سانس لیتے مُردے

سانس لیتے مُردے
تحریر ، عبد الحفیظ شاہد
بہت عرصہ نہیں گزرا، ایک وقت تھا، آج سے کوئی نو دس سال پہلے تک، جب محلے کا بچہ صرف اپنے گھر کا بچہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔ وہ پوری بستی کا بچہ ہوتا تھا۔ گلی میں کھیلتا ہوا کوئی بچہ اگر کسی بڑے کی نظر میں آ جاتا تو وہ اسے یوں دیکھتا جیسے اپنی اولاد کو دیکھ رہا ہو۔ کسی کے گھر کی بچی گلی میں کھیل رہی ہوتی تو محلے کے بزرگ اس کی حفاظت کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔ کسی کی بیٹی راستے میں نظر آ جاتی تو اسے اپنی بیٹی سمجھا جاتا تھا۔ ماں باپ کو یہ اطمینان ہوتا تھا کہ اگر ان کا بچہ کچھ دیر گھر سے باہر بھی ہے تو محلے میں کئی آنکھیں اس کی نگہبان ہیں۔ وہ زمانہ شاید بہت زیادہ ترقی یافتہ نہیں تھا، لوگوں کے پاس آج جیسی سہولتیں نہیں تھیں، موبائل فون نہیں تھے، ہر ہاتھ میں کیمرہ نہیں تھا مگر دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت تھی۔ بچوں کی شرارتیں سب کی مشترکہ تھیں اور ان کی حفاظت بھی سب کی مشترکہ ذمہ داری تھی۔ کسی گھر کا بچہ دیر تک واپس نہ آتا تو صرف اس کے والدین ہی پریشان نہیں ہوتے تھے، پڑوسی بھی دروازے سے باہر نکل آتے تھے۔ کسی بچے کو کوئی اجنبی بہلا پھسلا کر لے جانے کی کوشش کرتا تو پوری گلی اس کے پیچھے کھڑی ہو جاتی تھی۔ شاید اسی کو بستی کہتے تھے، شاید اسی کو معاشرہ کہتے تھے، شاید اسی کو زندہ انسانوں کی آبادی کہتے تھے۔
مگر پھر جانے ہمیں کیا ہوا۔ ہماری بستیاں وہی رہیں، مکان بڑے ہو گئے، دروازے خوب صورت ہو گئے، سڑکیں پکی ہو گئیں، موبائل فون جدید ہو گئے، انٹرنیٹ ہماری ہتھیلی میں آ گیا، لیکن ہمارے دل چھوٹے ہوتے گئے۔ ہم اپنے اپنے گھروں میں بند ہوتے گئے۔ ہمیں اپنے بچوں کی فکر تو ہے مگر دوسرے کے بچے سے ہماری دلچسپی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ہمیں اپنے گھر کی چار دیواری کے اندر کی عزت عزیز ہے مگر گلی کے دوسرے گھر میں ہونی والے ظلم سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ ہم خبریں سنتے ہیں، چند لمحے افسوس کرتے ہیں، ایک پوسٹ شیئر کرتے ہیں، دو چار غصے والے جملے لکھتے ہیں اور پھر اپنی زندگی میں واپس چلے جاتے ہیں۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
اور سب سے زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ جنہیں ہم نے اپنی حفاظت اور اپنے مستقبل کی علامت سمجھا تھا وہی بچے آج سب سے زیادہ غیر محفوظ دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی کوئی بچہ اغوا ہو جاتا ہے، کبھی کوئی معصوم بچی کئی دن لاپتہ رہنے کے بعد مردہ ملتی ہے، کبھی کسی ننھی جان کے ساتھ ایسا ظلم ہوتا ہے کہ انسان خبر پڑھ کر بھی اپنے آپ سے نظریں نہیں ملا پاتا۔ پانچ سالہ آیت نور کا واقعہ ہمارے سامنے ہے۔ ہری پور میں لاپتہ ہونے والی اس معصوم بچی کی لاش ایک کنویں سے برآمد ہوئی اور پولیس و میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کے ساتھ زیادتی کے بعد اسے قتل کیا گیا۔ یہ صرف ایک بچی کی موت نہیں تھی بلکہ یہ ہماری اجتماعی بے حسی کے منہ پر ایک اور طمانچہ تھا۔ اس مقدمے کی تفتیش اور پولیس کے کردار پر بھی سوالات اٹھے اور معاملہ ابھی قانونی مراحل سے گزر رہا ہے، اس لیے ہمیں الزام اور فیصلے میں فرق بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔ مگر ایک سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر ایک پانچ سالہ بچی کو ہم نے کس دنیا کے حوالے کر دیا ہے؟یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ زینب کا نام آج بھی ہماری اجتماعی یادداشت پر ایک زخم کی طرح موجود ہے۔ ایک معصوم بچی کے ساتھ ہونے والے ظلم نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ مجرم گرفتار ہوا، عدالت سے سزا ہوئی اور بالآخر اسے پھانسی دی گئی، مگر اس سانحے نے ہم سے ایک ایسا سوال پوچھا تھا جس کا جواب آج بھی ہم پوری طرح نہیں دے سکے کہ ہم اپنے بچوں کو محفوظ کیوں نہیں بنا سکے؟۔
ہمیں شاید اب یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، اغوا اور قتل صرف ایک فرد کا جرم نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہ اس وقت بھی ہمارا مسئلہ ہے جب متاثرہ بچہ ہمارے گھر کا نہ ہو۔ کیونکہ آج کسی دوسرے کا بچہ نشانہ بنا ہے، کل ہمارا بچہ بھی کسی سڑک، کسی گلی، کسی سکول، کسی مدرسے، کسی پارک یا کسی ایسے شخص کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے جس کے چہری سے اس کے ارادے پہچانے نہیں جا سکتے۔
بچوں کی حفاظت صرف انہیں گھر میں بند کر دینے کا نام نہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم انہیں سکھائیں کہ اگر کوئی شخص انہیں ڈرائے، دھمکائے، کسی غلط لمس کی کوشش کرے، کوئی راز رکھنے چھپانے پر مجبور کرے یا کسی بہانے سے الگ جگہ لے جانے کی کوشش کرے تو فوراً کسی قابلِ اعتماد بڑے کو بتائیں۔ والدین کو بچوں کی بات سننے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔ بعض اوقات بچہ کچھ کہنا چاہتا ہے مگر اسے ڈانٹ کے خاموش کر دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات وہ اشاروں میں بات کرتا ہے اور ہم اسے بچوں کی معمولی شرارت سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کے دوست بننا ہوگا۔
قرآن ہمیں اپنی ذات کے ساتھ اپنے گھر والوں کی ذمہ داری بھی یاد دلاتا ہے: ’’ اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچائو‘‘۔
یہ ذمہ داری صرف کھانا، کپڑا، تعلیم اور مکان فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ اولاد کی اخلاقی تربیت، ان کی حفاظت، ان کی نگرانی اور ان کے لیے محفوظ ماحول پیدا کرنا بھی اسی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ اسلام نے نگاہ کی حفاظت، پاکیزگی اور حدود کی پابندی کو صرف کسی ایک فرد کا معاملہ نہیں بنایا بلکہ ایک پاکیزہ معاشرے کی بنیاد قرار دیا۔ قرآن مجید میں مومن مردوں اور عورتوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنی عصمت کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔
مگر افسوس کہ ہم نے دین کو بھی اپنی سہولت کے مطابق تقسیم کر لیا ہے۔ نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، مذہبی گفتگو کرتے ہیں، لیکن اپنے گھر کے بچے کی بات سننے، اسے محفوظ ماحول دینے اور دوسروں کے بچوں کو بھی امان دینے کو شاید اتنی اہمیت نہیں دیتے۔ دین صرف عبادات کا نام نہیں، دین انسان کو انسان سے جوڑتا ہے۔ جس دل میں اللہ کا خوف ہو، وہ کسی کمزور پر ہاتھ اٹھانے سے پہلے ہزار بار سوچتا ہے۔
