بجٹ، ترقی اور حقائق: آزاد کشمیر کی معاشی پیشرفت کا تجزیہ

بجٹ، ترقی اور حقائق: آزاد کشمیر کی معاشی پیشرفت کا تجزیہ
تحریر: پروفیسر وسیم آکاش
کسی بھی خطے کی پائیدار معاشی ترقی اور عوام کے معیارِ زندگی کو محض سیاسی نعروں، جذباتی تقاریر یا احتجاجی سرگرمیوں کے تناظر میں دیکھنا ایک محدود اور یکطرفہ تصویر پیش کرتا ہے۔ ہنگاموں کی دھند جب چھٹتی ہے تو زمینی حقائق، اعداد و شمار، معاشی فیصلے اور عوامی فلاح کے منصوبے ہی حقیقت بن کر سامنے آتے ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کے تعارف اور اس کی ترقی کو صرف شکایتوں اور محرومیوں کے بیانیے تک محدود کر دینا نہ صرف حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہے بلکہ ان مسلسل کوششوں کی بھی نفی ہے جو اس خطے کے بنیادی ڈھانچے، انسانی وسائل اور معاشی مضبوطی کے لیے کی جا رہی ہیں۔ اصل اور روشن تصویر اس وقت ابھرتی ہے جب بجٹ، انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، ڈیجیٹل انقلاب، توانائی اور وفاقی تعاون کو ایک یکجا تناظر میں دیکھا جائے۔
اگر آزاد کشمیر کی موجودہ معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو اعداد و شمار خود بولتے ہیں۔ مالی سال 2025۔26ء کا اصل مجموعی بجٹ 310.20ارب روپے تھا جس میں ترقیاتی پروگرام (ADP)کے لیے تاریخی 49 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ جبکہ مالی سال 2026۔27ء میں بھی اس ترقیاتی تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے مجموعی بجٹ 286ارب روپے اور ترقیاتی پروگرام 36ارب روپے رکھا گیا ہے۔ یہ بجٹ محض چند سرکاری کاغذات یا انتظامی اخراجات کی داستان نہیں، بلکہ اس میں شامل شعبہ جاتی تقسیم خطے کی ترجیحات کا واضح پتہ دیتی ہے۔ 2025۔26ء کے ترقیاتی پروگرام میں مواصلات و تعمیرات کے لیے 15ارب، صحت کے لیے 6ارب، تعلیم کے لیے 5ارب، مقامی حکومت و دیہی ترقی کے لیے 5ارب، توانائی و آبی وسائل کے لیے 4.80 ارب، تحقیق و ترقی (R&D)کے لیے 1.40ارب، آئی ٹی کے لیے 800 ملین، سیاحت کے لیے 700 ملین اور کھیل، نوجوانوں و ثقافت کے لیے 500 ملین روپے مختص کیے گئے تھے۔ یہ رقم صرف روایتی سڑکیں بنانے پر خرچ نہیں ہو رہی بلکہ یہ ایک جدید ترقیاتی ماڈل ہے جو انسانی سرمایہ، جدید ٹیکنالوجی، پیداواری شعبوں اور سیاحت کو فروغ دے کر پائیدار معاشی خودانحصاری کی بنیاد رکھ رہا ہے۔
پاکستان اور آزاد کشمیر کے تعلق کی نوعیت محض سیاسی وابستگی کی مرہونِ منت نہیںبلکہ یہ ایک مضبوط اور مسلسل عملی شراکت داری ہے۔ وفاقی سالانہ ترقیاتی پروگرام (PSDP) 202627 میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 89 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، آزاد کشمیر میں جاری وفاقی ترقیاتی پورٹ فولیو کا حجم 43 ارب روپے سے زائد ہے جس میں بلاک الاٹمنٹس اور وزیراعظم کا خصوصی پیکیج شامل ہے۔ مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (CDWP)نے صحت، بجلی کے نیٹ ورکس، سڑکوں اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے درجنوں منصوبوں کو منظور کیا ہے۔ ہائیڈرو پاور کے بڑے پروجیکٹس، لائن آف کنٹرول (LoC)سے متصل متاثرہ آبادی کی بحالی کے منصوبے اور صاف پانی کی سپلائی اسکیمیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وفاقی حکومت خطے کی ترقی کے لیے پرعزم ہے۔ 2026۔27کے بجٹ میں وفاقی ویری ایبل گرانٹ کا تخمینہ قریباً 146ارب روپے لگایا گیا ہے جو آزاد کشمیر کی مالیاتی بنیاد کو غیر معمولی استحکام فراہم کرتا ہے۔
