ہی ٹیکس دے رہے ہیں۔ نئے ٹیکس دہندگان تلاش کیے جائیں۔ جس شخص کے نام پر کروڑوں کی جائیداد ہے، مہنگی گاڑیاں ہیں، متعدد کاروبار ہیں اور بینکنگ لین دین کروڑوں میں ہے، اس کی آمدن کا ڈیٹا خود بخود ٹیکس نظام سے جڑنا چاہیے۔ اس لئے ٹیکس کی شرح بڑھانے سے پہلے ٹیکس بیس بڑھائیں۔
تیسرا شعبہ جہاں سے ریوینیو حاصل کیا جا سکتا ہے وہ رئیل اسٹیٹ ہے پاکستان میں رئیل اسٹیٹ ایک بہت بڑا معاشی شعبہ ہے۔ حکومت کو عام گھر خریدنے والے شہری کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ اصل توجہ ہونی چاہیے: بڑی کمرشل جائیدادوں پر، بڑے پلازوں پر، مہنگی غیر پیداواری زمین پر، بڑے پراپرٹی ٹرانزیکشنز پر، غیر معمولی کیپٹل گین پر، اور حقیقی مارکیٹ ویلیو سے کم ظاہر کی جانے والی جائیدادوں پر۔
اگر کوئی شخص کروڑوں روپے کی پراپرٹی خریدتا ہے تو حکومت کے پاس یہ جاننے کا حق ہونا چاہیے کہ اس رقم کی آمدن کہاں سے آئی۔ پٹرول خریدنے والے کا ڈیٹا حکومت کے پاس ہے، تو کروڑوں کی جائیداد خریدنے والے کا ڈیٹا بھی ہونا چاہیے۔
چوتھا شعبہ ریونیو، بڑی زرعی آمدن ہے، پاکستان کی FY2025-26معیشت میں زراعت نے 2.89فیصد، صنعت نے 3.51 فیصد اور خدمات کے شعبے نے 4.09فیصد نمو کی۔ مجموعی GDPنمو 3.7فیصد رہی۔ زراعت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا مطلب چھوٹے کسان کو مزید بوجھ دینا نہیں۔ بلکہ حکومت کو دو الگ طبقات بنانے چاہئیں: چھوٹا کسان = سہولت۔ بڑی تجارتی زرعی آمدن =مناسب ٹیکس۔ بڑے زرعی کاروبار، کمرشل فارمز اور غیر معمولی زرعی آمدن کو جدید ڈیجیٹل ریکارڈ کے ذریعے دستاویزی بنایا جائے۔
پانچواں اہم شعبہ: اسمگلنگ کی روک تھام ہے، اسمگلنگ صرف کسٹمز ڈیوٹی کا نقصان نہیں۔ یہ مقامی صنعت کو بھی تباہ کرتی ہے۔ اگر غیر قانونی طور پر آنے والا سگریٹ، کپڑا، الیکٹرانکس، پٹرول یا دوسری اشیا قانونی کاروبار کا مقابلہ کرے گی تو ٹیکس دینے والا کاروباری شخص پیچھے رہ جائے گا۔ لہٰذا حکومت کو سرحدی اسمگلنگ کے خلاف ڈیجیٹل ٹریکنگ، اسکیننگ، بینکنگ ڈیٹا اور اداروں کے مشترکہ آپریشن کا نظام بنانا چاہیے۔ یہاں سے حاصل ہونے والا اضافی ریونیو ایک طرف، مقامی صنعت کا تحفظ دوسری طرف۔
چھٹا شعبہ جہاں سے ریوینیو حاصل کیا جا سکتا ہے، بجلی اور گیس کے نقصانات، پٹرولیم لیوی کم کرکے عوام کو ریلیف دینا ہے تو توانائی کے شعبے میں ضائع ہونے والی رقم بھی روکنا ہوگی۔ بجلی اور گیس چوری، لائن لاسز، غیر قانونی کنکشن اور بڑے نادہندگان کے خلاف موثر کارروائی صرف ’’ قانون نافذ کرنے‘‘ کا معاملہ نہیں۔ یہ ریونیو پالیسی بھی ہے۔ جو رقم آج ضائع ہورہی ہے، اسے بچانا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا نیا ٹیکس لگانا۔
ساتواں شعبہ: سرکاری اخراجات میں کمی، وفاقی بجٹ 27۔2026میں کل اخراجات 18.771ٹریلین روپے دکھائے گئے ہیں۔ ان میں 8.054ٹریلین روپے سود ؍ مارک اپ ادائیگیوں کے لیے مختص ہیں، جبکہ دفاع کے لیے 3.000ٹریلین روپے، پنشن کے لیے 1.169ٹریلین روپے اور سبسڈیز کے لیے 1.091ٹریلین روپے رکھے گئے ہیں۔