رسولؐ اللہ نے فتنوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ نیک اعمال میں جلدی کرو، اس سے پہلے کہ ایسے فتنے آئیں جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں۔ آج ہمیں اس حدیث پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ فتنہ ہمیشہ اچانک ایک بڑے دھماکے کی صورت میں نہیں آتا۔ پہلے ہم ایک بری خبر سن کر حیران ہوتے ہیں، پھر دوسری خبر پر صرف افسوس کرتے ہیں، پھر تیسری خبر پر چند لمحوں کے لیے رک کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ دل آہستہ آہستہ عادی ہو جاتا ہے۔ یہی سب سے بڑا خطرہ ہے کہ ظلم بڑھتا رہے اور ہماری حساسیت کم ہوتی رہے۔
میڈیا کا کردار بھی یہاں بہت اہم ہے۔ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کو محض سنسنی خیز سرخی، خوفناک تفصیل اور کلکس حاصل کرنے کے لیے پیش کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ بچے کی شناخت، تصویر اور ایسی تفصیلات جو اس کی عزت یا مستقبل کو نقصان پہنچائیں، ان سے مکمل احتیاط ضروری ہے۔ میڈیا کو جرم چھپانا نہیں چاہیے مگر جرم کو تماشہ بھی نہیں بنانا چاہیے۔ خبر ایسی ہونی چاہیے جو عوام کو خبردار کرے، اداروں کو جواب دہ بنائے اور والدین کو اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے متوجہ کرے، نہ کہ مجرم ذہن رکھنے والوں کے لیے جرم کی تفصیلات کا نقشہ بن جائے۔ریاست کی ذمہ داری اس سے بھی بڑی ہے۔ قانون موجود ہونا کافی نہیں، قانون کا بروقت اور غیر جانب دارانہ نفاذ ضروری ہے۔ پولیس کو ابتدائی رپورٹ سے لے کر تفتیش تک ہر مرحلے میں سنجیدگی دکھانا ہوگی۔ عدالتوں کو قانون کے مطابق جلد اور موثر انصاف دینا ہوگا۔ مجرم کو سزا ضرور ملنی چاہیے، مگر سزا قانون کے ذریعے، مکمل ثبوت اور عدالتی عمل کے بعد کیونکہ غصے میں کیا گیا ہجوم کا انصاف بھی معاشرے کو جنگل بنا دیتا ہے۔
ہمیں اپنے سکولوں، مدارس، مساجد اور گھروں میں بچوں کی حفاظت کے بارے میں عمر کے مطابق تعلیم دینی ہوگی۔ انہیں یہ بتانا ہوگا کہ اچھا لمس کیا ہے، برا لمس کیا ہے، کون سی بات فوراً والدین یا کسی قابلِ اعتماد بڑے کو بتانی چاہیے، اور اگر کوئی انہیں ڈرائے تو خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ یہ تعلیم بے حیائی نہیں، حفاظت ہے۔ بچے کو خطرے سے آگاہ کرنا اسے خطرے میں ڈالنا نہیں بلکہ خطرے سے بچانا ہے۔ اور ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ بچوں کے گرد کون لوگ موجود ہیں۔ ہر اجنبی خطرناک نہیں ہوتا اور ہر جاننے والا محفوظ نہیں ہوتا۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے والدین کو سمجھنا ہوگا۔ بچے کو صرف یہ سکھانا کافی نہیں کہ اجنبی سے چیز نہ لینا بلکہ اسے یہ بھی سمجھانا ہوگا کہ اگر کوئی شناسا شخص اسے ایسی بات کہے جو اسے عجیب یا شرمندہ کرنے والی لگے تو وہ فوراً والدین کو بتائے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچہ یہ یقین رکھے کہ اگر میں کچھ بتاں گا تو مجھے ڈانٹا نہیں جائے گا، میری بات سنی جائے گی۔
ہمیں اپنے محلوں کو پھر سے زندہ کرنا ہوگا۔ اگر گلی میں کوئی بچہ رو رہا ہے تو یہ سوچ کر آگی نہ بڑھ جائیں کہ اس کے گھر والے دیکھیں گے۔ اگر کوئی بچہ کئی گھنٹے غیر معمولی طور پر اکیلا دکھائی دے تو پوچھ لینا جرم نہیں۔ اگر کسی بچے کے رویے میں اچانک خوف، خاموشی یا غیر معمولی تبدیلی آئے تو اسے محض ضد یا بدتمیزی سمجھ کر نظرانداز نہ کریں۔ کبھی کبھی بچے زبان سے نہیں، اپنے رویے سے فریاد کر رہے ہوتے ہیں۔ اور شاید ہمیں اپنے اندر یہ سوال بھی پیدا کرنا ہوگا کہ آخر ہم کہاں پہنچ گئے ہیں؟
