
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایران نے اردن میں قائم فضائی اڈے الازرق پر متعدد بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔
اس اڈے پر امریکی فوجی اہلکار اور جنگی طیارے موجود ہیں جس کے باعث ایران اسے اہم امریکی فوجی مرکز سمجھتا ہے۔
عرب میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اردنی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ ایران نے رات گئے اور بدھ کی صبح مجموعی طور پر 20 بیلسٹک میزائل داغے جن میں سے 18 میزائل فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیے گئے جبکہ 2 میزائل کھلے علاقوں میں گرے
اردنی حکام کے مطابق حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ میزائل حملوں میں امریکی ایف 35، ایف 16 اور ایف 15 جنگی طیاروں کی دیکھ بھال، تیاری اور تعیناتی کے مقامات، طیاروں کے حفاظتی شیلٹرز اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور انہیں شدید نقصان پہنچا۔
عرب میڈیا کے مطابق واشنگٹن کے ایک امریکی عہدیدار نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اردن میں امریکی فوجی دستوں کے خلاف ایرانی میزائل حملہ مؤثر ثابت نہیں ہوا اور مربوط فضائی و میزائل دفاعی نظام نے حملے کو ناکام بنا دیا۔
ایران نے حالیہ ہفتوں میں اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو متعدد مرتبہ نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ سلسلہ اس وقت مزید بڑھا جب امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایرانی میزائل لانچر تنصیبات پر حملے کیے، واشنگٹن کا مؤقف تھا کہ ایران ان لانچروں کے ذریعے آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی تیاری کر رہا تھا۔
ایران نے جواباً خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر حملے شروع کیے اور بعد ازاں اردن کو بھی اپنی کارروائیوں میں شامل کر لیا۔
امریکی کانگریس کے تحقیقاتی ادارے کی 2026ء کی رپورٹ کے مطابق اردن میں تقریباً 4,000 امریکی فوجی موجود ہیں، ان میں سے کچھ الازرق اڈے پر تعینات ہیں جبکہ امریکی فوجی جنوبی اردن کے کنگ فیصل فضائی اڈے اور شام و عراق کی سرحدوں کے قریب واقع ٹاور 22 نامی فوجی مرکز پر بھی موجود ہیں۔
ایران مارچ سے ستمبر کے دوران الازرق اڈے پر 10 سے زائد مرتبہ حملے کا دعویٰ کر چکا ہے، 17 جولائی کو ایران نے بیلسٹک میزائلز اور ڈرونز کے ذریعے امریکی طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی تھی کہ اس حملے میں 2 امریکی فوجی ہلاک، 1 لاپتہ اور 4 زخمی ہوئے ہیں۔