صرف سود کی ادائیگی کل وفاقی بجٹ کے قریباً 43فیصد کے برابر ہے۔ یہ پاکستان کے مالیاتی مسئلے کی اصل سنگینی ہے۔ اس لیے پٹرولیم لیوی کے خاتمے کی بحث کو صرف پٹرول تک محدود نہیں کرنا چاہیے اصل سوال قرض، سود، حکومتی اخراجات اور کمزور مالیاتی ڈھانچے کا ہے۔ اگر حکومت قرضوں کی لاگت کم کرتی ہے، سرکاری اداروں کے نقصانات کم کرتی ہے اور غیر پیداواری اخراجات کم کرتی ہے تو پٹرولیم لیوی پر انحصار بھی کم کیا جاسکتا ہے۔
آٹھواں اہم شعبہ ہے آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت، یہ وہ شعبہ ہے جہاں پاکستان کو ٹیکس وصولی کے بجائے آمدن پیدا کرنے کی پالیسی اپنانا چاہیے۔ وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی اور آئی ٹی کی برآمدات قریباً 4.6ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جبکہ فری لانسرز کی آمدن تقریباً 1.7ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق آئی ٹی برآمدات اگلے پانچ برس میں دگنی ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس شعبے کو زیادہ ٹیکس اور کاغذی کارروائی میں الجھانے کے بجائے، پٹرول سے ایک لٹر کی آمدن محدود ہے۔ ایک سافٹ ویئر انجینئر پوری دنیا سے ڈالر کما سکتا ہے۔
نواں شعبہ: معدنیات، پاکستان کے معدنی وسائل کو صرف خام مال نکالنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ معدنیات کی مقامی پروسیسنگ ریفائنگ اور ویلیو ایڈیشن کی جائے۔ یہاں ایک دلچسپ مثال موجود ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق ایک بڑے کوپر مائننگ پراجیکٹ سے 2028ء کے بعد سالانہ قریباً 2.8ارب ڈالر کی برآمدات متوقع ہیں۔ یہ وہ راستہ ہے جس پر پاکستان کو چلنا چاہیے، ریونیو +برآمدات +روزگار +ڈالر، صرف ٹیکس وصولی نہیں۔
دسواں شعبہ: برآمدات، پاکستان کی معیشت FY2025-26میں 3.7فیصد بڑھی، مگر حکومت کا ہدف 4.2فیصد تھا۔ یہ معمولی فرق نہیں۔ ہمیں 3سے 4فیصد کی معیشت سے آگے بڑھ کر 5، 6اور 7فیصد کی پائیدار نمو کی طرف جانا ہوگا۔ ٹیکس بڑھا کر جی ڈی پی کو نہیں بڑھایا جاسکتا۔ جی ڈی پی کو بڑھا کر ٹیکس ریونیو بڑھایا جاسکتا ہے۔ یہ بنیادی فرق حکومت کو سمجھنا ہوگا۔
وزیراعظم کے لیے 1677ارب روپے کا متبادل منصوبہ۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر پٹرولیم لیوی ختم یا نمایاں طور پر کم کردی جائے تو 1677ارب روپے کہاں سے آئیں گے؟، میری تجویز ہے کہ حکومت متبادل ریونیو پلان بنائے۔ مثلاً ابتدائی پالیسی ہدف کے طور پر: ذریعہ ؍ ممکنہ سالانہ مالی گنجائش۔ غیر موثر ٹیکس چھوٹوں میں اصلاح؍ 300ارب، بڑے رئیل اسٹیٹ ٹرانزیکشنز؍کیپٹل گین؍ 250ارب، بڑے غیر دستاویزی کاروبار ؍ 250ارب، بڑی زرعی آمدن؍ 150ارب، اسمگلنگ اور کسٹمز انفورسمنٹ؍ 200ارب، بجلی؍ گیس نقصانات میں کمی؍150ارب، سرکاری اخراجات میں کفایت؍ 200اربمعدنیات، رائلٹی اور ویلیو ایڈیشن؍100ارب، کل ممکنہ مالی گنجائش؍1600ارب۔ یہ اعداد حتمی وصولی کے دعوے نہیں بلکہ پالیسی اہداف ہونے چاہئیں۔ ہر شعبے کے لیے ایف بی آر، وزارت خزانہ، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں سے تفصیلی رپورٹ تیار کرائی جائے۔ لیکن اس ٹیبل کا مقصد ایک بنیادی بات ثابت کرنا ہے، 1677ارب روپے صرف پٹرول پمپ سے ہی حاصل کرنا ضروری نہیں۔ ایک اور حیران کن موازنہ 2026۔27ء کے بجٹ میں، پٹرولیم لیوی =1677 ارب روپے جبکہ وفاقی PSDP = 1000ارب روپے، یعنی حکومت پٹرولیم لیوی سے وفاقی ترقیاتی پروگرام سے قریباً 67.7 فیصد زیادہ رقم حاصل کرنے کی توقع کر رہی ہے۔ یہ سوال وزیراعظم کو خود قوم کے سامنے رکھنا چاہیے، کیا ترقی کا بوجھ بھی ہم پٹرول کے ٹینک پر ڈال دیں گے؟۔
حافظ نعیم الرحمان کے احتجاج کا بہترین جواب کیا ہے؟ حکومت کو حافظ نعیم الرحمان سے صرف سیاسی جنگ نہیں لڑنی چاہیے۔ وزیراعظم ایک بڑی معاشی پیشکش کر سکتے ہیں یہ کہنا بھی درست نہیں کہ لیوی ختم نہیں ہوسکتی، اس لیے عوام مزید بوجھ برداشت کریں۔ درست راستہ درمیان میں ہے: لیوی ختم کریں۔ متبادل ریونیو بڑھائیں۔ غیر ضروری ٹیکس چھوٹ ختم کریں۔ بڑے ٹیکس چوروں کو پکڑیں۔ حکومتی اخراجات کم کریں۔ برآمدات بڑھائیں۔معدنیات کو ترقی دیں۔ آئی ٹی کو ڈالر کمانے دیں۔ اور سب سے اہم: ٹیکس دینے والے چند لاکھ لوگوں سے مزید ٹیکس لینے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو کروڑوں حقیقی آمدن رکھنے والے افراد تک پھیلائیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے اصل سوال یہ نہیں کہ حافظ نعیم الرحمان احتجاج کیوں کر رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ریاست اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے سب سے آسان راستہ کب تک اختیار کرے گی؟ ایک طرف حکومت کا ایف بی آر ٹیکس ہدف 15.264ٹریلین روپے ہے۔ دوسری طرف پٹرولیم لیوی 1.677ٹریلین روپے کا ہدف رکھتی ہے۔ اسی بجٹ میں سود کی ادائیگی 8.054ٹریلین روپے ہے۔ اور دوسری طرف حکومت کے اپنے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ٹیکس رعایتوں اور مختلف مراعات کی لاگت 2.353ٹریلین روپے تک پہنچتی ہے۔
یہی پاکستان کی اصل کہانی ہے۔ ہم پٹرول کے لیٹر سے ٹیکس لینے کے لیے بہت منظم ہیں، لیکن ٹیکس رعایت کے ہر روپے کا معاشی فائدہ پوچھنے کے لیے اتنے منظم نہیں۔ ہم تنخواہ دار شخص کی آمدن کا حساب رکھتے ہیں، لیکن بڑی غیر دستاویزی معاشی سرگرمیوں تک پہنچنے میں کمزور ہیں۔ ہم موٹر سائیکل کے پٹرول پر ٹیکس فوراً وصول کرتے ہیں، مگر بڑی دولت اور بڑے منافع کی مکمل دستاویز بندی آج بھی چیلنج ہے۔ اب یہ طرز حکمرانی بدلنا ہوگا۔ وزیراعظم اگر واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں تو انہیں ایک تاریخی اعلان کرنا چاہیے: ’’ پٹرولیم لیوی ہمیشہ کے لیے آمدن کا آسان ذریعہ نہیں رہے گی۔ حکومت اسے ختم کرے گی اور اس کے بدلے پاکستان کے ٹیکس نظام کو وسیع، منصفانہ اور دستاویزی بنائے گی‘‘۔
یہ فیصلہ صرف پٹرول سستا نہیں کرے گا۔ یہ پاکستان کی معاشی سمت بدل سکتا ہے۔ کیونکہ اصل کامیابی یہ نہیں کہ حکومت عوام سے زیادہ ٹیکس وصول کرے، اصل کامیابی یہ ہے کہ حکومت ایسی معیشت بنائے جس میں ٹیکس کی شرح کم ہو، ٹیکس دینے والے زیادہ ہوں، برآمدات زیادہ ہوں، روزگار زیادہ ہو اور ریاست کا خزانہ عوام کی جیب کا محتاج نہ رہے۔

جواب دیں

Back to top button