کیا یہ وہی معاشرہ ہے جہاں کسی کی بیٹی کو اپنی بیٹی سمجھا جاتا تھا؟ کیا یہ وہی گلیاں ہیں جہاں بچے بے فکری سے کھیلتے تھے؟ کیا ہماری ترقی نے ہمیں انسان سے صرف تماشائی بنا دیا ہے؟ ہمارے ہاتھوں میں موبائل ہیں، مگر کیا کسی روتے ہوئے بچے کا ہاتھ تھامنے کی ہمت بھی باقی ہے؟ ہمارے پاس ہزاروں دوستوں کی فہرست ہے، مگر کیا ہمارے پڑوس کے بچے کا نام بھی ہمیں معلوم ہے؟۔
یہ مسئلہ صرف حکومت کا نہیں، صرف پولیس کا نہیں، صرف والدین کا نہیں۔ یہ ہم سب کا مسئلہ ہے۔ اگر ایک بچہ محفوظ نہیں تو ہماری کوئی ترقی مکمل نہیں۔ اگر ایک بچی اپنے گھر سے نکلتے ہوئے خوف محسوس کرتی ہے تو ہماری بلند عمارتیں، ہماری بڑی بڑی سڑکیں اور ہماری معاشی کامیابیاں سب بے معنی ہیں۔ معاشرے کی اصل ترقی اس وقت ہوتی ہے جب اس کا کمزور ترین فرد خود کو محفوظ سمجھے، جب ایک بچہ کسی بڑے کو دیکھ کر خوفزدہ نہ ہو بلکہ مدد کی امید کرے۔ہمیں اپنے بچوں کو صرف مستقبل کے ڈاکٹر، انجینئر، افسر، استاد یا سائنس دان نہیں بنانا، پہلے انہیں محفوظ انسان بنانا ہے۔ اور اس کے لیے ہمیں خود بھی انسان بننا ہوگا۔ ہمیں اپنے گھروں کے دروازے کھولنے ہوں گے، اپنے دلوں کے دروازے کھولنے ہوں گے، اپنے محلے کی خبر رکھنی ہوگی، اپنے بچوں کی بات سننی ہوگی، ظلم کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی اور خاموشی کو معمول بننے سے روکنا ہوگا۔ اور اگر ہم اپنی یہ روٹین تبدیل نہیں کرتے پھر ہمیں ضرور سوچنا چاہیے کہ کیا ہم مر چکے ہیں؟ کیا ہم ایک ایسی بستی کے رہنے والے ہیں جہاں معصوم بچوں کی چیخیں ہمارے کانوں تک تو پہنچتی ہیں مگر دل تک نہیں پہنچتیں؟ کیا ہم واقعی زندہ ہیں، یا صرف سانس لے رہے ہیں؟ کیا ہمارے اندر کا باپ، ماں، بھائی، بہن، استاد، پڑوسی اور انسان ابھی زندہ ہے؟ کیا ہم ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں دیکھنے والی آنکھیں تو ہیں مگر محسوس کرنے والے دل نہیں رہے، جہاں ظلم ہوتا ہے اور لوگ دیکھتے رہتے ہیں، جہاں ایک بچہ مدد کے لیے پکارتا ہے اور ہم اپنے دروازے بند کر لیتے ہیں، جہاں کسی کی بیٹی اجڑ جاتی ہے اور ہماری زندگی معمول کے مطابق چلتی رہتی ہے؟ کبھی وہ وقت تھا جب محلے کا بچہ سب کا بچہ ہوتا تھا، کسی کی بیٹی سب کی بیٹی سمجھی جاتی تھی، کسی معصوم کے آنسو پورے محلے کی نیند حرام کر دیتے تھے۔ آج اگر ایک بچے کی چیخ بھی ہمیں اپنی جگہ سے نہیں ہلاتی تو پھر ہمیں اپنے مکانوں، اپنی گلیوں اور اپنی بستی سے پہلے اپنے دلوں کا ماتم کرنا چاہیے ۔ ذرا اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا وہاں اب بھی ایک درد محسوس کرنے والا دل دھڑک رہا ہے؟ اگر ہاں تو پھر اٹھیں، اپنے بچوں کو سینے سے لگائیں، اپنے اردگرد کے بچوں کو اپنی ذمہ داری سمجھیں اور اس خاموشی کو توڑ دیں۔ کیونکہ جس دن کسی معصوم بچے کی چیخ ہمیں اندر سے بیدار کرے گی، شاید اسی دن ہماری بستی پھر سے زندہ ہونا شروع ہو جائے گی۔ ورنہ تاریخ ہمیں صرف بے حس لوگوں کے نام سے یاد رکھے گی کہ وہاں بچے مرتے رہے اور لوگ زندہ ہونے کے باوجود مردوں سے بدتر زندگی گزارتے رہے۔
عبدالحفیظ شاہد
عبدالحفیظ شاہد





