Column

برآمدات میں اضافہ، معیشت کی نئی سمت

اداریہ۔۔
برآمدات میں اضافہ، معیشت کی نئی سمت
پاکستان کی معیشت کو مستقل بنیادوں پر مضبوط بنانے کے لیے برآمدات میں اضافہ محض ایک معاشی ہدف نہیں بلکہ قومی ضرورت بن چکا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے برآمدات بڑھانے، نئی عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے، مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے، ویلیو ایڈیشن، جدید ٹیکنالوجی اور کاروباری سہولت کاری پر زور اس حقیقت کی نشان دہی کرتا ہے کہ اب معیشت کو روایتی انداز سے چلانے کے بجائے اسے برآمدی بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے پاس افرادی قوت، زرعی پیداوار، ٹیکسٹائل، سرجیکل آلات، کھیلوں کا سامان، آئی ٹی، انجینئرنگ، معدنیات، خوراک اور ہارٹیکلچر سمیت کئی ایسے شعبے موجود ہیں، جن میں عالمی منڈی میں نمایاں مقام حاصل کرنے کی گنجائش ہے۔ مسئلہ وسائل کی عدم موجودگی سے زیادہ ان وسائل کو عالمی معیار کی مصنوعات میں تبدیل کرنے، ان کی برانڈنگ کرنے اور مناسب منڈی تک پہنچانے کا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق جولائی 2026ء میں ملکی برآمدات قریباً 2.96ارب ڈالر رہیں، جو جون کے مقابلے میں 32.11فیصد اور جولائی 2025ء کے مقابلے میں 10.40فیصد زیادہ تھیں۔ یہ اضافہ حوصلہ افزا ضرور ہے، لیکن ایک ماہ کی کارکردگی کو منزل سمجھنے کے بجائے اسے مستقل برآمدی پالیسی کے لیے بنیاد بنانا ہوگا۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ پاکستان کب تک محدود روایتی مصنوعات پر انحصار کرتا رہے گا؟ دنیا کی منڈیاں تیزی سے بدل رہی ہیں۔ خریدار اب صرف کم قیمت مصنوعات نہیں چاہتے بلکہ معیار، سرٹیفکیشن، پائیداری، جدید پیکیجنگ، بروقت ترسیل اور قابل اعتماد سپلائی چَین کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔ اس لیے پاکستانی مصنوعات کو عالمی معیار کے مطابق بنانا وقت کی بنیادی ضرورت ہے۔ خاص طور پر زرعی شعبے میں پاکستان کے لیے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ اگر خام زرعی اجناس برآمد کرنے کے بجائے انہیں پروسیس، پیک، برانڈ اور بین الاقوامی معیار کے مطابق سرٹیفائیڈ کرکے عالمی منڈی میں پیش کیا جائے تو برآمدی آمدن میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ حکومت کی حالیہ پالیسی گفتگو میں بھی خام زرعی اجناس سے ہائی ویلیو، پروسیسڈ اور برانڈڈ مصنوعات کی طرف منتقلی پر زور دیا گیا ہے۔ اسی طرح سرجیکل اور میڈیکل آلات کا شعبہ پاکستان کی صنعتی صلاحیت کا اہم مظہر ہے۔ اگر پاکستانی کمپنیوں کو بین الاقوامی اسپتالوں کے ٹینڈرز، پروکیورمنٹ اور عالمی سپلائی چَین میں مثر انداز سے شامل کیا جائے تو ایک موجودہ صنعتی صلاحیت کو بڑی برآمدی قوت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے معیار، سرٹیفکیشن اور بین الاقوامی ضوابط کی پابندی بنیادی شرط ہے۔ ٹیکسٹائل پاکستان کا اہم برآمدی شعبہ ہے، مگر مستقبل کی کامیابی صرف زیادہ مقدار میں کپڑا یا ملبوسات برآمد کرنے میں نہیں بلکہ زیادہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کرنے میں ہے۔ خام مال سے تیار مصنوعات، ڈیزائن، برانڈنگ اور جدید ٹیکنالوجی تک ہر مرحلے پر ویلیوایڈیشن بڑھانا ہو گا۔ اسی طرح آئی ٹی اور ڈیجیٹل خدمات کو بھی برآمدی حکمت عملی کا مرکزی حصہ بنانا ضروری ہے۔ حکومت کی جانب سے برآمد کنندگان کو درپیش انتظامی اور کاروباری رکاوٹیں ختم کرنے، برآمدی عمل کو آسان اور شفاف بنانے، نئی منڈیوں تک رسائی اور تجارتی معاہدوں کے لیے اقدامات قابل توجہ ہیں۔ تاہم اصل کامیابی اعلانات کی تعداد سے نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد کی رفتار اور نتائج سے ناپی جائے گی۔ برآمدی صنعت کو بجلی، گیس، مالیات، ٹیکس، کسٹمز، لاجسٹکس اور ریگولیٹری معاملات میں غیر ضروری پیچیدگیوں کا سامنا نہ ہو، یہ یقینی بنانا ہوگا۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو بھی عالمی تجارت کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ حالیہ حکومتی اقدامات میں برآمدی فنانسنگ کا دائرہ بڑھانے اور ایس ایم ای، زرعی ایس ایم ایز اور نئے قرض لینے والوں کے لیے مخصوص رقم مختص کرنے کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔ فری ٹریڈ اور ترجیحی تجارتی معاہدے اپنی جگہ اہم ہیں مگر کسی بھی معاہدے کا فائدہ اسی وقت حاصل ہوگا جب پاکستانی صنعت عالمی مقابلے کے لیے تیار ہو۔ نئی منڈی میں داخل ہونا صرف سفارتی کوشش نہیں، بلکہ معیار، قیمت، ترسیل، مارکیٹنگ اور مستقل سپلائی کا امتحان بھی ہے۔ اس لیے تجارتی سفارت کاری کو مقامی صنعت کی پیداواری صلاحیت کے ساتھ مربوط کرنا ہوگا۔پاکستان کو اب یہ سوچ بدلنا ہوگی کہ برآمدات صرف چند بڑے صنعتی گروپس کا معاملہ ہیں۔ ایک کسان کی بہتر پیکیجنگ سے لے کر ایک سافٹ ویئر انجینئر کی عالمی سروس، ایک چھوٹے صنعت کار کی تیار کردہ مصنوعات اور ایک بڑے برانڈ کی عالمی مارکیٹنگ تک، سب برآمدی معیشت کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اس پورے عمل میں تحقیق اور جدت کو بنیادی حیثیت دینا ہوگی۔ دنیا میں وہی ممالک آگے بڑھ رہے ہیں جو اپنی مصنوعات کو مسلسل بہتر بناتے، نئی ٹیکنالوجی اختیار کرتے اور بدلتی ہوئی صارف ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالتے ہیں۔ پاکستان میں جامعات، تحقیقی اداروں اور صنعت کے درمیان رابطہ مضبوط کیے بغیر برآمدات میں پائیدار تبدیلی مشکل ہوگی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ برآمدی پالیسی حکومتوں کے آنے جانے سے متاثر نہ ہو۔ پاکستان کو ایک طویل المدتی، مستقل اور قابل عمل قومی برآمدی حکمت عملی درکار ہے، جس میں حکومت، صنعت، برآمد کنندگان، بینکنگ سیکٹر، تعلیمی ادارے اور صوبائی حکومتیں ایک مشترکہ فریم ورک کے تحت کام کریں۔ برآمدات بڑھانے کا مطلب صرف بیرونِ ملک زیادہ پاکستانی مصنوعات فروخت کرنا نہیں، بلکہ ملک میں روزگار پیدا کرنا، صنعت کو وسعت دینا، زرمبادلہ کمانا، درآمدی دبا کم کرنا اور معیشت کو زیادہ مستحکم بنانا بھی ہے۔ اگر معیار، ویلیو ایڈیشن، ٹیکنالوجی، تحقیق، برانڈنگ، فنانسنگ اور مارکیٹ رسائی کو ایک مربوط پالیسی کا حصہ بنا دیا جائے تو پاکستان اپنی موجودہ صلاحیت کو کہیں بڑی معاشی قوت میں تبدیل کر سکتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ برآمدات بڑھانے کے فیصلے اجلاسوں اور فائلوں تک محدود نہ رہیں۔ ہر شعبے کے لیے واضح اہداف، مقررہ مدت، ذمے دار ادارے اور قابل پیمائش نتائج طے کیے جائیں۔ پاکستان کے پاس دنیا کو دینے کے لیے بہت کچھ ہے؛ ضرورت صرف اس صلاحیت کو عالمی معیار، بہتر حکمت عملی اور مستقل عملدرآمد کے ذریعے عالمی منڈی تک پہنچانے کی ہے۔
شذرہ۔۔
ڈیجیٹل انقلاب، پاکستان کی نئی طاقت
پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق ملک میں ڈیجیٹل صارفین کی تعداد 15کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، گزشتہ دو برس میں ڈیٹا کے استعمال میں 25فیصد اضافہ ہوا جب کہ فائبر کنکشنز 50لاکھ سے زیادہ ہوگئے ہیں۔ حکومت کا ہدف وائرڈ براڈ بینڈ کو ایک کروڑ گھرانوں تک پہنچانا ہے۔ یہ اعدادوشمار اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ پاکستان کے لیے ڈیجیٹل شعبہ اب محض مواصلات کا ذریعہ نہیں، بلکہ معاشی ترقی کا اہم ستون بن چکا ہے۔ دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تجارت، کلائوڈ ٹیکنالوجی اور آن لائن خدمات کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پاکستان اگر بروقت اپنی نوجوان آبادی کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرے تو ڈیجیٹل معیشت روزگار، برآمدات اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرسکتی ہے۔ اس سفر میں خواتین کی شمولیت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خواتین کے موبائل انٹرنیٹ استعمال کی شرح 45فیصد تک پہنچی ہے اور ڈیجیٹل صنفی فرق میں بھی نمایاں کمی آئی ہے، تاہم رسائی کے ساتھ ساتھ خواتین کو ڈیجیٹل مہارت، آن لائن تحفظ، مالیاتی سہولت اور کاروباری مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ اب اصل امتحان ڈیجیٹل صارفین کی تعداد بڑھانے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ پاکستان کو صرف انٹرنیٹ استعمال کرنے والی قوم نہیں بلکہ ٹیکنالوجی مصنوعات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور عالمی معیار کی خدمات برآمد کرنے والی معیشت بننا ہوگا۔ حکومت کو جامعات، ٹیکنالوجی کمپنیوں، صنعت اور نوجوانوں کے درمیان مضبوط رابطہ پیدا کرنا چاہیے۔ سستی اور قابل اعتماد انٹرنیٹ سہولت، ڈیجیٹل تعلیم، سائبر سیکیورٹی، تحقیق، مصنوعی ذہانت اور اسٹارٹ اپس کے لیے سازگار ماحول اس تبدیلی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ اگر پالیسی کا تسلسل برقرار رہا اور سرمایہ کاری کے ساتھ انسانی وسائل پر توجہ دی گئی تو ڈیجیٹل شعبہ پاکستان کے لیے زرمبادلہ، روزگار اور معاشی پیداوار کا بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔ پاکستان کے پاس نوجوان افرادی قوت اور بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل رسائی کی صورت میں ایک اہم موقع موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس موقع کو محض اعدادوشمار نہیں بلکہ عملی معاشی طاقت میں تبدیل کیا جائے۔

جواب دیں

Back to top button