عوامی فلاح میں سب سے اہم عنصر صحت کا شعبہ ہے۔ جنوری 2026ء میں وزیراعظم پاکستان نے ’’ وزیراعظم ہیلتھ کارڈ‘‘ کی سہولت کو آزاد کشمیر کے تمام اضلاع تک وسعت دی، جس کے بعد لاکھوں خاندان اب معیاری اور مفت علاج معالجے سے مستفید ہو رہے ہیں۔ اسی طرح دسمبر 2025ء میں مظفرآباد کے اندر ’’ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی اینڈ ریڈیالوجی‘‘ (KINAR)اور ’’ میرواعظ مولوی محمد فاروق شہید میڈیکل کالج‘‘ جیسے انقلابی اداروں کا افتتاح کیا گیا۔ یہ اقدامات محض دعوے نہیں بلکہ ان ہزاروں مریضوں کے لیے امید کی کرن ہیں جنہیں پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے پہلے دوسرے شہروں کا رخ کرنا پڑتا تھا۔ نئی حکومت کے 100روزہ اصلاحاتی پروگرام کے تحت موبائل ہسپتالوں اور بنیادی صحت کے نظام کو وفاق کی مدد سے مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
آج کا نوجوان سیاسی نعروں اور کھوکھلی جذباتیت سے آگے بڑھ کر عملی مواقع چاہتا ہے۔ اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (SCO)کے ذریعے آزاد کشمیر میں 4Gخدمات کی توسیع، جدید سیلولر سروسز اور آپٹیکل فائبر کی فراہمی کے جو منصوبے جاری ہیں وہ کشمیر کے نوجوان کو گلوبل ویلج اور ڈیجیٹل معیشت سے جوڑ رہے ہیں۔ جب ایک کشمیری طالب علم تیز رفتار انٹرنیٹ سے فائدہ اٹھا کر آن لائن تعلیم حاصل کرتا ہے، جب ایک نوجوان فری لانسر گھر بیٹھے آئی ٹی کے شعبے سے روزگار کماتا ہے اور جب کوئی مقامی تاجر ای کامرس کے ذریعے اپنی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں بیچتا ہے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاک، کشمیر تعلق کی اصل اور جدید بنیاد ٹیکنالوجی، ہنر اور روزگار ہے۔ تعلیم اور آئی ٹی پر کی جانے والی سرمایہ کاری ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔
لیکن آخر میں یہ سوال اب اٹھانا پڑے گا کہ جو عناصر مسلسل محرومی اور استحصال کا بیانیہ پیش کرتے ہیں وہ اربوں روپے کے ان بجٹ، منصوبوں، اور جاری فنڈنگ کی کیا وضاحت دیں گے؟ کسی بھی بیانیے کی سچائی اس وقت کمزور پڑ جاتی ہے جب وہ دستیاب بجٹ اور ترقیاتی اعداد و شمار کو مکمل طور پر نظرانداز کرے۔ سیاسی مخالفت یا الزامات کا جواب مزید سیاسی نعرے نہیں ہو سکتے بلکہ اس کا سب سی مضبوط جواب وہ قابلِ تصدیق حقائق اور ارقام ہیں جو زمینی سطح پر عوامی فلاح کی صورت میں موجود ہیں۔
المختصر! آزاد کشمیر کے عوام بالخصوص باصلاحیت نوجوان نسل کو یہ طے کرنا ہوگا کہ ان کی اصل ترجیح کیا ہے؟ سیاسی شور شرابہ، نعرے بازی اور بے مقصد ہیجان؟ یا تعلیم، صحت، روزگار، انٹرنیٹ، بہترین سڑکیں اور معاشی استحکام؟ ہمیں اس تعلق کو ’’ مرکز بمقابلہ آزاد کشمیر‘‘ کے تنگ اور منفی زاویے سے نکال کر ’’ عوام، ترقی، اور مشترکہ معاشی مواقع‘‘ کے تعمیری فریم ورک میں دیکھنا ہوگا۔ آزاد کشمیر کا حقیقی اور تابناک مستقبل نعروں کے جنگل میں نہیں بلکہ اس پائیدار معاشی و تعلیمی سفر میں ہے جو پاکستان اور آزاد کشمیر کی مضبوط اور مثبت عملی شراکت داری سے روز بروز آگے بڑھ رہا ہے۔





