CM RizwanColumn

حکومت، اپوزیشن کے عوام کے ساتھ مذاق

جگائے گا کون؟
حکومت، اپوزیشن کے عوام کے ساتھ مذاق
تحریر: سی ایم رضوان
ان دنوں ملک کے طول و عرض میں عوام الناس کو مہنگائی، بیروزگاری، غیر یقینی معاشی صورتحال اور سیاسی و انتظامی افراتفری کے ساتھ ساتھ سیاسی و انتظامی اشرافیہ کی جانب سے عوامی مسائل سے مسلسل لاتعلقی، چشم پوشی اور سر عام مذاق والے رویے کا سامنا ہے جس سے عوام کو محرومی کے ساتھ ساتھ لاوارث ہونے کا احساس بھی شدت کے ساتھ ہو رہا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ایک انتہائی خوفناک معاشی مذاق پچھلے ایک ہفتہ سے جو تسلسل کے ساتھ ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے کا تازہ سنگین مذاق یہ ہے کہ گزشتہ روز بھی حکومت نے ایک بار پھر پٹرول کی قیمت میں 4.42روپے فی لٹر اضافہ کے بعد نئی قیمت 380.24روپے فی لٹر مقرر کر دی جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 6.10روپے فی لٹر اضافہ کے بعد نئی قیمت 409.42روپے فی لٹر کر دی ہے۔ جس کے اثرات یہ ہوں گے کہ ایک مرتبہ پھر تمام اشیائے خورونوش اور روزمرہ ضروریات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو جائے گا۔ عوامی مشکلات سے یکسر لاپروا حکمرانوں کو ذرا سا بھی احساس نہیں کہ عام پاکستانی کی زندگی کس قدر مشکلات سے دوچار ہو رہی ہے۔ حکومت کے اس ظلم کے خلاف دیگر تو رو ہی رہے ہیں خود مسلم لیگ ن کے عوامی حلقے سراپا احتجاج ہو گئے ہیں لیکن افسوس کہ عوام کے ساتھ یہ مذاق سنگین ڈھٹائی کے ساتھ جاری ہے۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اس مذاق کے علاوہ اب تازہ سنگین مذاق یہ کیا ہے کہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے کم آمدنی والے طبقے کو گفتنی طور پر بچانے کے لئے ’’ پی ایم فیول ریلیف اسکیم 2026‘‘ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت موبائل فون پر میسیجنگ کے مرحلے میں کامیاب ہو جانے والی منتخب گاڑیوں، موٹر سائیکلوں کے لئے 100روپے فی لٹر کی چھوٹ دی جائے گی۔ موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگ چی کے لئے ماہانہ 20لٹر پٹرول کی حد مقرر کی گئی ہے جس سے ماہانہ زیادہ سے زیادہ 2000روپے کی بچت ہو گی وہ بھی اس خوش نصیب کو جس کو اس سکیم سے فائدہ اٹھانے کا موقع کسی پٹرول پمپ کی طرف سے مل گیا۔ اسی طرح 800سی سی تک کی گاڑیوں کے لئے ماہانہ 30لٹر پٹرول کی حد رکھی گئی ہے ( یعنی ماہانہ زیادہ سے زیادہ 3000روپے کی بچت) ان دونوں کیٹیگریز کا طریقہ کار یہ ہو گا کہ شہری اپنے شناختی کارڈ اور گاڑی کے اندراج کی تفصیلات 9771پر ایس ایم ایس کر کے اپنا فیول ٹوکن حاصل کر سکتے ہیں۔ عوام اور معاشی ماہرین کی جانب سے اس سکیم پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ قومی خزانے پر 25ارب روپے ماہانہ کا اضافی بوجھ اٹھا رہی ہے جبکہ دوسری طرف پٹرول مہنگا ہونے سے اشیائے خورونوش، کرایوں اور دیگر بنیادی ضروریات میں جو اضافہ ہوا ہے، اس کے سامنے 2000روپے کی ماہانہ بچت نہ ہونے کے برابر ہے۔ دوسری طرف حکومت کی جانب سے اس ایس ایم ایس سسٹم کے ذریعے شفاف تقسیم کا دعویٰ ہے جبکہ نچلے اور ان پڑھ طبقے کے لئے ایس ایم ایس کوڈز اور ٹوکن سسٹم کے ذریعے پٹرول پمپس سے سبسڈی حاصل کرنا عملی طور پر پیچیدہ اور سر کھپائی والا عمل ہے۔ گو کہ حکومت کا موقف ہے کہ محدود مالی وسائل اور آئی ایم ایف کی شرائط کے باوجود یہ ایک اہم ریلیف ہے، جبکہ عام عوام کی نظر میں پٹرول کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے بھاری اضافے کے بعد ایسا محدود کوٹہ اور سبسڈی محض ایک عارضی تسلی اور مذاق ہے۔ البتہ بڑے ٹی وی چینلز کو یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ اس ریلیف سکیم کی ایڈورٹائزنگ کے لئے فوری طور کروڑوں روپے کے اشتہارات انہیں مل گئے ہیں۔
