Column

مکہ پر حوثی حملہ، دفاع نہیں جارحانہ اقدام ضروری

مکہ پر حوثی حملہ، دفاع نہیں جارحانہ اقدام ضروری
مشتاق الرحمان زاہد
یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے خطے کے اسٹریٹجک مقامات اور کل حرمین شریفین مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مقدس احاطے کو نشانہ بنانے کے لیے بھیجا جانے والا ڈرون بروقت کارروائی کرتے ہوئے کامیابی سے تباہ کر دیا گیا ہے۔ یہ ناپاک اور بزدلانہ کوششیں علاقائی تنازعات کا تسلسل نہیں ہیں، بلکہ یہ عالمِ اسلام کی روح اور اس کے مرکزِ عقیدت پر براہِ راست وار ہیں۔ اس تازہ واقعے نے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کو ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ امت کے حساس ترین مقامات اب کھلے خطرے کی زد میں ہیں، جن کے دفاع کے لیے روایتی سفارتی طریقوں سے ہٹ کر ایک فیصلہ کن اور عملی لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔حرمین شریفین جغرافیائی خطے یا کسی ایک ملک کی حدود کے اندر واقع مقدسات نہیں ہیں، بلکہ یہ دنیا بھر کے پونے دو ارب مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن اور ان کے روحانی مرکز ہیں۔ یہ وہ مقدس مقامات ہیں جن کی طرف روزانہ پانچ وقت کروڑوں انسان اپنے رخ موڑتے ہیں، جن کی حرمت پر کٹ مٹنا ہر مسلمان اپنے ایمان کا بنیادی جزو سمجھتا ہے۔ اسی لیے تاریخ اور شریعت کی رو سے حرمین شریفین کا تحفظ امتِ مسلمہ کی وہ حتمی اور ناقابلِ عبور ریڈ لائن ہے جس پر سمجھوتہ کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جو عناصر یا طاقتیں اس مقدس لکیر کو پار کرنے کی جسارت کرتی ہیں، وہ دراصل پوری امت کے عقیدے اور تشخص کو چیلنج کرتی ہیں، اور ایسی جرات کا ارتکاب کرنے والوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی۔
حوثیوں کی جانب سے بارہا سامنے آنے والی یہ حرکات اور کل حرمین شریفین پر ڈرون حملہ کرنے کی ناپاک جسارت اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ ان کے اہداف میں سیاسی یا حکومتی رسہ کشی شامل نہیں ہے، بلکہ ان کے عزائم کے پیچھے ایک گہری نظریاتی اور مکارانہ دشمنی کارفرما ہے جو براہِ راست اسلام کے مرکزِ محور کو نشانہ بناتی ہے۔ جب دشمن اس نہج پر اتر آئے کہ وہ مسلم دنیا کے مقدس ترین اثاثوں کو ملیہ میٹ کرنے کی دھمکیاں دے یا عملی اقدامات کرے، تو ایسی صورتحال میں خاموشی، مصلحت پسندی یا صرف مذموم بیانات پر اکتفا کرنا خود کشی کے مترادف بن جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ فکریہ ہے جہاں ہر سنجیدہ مسلمان، تجزیہ کار اور دینی حلقہ اس بات کا شدت سے احساس کر رہا ہے کہ اب بیٹھ کر تماشا دیکھنے کا وقت ختم ہو چکاہے۔
ٔاس سنگین چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لیے وقت کا سب سے بڑا اور ناگزیر تقاضا یہ ہے کہ عالمِ اسلام کے با اثر، طاقتور اور کلیدی ممالک بالخصوص پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب فوری طور پر ایک مضبوط جواب دیں جو دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ ہو، جو کسی بھی جارح قوت کو یہ سوچنے پر مجبور کر دے کہ حرمین شریفین کی طرف اٹھنے والا ہر ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے پر اب فوری عمل درآمدکیا جائے یہی وقت ہے اسلام دشمن حوثیوں کو دبانے کا، تاکہ آئندہ حرمین شریفین کو کوئی خطرہ نہ ہو
ٔمسلم دنیا کے حکمرانوں اور خصوصاً پاکستان جیسی ایٹمی و عسکری قوت رکھنے والی ریاستوں پر یہ بھاری اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاملے میں خاموش تماشائی بننے کے بجائے عملی قیادت کا ثبوت دیں۔ مسلم امہ کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے باہمی اتحاد اور بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے، دشمن کی ہر چال ناکام ہو گئی ہے۔ آج بھی اگر سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان جیسے بڑے ستون مل کر ایک مشترکہ لائحہ عمل بنا لیں، تو دنیا کی کوئی طاقت حرمین شریفین کے تقدس کو پامال کرنے کی جرات نہیں کر سکتی۔
ٔیہ وقت اپنے ذاتی مفادات، وقتی مصلحتوں اور سرد مہری کو دفن کرنے کا ہے۔ حرمین شریفین پر حملے کی کوشش اور اس کے ڈرون کا تباہ کیا جانا اس بات کا کھلا انتباہ ہے کہ خطرے کے بادل ہمارے سروں پر منڈلا رہے ہیں۔ ہمیں دنیا کو یہ واضح پیغام دینا ہوگا کہ حرمین شریفین کا دفاع امتِ مسلمہ کے لیے کسی بھی دوسری شے سے بڑھ کر مقدم ہے اور اس کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ حکومتوں اور عوام دونوں کو چاہیے کہ وہ اس نازک موڑ پر بیدار ہوں، اتحادِ بین المسلمین کی حقیقی روح کو زندہ کریں اور دشمنوں کو یہ باور کرا دیں کہ ارضِ مقدس کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے گا۔ کیونکہ حرمین شریفین پرحملہ براہ راست عالم اسلام پر حملہ ہے جس کی امت مسلمہ کسی بھی صورت اجازت نہیں دیگی۔

جواب دیں

Back to top button