Column

آخری دور کے عجب انسان

آخری دور کے عجب انسان
تحریر : خالد غور غشتی
ہم جس نفسانفسی کے دور میں جی رہے ہیں، ہر طرف افراتفری کا سماں ہے۔ آپ جتنا دروغ گوئی کا مظاہرہ کریں گے، ہر طرف عزت اور بھلے بھلے ہوگی۔ ہر کوئی آپ پر گرویدہ اور جان نچھاور کرنے کیلیے تیار ہو گا۔ ہر شخص آپ کے ساتھ چلنے پر فخر محسوس کرے گا۔ پھر آپ جتنا ظلم ڈھائیں گے، حق غضب کریں گے اور دوسروں پر زمین تنگ کریں گے، ہر ایک کی زبان پر آپ کا ذکر خیر ہوگا۔ آپ کی کوٹھی بنگلے، کار اور پلاٹوں کا ذکر زبان زدِ عام ہوگا۔
ہم نے تو زمانے کا دستور نرالا دیکھا
اسے چھٹی نہ ملی، جس نے سبق یاد کیا
مفلس ساری عمر سسک سسک محرومیوں سے مر جاتا ہے اور لوگ اس کے جنازے کو کندھا دینے کیلیے بھی تیار نہیں ہوتے، ہاں مگر افسوس جابر سرمایہ دار کا کتا بھی مر جائے تو دور دور سے لوگ اسے دیکھنے کیلیے آتے ہیں۔ گریہ و زاری کرتے ہیں، کیا ہوا، آخری بار کیا کھایا؟ قصہ کوتاہ یہ کہ اس کی جملہ ادائوں پر گھنٹوں ابحاث ہوتی ہیں۔ اگرچہ غریب کا بچہ بھی مرجائے تو کہا جاتا ہے، چھوٹا ہے، چھوڑو دعائوں کی ضرورت نہیں، دور و نزدیک سے آنے والے مہمانوں کو تکلیف ہوگی۔ بچہ تھا، بخشا بخشایا تھا، اسے کیا ضرورت ہے دعائوں کی؟ لوگ آئیں گے خواہ مخواہ بچے کی ادائوں کا پوچھیں گے، تعزیت کریں گے تو تکلیف ہوگی۔ ہائے بشری وجود کتنا سستا ہوگیا، حیوانی وجود کیسے مال و متاع کی وجہ سے بازی لے گیا۔ آخری زمانے کے متعلق چند صحیح اسناد کے ساتھ احادیث پیش کر کے اجازت چاہوں گا۔ بس آپ نے غور کرنا ہے کہ مبارک لبوں سے نکلے الفاظ کس قدر سچے ہیں۔
مسلم شریف کتاب الایمان میں ہے، ان فتنوں کے واقع ہونے سے پہلے پہلے نیک اعمال کرلو، جو اندھیری رات کی طرح چھا جائیں گے، ایک شخص صبح مومن، شام کو کافر ہوگا، یا شام کو مومن صبح تک کافر ہوجائے گا اور معمولی سے فائدے کی خاطر اپنا قیمتی ایمان بیچ دے گا۔
یہ کیسے ممکن ہوگا؟ یہ صرف اور صرف نفس کو خوش کرنے کی خاطر ہوگا۔ نوکری، پیٹ پوجا، جنسی ہوس اور چند سکوں کے حصول کیلیے ہوگا۔
مسند احمد بن حنبل کی روایت ہے، کئی لوگ دنیاوی عزت کی خاطر اپنا دین بہت تھوڑی دنیاوی متاع کے عوض فروخت کر ڈالیں۔
دور کیوں جاتے ہیں، سوشل میڈیا پر آئے روز آپ یہ تماشہ دیکھ ہی رہے ہیں، کیسے ٹک ٹاک پر چند وویوز ، فالووز اور ڈالرز کی خاطر لوگ اپنی مائوں ، بہنوں اور بیٹیوں کا تماشہ لگائے بیٹھے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔
اس لیے تو مسند احمد بن حنبل کی روایت میں کہا گیا، کئی لوگ دنیاوی عزت کی خاطر، تھوڑے سے نفع کے لیے اپنا اخلاق بیچ ڈالیں گے۔
اس لیے فرمایا گیا، آخری دور میں ایمان بچانا اس قدر دشوار ہوگا جیسے ہاتھ پر انگارہ رکھنا۔
ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ لوگوں پر ایسا زمانہ بھی آئے گا، جس میں دھوکہ ہی دھوکہ ہوگا، اس وقت جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا ثابت کیا جائے گا۔ بددیانت کو امانت دار ثابت کیا جائے گا۔ رویبضہ قوم کی نمائندگی کریں گے۔ عرض کیا گیا رویبضہ سے کیا مراد ہے؟، فرمایا گیا، وہ نااہل اور فاسق شخص جو اہم معاملات میں قوم کی نمائندگی کرے۔
احمد بن حنبل کی ایک اور روایت میں ہے: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی، جب تک بدنام زمانہ شخص، جس کا باپ بھی بدنام زمانہ تھا، وہ دنیا میں سب سے معزز اور شریف نہ سمجھا جائے۔

جواب دیں

Back to top button