عوام کا غصہ بجا ہے کہ جب سیاسی قیادت باہمی رسہ کشی، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور نمائشی اسکیموں تک محدود ہو جائے، تو سب سے زیادہ پِسنے والا طبقہ عام عوام، محنت کش اور مظلوم شہری ہی ہوتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ جب حکومت اور اپوزیشن سیاست کے نام پر محض ایک کھیل کھیل رہے ہوں، تو سنجیدہ اور شعور رکھنے والے عوام شخصیات پرستی سے نکل کر مسائل پر مبنی سیاست کا مطالبہ کرتے ہیں، وہ سیاسی بیانیوں کا بائیکاٹ کر دیتے ہیں سیاسی جماعتوں اور رہنماں کی اندھی تقلید کی بجائے ان سے سوال کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا، عوامی بیٹھکوں اور اپنے دائرہ کار میں شخصیات پر بحث کرنے کی بجائے معیشت، روزگار، تعلیم اور صحت کے مسائل پر بات کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کا احتساب کرتے ہیں۔ عوام سمجھ جاتے ہیں کہ کسی بھی جماعت یا رہنما کی حمایت کا معیار ان کے نعرے نہیں بلکہ عملی منصوبے اور ماضی کی کارکردگی ہونی چاہیے۔ باشعور شہری ایسے حالات میں حکومت یا اپوزیشن کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنے گلی، محلے اور گوٹھ کی سطح پر چھوٹے فلاحی اور نگران گروپس بناتے ہیں۔ اپنے اپنے مقامی مسائل کا حل خود کرتے ہیں۔ صفائی ستھرائی، مقامی سکیورٹی، مہنگائی کی تفاوت پر نظر رکھتے اور اپنے علاقے کے بنیادی مسائل کے لئے آپس میں مل کر قدم اٹھاتے ہیں۔ یاد رہے کہ جب تک عوام کو اپنے آئینی و قانونی حقوق ( حقِ معلومات، مقامی حکومتوں کا کردار، ٹیکس دہندگان کے حقوق) کا علم نہیں ہو گا، سیاست دان انہیں اسی طرح عارضی سکیموں اور نعروں سے بہلاتے رہیں گے۔ عوام الناس اپنے طور پر اپنے گھروں اور تعلیمی اداروں میں آئین، جمہوریت اور معاشی حقوق پر سنجیدہ بحث کو فروغ دیں اور اپنے ووٹ کے طاقتور اور سخت استعمال کا عزم کریں۔ سیاسی بیانیوں سے بالا تر ہو کر غیر جانبدارانہ ووٹ کے تصور کو تقویت دیں۔ الیکشن کے وقت لسانی، مذہبی، یا روایتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ووٹ کا استعمال کریں۔ اپنے ووٹ کو کسی مخصوص پارٹی کی مٹھی میں محفوظ نہیں رہنے دیں گے، تو سیاسی جماعتیں عوام کو سنجیدگی سے لینے پر مجبور ہوں گے۔ مظلوم اور سنجیدہ طبقے کو چاہیے کہ وہ ان سول سوسائٹی فورمز، محنت کش تنظیموں اور قانونی معاونت فراہم کرنے والے اداروں کا ساتھ دیں جو نچلی سطح پر عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ حاکم یا اپوزیشن تب تک عوام کے ساتھ مذاق کرتے ہیں جب تک عوام خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ جس دن عوام ’’ سیاسی شعبدہ بازی‘‘ کو مسترد کر کے اپنے بنیادی حقوق کے لئے سنجیدہ اور باہم متحد ہو جائیں گے، اسی دن سے اصل سیاسی تبدیلی کی شروعات ہو گی۔ لیکں یہ منزل شاید ابھی بہت دور ہے۔ ابھی تو لوگ پی ٹی آئی نامی ایک غیر رجسٹرڈ جماعت کی شعبدہ بازیوں میں الجھے ہوئے ہیں جس کے ایک درجہ دوم کے لیڈر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ڈرامے دیکھ رہے ہیں۔ گزشتہ روز (14ستمبر 2026ء کو) دورہ لاہور، مرحوم اشتیاق احمد کی رہائش گاہ آمد اور اس کے بعد سڑکوں پر پیش آنے والے واقعات میں وزیر اعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی کی قلابازیاں سیاستدانوں کے عوام کے ساتھ مذاق کی ایک علیحدہ سے تفصیل بیان کر رہی ہیں۔ وہ پی ٹی آئی کے متوفی کارکن اشتیاق احمد کے گھر ( لاہور) ان کے لواحقین سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کے لئے پہنچے۔ وہاں میڈیا اور عوام سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پنجاب حکومت اور پولیس کے رویے پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے پنجاب پولیس کی سکیورٹی اور پروٹوکول لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک عام شہری کے طور پر آئے ہیں اور انہیں پنجاب کے عوام سے کوئی خطرہ نہیں۔ سہیل آفریدی اس تعزیت کے بعد باہر نکلے تو وہاں موجود پولیس نے پی ٹی آئی لاہور کے صدر میاں اکرم عثمان اور رہنما شبیر گجر کو حراست میں لے لیا۔ اپنے پارٹی رہنماں اور کارکنوں کی حراست پر احتجاج کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے مطالبہ کر دیا کہ پہلے ان کے کارکنوں کو چھوڑا جائے۔ جب پولیس نے رہنمائوں کو منتقل کرنا چاہا تو سہیل آفریدی خود ہی احتجاجاً پولیس وین میں جا کر بیٹھ گئے اور کہا کہ اگر میرے کارکنوں کو لے کر جانا ہے تو مجھے بھی ساتھ لے کر جائیں۔ وزیرِ اعلیٰ کے پولیس وین میں بیٹھتے ہی پولیس اہلکار گاڑی چلا کر لے گئے۔ جس سے لاہور کی سڑکوں پر شدید بدنظمی اور کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو گئی، جبکہ پارٹی کارکنوں اور پولیس کے درمیان نوک جھوک بھی جاری رہی۔ بعد ازاں پولیس نے سہیل آفریدی کو لکشمی چوک ( لاہور) کے قریب گاڑی سے اتار دیا۔ ان واقعات سے متعلق لاہور پولیس اور پنجاب حکومت نے ان کی گرفتاری یا اغوا کے تاثر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کو حراست میں نہیں لیا گیا تھا بلکہ وہ خود پولیس وین میں سوار ہوئے تھے۔ صوبائی حکومت ( وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری و دیگر) نے اسے ایک ’’ سیاسی ڈرامہ‘‘ اور میڈیا پبلیسٹی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
وطن عزیز کی موجودہ سیاسی، آئینی اور معاشی صورتحال پر ہر باشعور شہری شدید تشویش کا شکار ہے اور آئین کی بالادستی، احتساب اور ایک نئے قومی میثاقِ کی ضرورت کو شدت کے ساتھ محسوس کر رہا ہے۔ چونکہ اس وقت ملک کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ آئین اور قانون کے بنیادی اصولوں سے مسلسل انحراف ہے۔ ماضی میں بار بار کیے جانے والے سیاسی اور انتظامی تجربات نے ملکی حکمرانی، معیشت اور عدالتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے جس کی وجہ سے ملکی صورتحال بے قابو ہوتی جا رہی ہے۔ پچھلے تمام ادوار میں طاقت کے بے جا استعمال اور خودمختاری کا غرور آخر کار جبر اور استحصال میں بدلتا رہا ہے۔ ان حالات میں ریاست کے تمام اہم اداروں اور سیاسی جماعتوں کو خود احتسابی کے عمل سے گزرنا ہو گا۔ حکومت، اپوزیشن اور مقتدر حلقوں کے درمیان ایک جامع، کثیر الجہتی اور باہم معنی خیز مذاکرات کی فوری ضرورت ہے۔ ملک کو سیاسی بحران سے نکالنے کے لئے نیا عمرانی معاہدہ تشکیل دیا جائے، جس میں شفاف انتخابات، معاشی بحالی، آزادانہ الیکشن کمیشن اور بلدیاتی نظام کی خود مختاری شامل ہو۔ آج عوام اور سیاسی جماعتوں میں بڑھتا ہوا فاصلہ واضح کرتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپنے نظریات اور جمہوریت کے بنیادی اصولوں سے پیچھے ہٹنے کی وجہ سے عام عوام کا ان پر سے اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ محض عارضی یا سیاسی اقدامات سے بدامنی، معاشی تباہی اور سیاسی انارکی کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ ملک کے باشعور، تعلیم یافتہ اور سیاسی طور پر باخبر شہریوں، دانشوروں اور سول سوسائٹی کو چاہئے کہ وہ سیاسی و گروہی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ملکی اصلاح اور مکالمے کے لئے ’’ تھنک ٹینکس‘‘ اور اصلاحی گروپس تشکیل دیں۔ بہت دیر ہونے سے پہلے تمام فریقین کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں، ایک دوسرے کو برداشت کرنا اور ساتھ مل کر رہنا سیکھنا ہو گا۔ ورنہ یہ ایران امریکہ جنگ ایران سے پہلے ہمیں تباہ کر جائے گی۔

جواب دیں

Back to top button