Column

سبھی مسائل کا حل نئے انتظامی یونٹس، چھوٹے صوبے بنانے میں ہے؟

سبھی مسائل کا حل نئے انتظامی یونٹس، چھوٹے صوبے بنانے میں ہے؟
تحریر : راجہ شاہد رشید
چہار سو نئے انتظامی یونٹس اور چھوٹے صوبوں کی ہی تکرار ہے، پہلے آپ یہ سوچئے تو سہی کہ یہ کس کی حکومت ہے اور کس کا اقتدار ہے، کس کا اختیار ہے اور نئے صوبے نئے صوبے جیسے یہ جو اسباق ہیں، اسٹیبلشمنٹ یا صاحبان سیاست و جمہوریت میں سے یہ کس کی پکار ہے۔ یہ کیوں اس قدر بحث و مباحثے ہیں یا خلفشار ہے۔ اگر ہم آئین سے پوچھیں تو 1973ء کا پہلا متفقہ آئین بھی سبھی صوبائی اسمبلیوں میں دو تہائی اکثریت کے بغیر اس ’’ اکھاڑ پچھاڑ‘‘ کی اجازت نہیں دے گا، ماضی میں ہماری تمام سیاسی جماعتیں صوبائی خود مختاری کے لیے متحد ہوئی تھیں اور اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو ایک اہم آئینی حیثیت حاصل ہوئی ہے اور اختیار بھی، آخر ایسا کیا ہوا ہے کہ اچانک ہی ہم ایک ہی بات پہ اڑ گئے ہیں اور بنام انتظامی یونٹس چھوٹے صوبے بنانے میں پڑ گئے ہیں۔ ہم نے سب سے پہلے دیکھنا اور سوچنا یہ ہے کہ اس گلشن ویراں میں خزاں ہے یا بہار ہے۔ غربت، مہنگائی و بے روزگاری ہے، معیشت درست کرنے میں حکومت ناکام ہے، یہ سارا سیاسی سسٹم ہی بے بیانیہ بے بلکہ بے کار ہے، نوجوان بسلسلہ روزگار باہر بھاگ رہے ہیں کیونکہ ملک میں کوئی ملازمت و مزدوری، نوکری ہے نہ کاروبار ہے۔ اب آپ ہی بتائیں کہ کیا نئے انتظامی یونٹس یا چھوٹے صوبے بنانے کے لیے یہ ماحول ساز گار ہے۔؟ خبر چھپی ہے کہ’’ بجلی کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے جس سے صارفین پر 12ارب 66کروڑ کا بوجھ پڑے گا، دوسری جانب پٹرول 12روپے 90پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 3روپے 72پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے‘‘۔ عالمی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ نے دو نفسیاتی حدیں کھو دیں، سرمایہ کاروں کے 194ارب روپے ڈوب گئے، ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں میں بے یقینی اور تیل مہنگا ہونے کے باعث یہ دبائو مزید بڑھنے کا خدشہ ابھی برقرار ہے۔ وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں حکومتی نظام، بیوروکریسی اور کرپشن پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ’’ کوشش پوری کرتا ہوں لیکن تکلیف میں ہوں، میں نتائج نہیں دے پا رہا، کئی بار سنجیدگی سے وزارت چھوڑنے کا سوچا، میں نے اپنا 60سالہ تجربہ بھی استعمال کیا لیکن یہاں ہر لیول پر کرپشن ہو رہی ہے، میں پوری محنت کے بعد جب آگے بات کرتا ہوں تو بیوروکریٹس اس پر عمل ہی نہیں کرتے‘‘۔ انہوں نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈھائی سال کے عرصہ میں وزیراعظم نے انہیں ایک منٹ کے لیے بھی ملاقات کا وقت نہیں دیا، محسن نقوی وزیر داخلہ ہے شاید اس لیے وزیراعظم ان سے زیادہ ملتے ہیں۔ حکومتی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’’ اس ملک میں حکومتیں تو بدلتی ہی رہی ہیں لیکن غریب عوام کی حالت میں ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں آئی‘‘۔ سانحہ پمز کے زخم ابھی تازہ ہیں، ابھی ان 14معصوم بچوں کے کفن بھی میلے نہیں ہوئے تھے تو لاہور کے ایک ہسپتال میں بھی آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا، اللہ کا شکر ہے انسانی جانیں بچ گئیں، تھر پارکر کے سول ہسپتال مٹھی میں 8ماہ کے دوران 480 نومولود بچوں کی اموات کا انکشاف ہوا ہے، ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق 480بچے جانبر نہ ہو سکے جبکہ106بچوں کو مزید علاج کے لیے دوسرے ہسپتال منتقل کیا گیا، ہسپتال انتظامیہ نے مختلف بیماریاں اور غذائی قلت بچوں کی اموات کی وجوہات بتلائی ہیں۔ پاکپتن کے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں آکسیجن نہ ملنے اور عملے کی مبینہ غفلت کی نتیجے میں 20بچوں کی اموات کا ایک مقدمہ 5جولائی 2025ء کو اس وقت درج کیا گیا جب وزیراعلیٰ پنجاب نے ہسپتال کا دورہ کیا اور لوگوں نے شکایات کے انبار لگا دئیے، جس پر وزیراعلیٰ نے دونوں ملزمان کو موقع پر ہی گرفتار کرا دیا تھا۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سنائے گئے اس کیس کے فیصلے میں عدالت نے سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر سہیل اصغر اور ایم ایس عدنان غفار کو بری کر دیا، بریت کی پہلی وجہ بچوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور طبی ماہرین کی رائے نہ ہونا بتائی گئی جبکہ دوسری وجہ اندراج مقدمہ کے لیے پی ایچ سی کی سفارش نہ ہونا قرار دی گئی۔
ہم بھی کیا عجب ہیں، کڑی دھوپ کے تلے
صحرا خرید لائے ہیں، برسات بیچ کر
اخبارات کے مطابق فیصل آباد میں مختلف واقعات میں معاشی حالات سے تنگ آ کر خاتون سمیت تین افراد نے خودکشی کر لی، سرگودھا میں حالات سے تنگ آ کر 35سالہ شخص نے زہریلی گولیاں کھا کر خود کشی کر لی، مغلپورہ لاہور میں 55سالہ نور محمد نے گلے میں پھندا ڈال کر زندگی کا خاتمہ کر لیا، شاہ باغ کے علاقہ میں 17سالہ نبیل نے مالی مشکلات سے تنگ آ کر خودکشی کر لی۔
بھوک پھرتی ہے مرے دیس میں، ننگے پائوں
رزق ظالم کی تجوری میں، چُھپا بیٹھا ہے
کیا ان سب مسائل و مشکلات کا حل نئے انتظامی یونٹس اور چھوٹے صوبے بنانے میں ہی ہے۔ کیا یہ وقت ہے ایسے فیصلے کرنے کا جن سے سارے صوبوں میں ایک ہلچل سی پیدا ہو، افراتفری پھیلے اور صوبائی تعصب جاگے۔ اس سب کے باوجود بھی اگر آپ ایسا کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کون روک سکتا ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے قومی اتحاد و اتفاق و فیڈریشن کو کوئی خطرہ نہیں ہے بلکہ وفاق مضبوط ہوگا، مسائل حل ہوں گے، معیشت درست ہو گی، سب صوبوں میں امن و امان ہوگا۔ اگر آپ واقعی سچے دل سے، نیک نیتی سے ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کی خاطر ایسا کر رہے ہیں تو ان مشکل ترین حالات میں بھی آپ نئے انتظامی یونٹس یعنی چھوٹے صوبے ضرور بنائیں لیکن اس سے زیادہ ضرورت چھوٹے ڈیم بنانے کی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر ضرورت بنے ہوئے صوبے یعنی پہلے سے موجود صوبوں کو ساتھ چلانے کی ہے۔

جواب دیں

Back to top button