Column

سندھ کی سیاست میں نئی کروٹ، تحریک انصاف کی واپسی یا محض سیاسی شور؟

سندھ کی سیاست میں نئی کروٹ، تحریک انصاف کی واپسی یا محض سیاسی شور؟
تحریر : غلام مصطفیٰ جمالی

سندھ کی سیاست ایک بار پھر ایسی کروٹ لے رہی ہے جس نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے صوبے میں اپنی سیاسی سرگرمیاں تیز کرنے اور کارکنوں کو متحرک کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے، جبکہ 27ستمبر کو ملک گیر احتجاج کی تیاری نے بھی سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔ ایک ایسے صوبے میں جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کئی دہائیوں سے اپنی مضبوط سیاسی جڑیں رکھتی ہے، تحریک انصاف کی جانب سے عوامی رابطہ مہم شروع کرنا محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ مستقبل کی سیاست کے لیے ایک اہم اشارہ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔
سندھ کی سیاست کو صرف جلسوں، نعروں اور سیاسی بیانات کے ذریعے سمجھنا ممکن نہیں۔ اس صوبے کا سیاسی مزاج دوسرے صوبوں سے مختلف ہے۔ یہاں ووٹر کے فیصلے میں مقامی امیدوار، برادری، قبائلی اثر، شخصی تعلقات، مقامی مسائل، سیاسی تاریخ اور علاقے کی مخصوص صورتحال اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی لیے کسی بھی قومی جماعت کے لیے سندھ میں قدم جمانا صرف مقبول سیاسی نعرے لگانے سے ممکن نہیں ہوتا۔ اسے گاں کی سطح تک اپنی موجودگی ثابت کرنا پڑتی ہے اور لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہونا پڑتا ہے۔
تحریک انصاف اس وقت سندھ میں اپنی سیاسی موجودگی کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی قیادت مختلف علاقوں میں کارکنوں سے ملاقاتیں کر رہی ہے اور عوامی رابطہ بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف کے لیے یہ ایک اہم مرحلہ ہے کیونکہ اسے اپنی قومی سطح کی مقبولیت کو سندھ کے مخصوص سیاسی حالات میں تبدیل کرنا ہوگا۔ اگر پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ صرف عمران خان کی مقبولیت سندھ میں اسے بڑی انتخابی کامیابی دلا سکتی ہے تو یہ اندازہ شاید مکمل طور پر درست نہ ہو۔ سندھ کے ووٹر کو قومی سیاست کے ساتھ ساتھ اپنے مقامی مسائل کا جواب بھی چاہیے۔
سندھ کے دیہی علاقوں میں سب سے بڑا سوال زراعت اور پانی کا ہے۔ کسان فصل کی قیمت، پانی کی دستیابی، بجلی کے نرخ، کھاد اور بیج کی قیمتوں اور زرعی اخراجات کے بوجھ سے پریشان ہے۔ دوسری طرف نوجوان نسل روزگار کے مواقع تلاش کر رہی ہے۔ سرکاری اداروں میں محدود مواقع، نجی شعبے کی کمزور موجودگی اور مہنگائی نے نوجوانوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ صحت اور تعلیم کا نظام بھی ایسے سوالات اٹھا رہا ہے جنہیں کوئی بھی سیاسی جماعت نظر انداز نہیں کر سکتی۔
اگر تحریک انصاف سندھ میں واقعی ایک مضبوط سیاسی متبادل بننا چاہتی ہے تو اسے ان مسائل کو اپنی سیاست کا بنیادی حصہ بنانا ہوگا۔ اسے سندھ کے کسان کو یہ بتانا ہوگا کہ اس کی زرعی پالیسی کیا ہوگی، نوجوان کو روزگار دینے کے لیے کیا منصوبہ ہے، شہروں کے لیے کیا ترقیاتی حکمت عملی ہوگی اور دیہی علاقوں میں تعلیم و صحت کے مسائل کیسے حل کیے جائیں گے۔ صرف حکومت مخالف بیانیہ ایک جماعت کو اقتدار تک پہنچانے کے لیے کافی نہیں ہوتا، عوام کو متبادل بھی دکھانا پڑتا ہے۔
یہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے بھی ایک اہم سوال موجود ہے۔ سندھ میں مسلسل اقتدار نے پیپلز پارٹی کو ایک مضبوط سیاسی جماعت بنا دیا ہے، لیکن طویل اقتدار کے ساتھ عوامی توقعات بھی بڑھتی ہیں۔ ماضی کی سیاسی قربانیاں اور جماعت کی تاریخی حیثیت اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن آج کا ووٹر اپنے موجودہ مسائل کا حل چاہتا ہے۔ وہ یہ نہیں پوچھتا کہ پچاس سال پہلے کیا ہوا تھا، وہ پوچھتا ہے کہ آج میرے بچے کو روزگار کیوں نہیں مل رہا، میرے علاقے میں صاف پانی کیوں نہیں، سرکاری اسپتال میں علاج کیوں مشکل ہے اور میرے شہر کی سڑکیں کب بہتر ہوں گی۔
یہ سوال کسی ایک جماعت کے خلاف نہیں بلکہ پورے سیاسی نظام کے سامنے ہیں۔
سیاست میں سب سے خطرناک مرحلہ وہ ہوتا ہے جب حکمران عوام کی ناراضی کو معمولی سمجھنے لگیں۔ عوام خاموش رہ سکتے ہیں، لیکن خاموشی کا مطلب ہمیشہ رضامندی نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی عوام اپنی شکایات کو دل میں جمع کرتے رہتے ہیں اور انتخابات کے دن اپنا فیصلہ سناتے ہیں۔ اسی لیے کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے ضروری ہے کہ وہ عوام کے درمیان اپنی موجودگی برقرار رکھے اور لوگوں کی شکایات کو سنجیدگی سے لے۔
تحریک انصاف کے لیے سندھ میں سب سے بڑا چیلنج تنظیمی ہے۔ سوشل میڈیا پر مقبولیت اور زمینی سیاست میں بہت فرق ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد کسی سیاسی جماعت کے حامی دکھائی دے سکتے ہیں، لیکن انتخابی سیاست میں پولنگ اسٹیشن سے لے کر یونین کونسل تک تنظیم، کارکن، امیدوار اور ووٹر سے مسلسل رابطہ ضروری ہوتا ہے۔ سندھ جیسے صوبے میں جہاں مقامی سیاست کا کردار بہت مضبوط ہے، وہاں یہ کام مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
تحریک انصاف اگر اپنے کارکنوں کو منظم کرتی ہے، مقامی قیادت کو آگے لاتی ہے اور سندھ کے مختلف اضلاع میں مستقل سیاسی رابطہ قائم رکھتی ہے تو اس کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ لیکن اگر سرگرمیاں صرف احتجاجی دنوں تک محدود رہیں تو دیرپا سیاسی اثر پیدا کرنا مشکل ہوگا۔
27 ستمبر کا احتجاج بھی اسی سلسلے کا ایک اہم امتحان بن سکتا ہے۔ احتجاج کسی سیاسی جماعت کی طاقت کا اظہار ضرور ہوتا ہے، لیکن احتجاج اور انتخابات دو مختلف میدان ہیں۔ احتجاج میں سیاسی جذبات لوگوں کو سڑکوں پر لا سکتے ہیں، جبکہ انتخابات میں ووٹر امیدوار، جماعت، مقامی تعلقات اور مستقبل کی توقعات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتا ہے۔
اس لیے تحریک انصاف کے لیے اصل کامیابی یہ ہوگی کہ وہ احتجاجی سیاست کو مستقل عوامی رابطے اور منظم انتخابی سیاست میں تبدیل کر سکے۔
سندھ میں ایک اور اہم حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ صوبے کے عوام سیاسی طور پر باشعور ہیں۔ انہوں نے کئی دہائیوں میں مختلف سیاسی تحریکیں دیکھی ہیں۔ انہوں نے حکومتیں بنتے اور گرتے دیکھی ہیں، سیاسی جماعتوں کو عروج حاصل کرتے اور پھر زوال کا شکار ہوتے دیکھا ہے۔ اس لیے سندھ کا ووٹر کسی بھی سیاسی جماعت کے دعوے کو فوری طور پر قبول نہیں کرتا۔ وہ وقت کے ساتھ کارکردگی کو دیکھتا ہے اور پھر فیصلہ کرتا ہے۔
آج سندھ کا نوجوان خاص طور پر سیاسی جماعتوں سے نئے سوالات کر رہا ہے۔ اسے روایتی سیاسی تقریروں سے زیادہ اپنے مستقبل کی فکر ہے۔ وہ پوچھتا ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کہاں ملے گا؟ کاروبار شروع کرنے کے لیے سرمایہ کہاں سے آئے گا؟ مہنگائی میں گھر کیسے چلے گا؟ اگر وہ بیرون ملک نہیں جا سکتا تو پاکستان میں اس کے لیے مواقع کہاں ہیں؟ یہ سوال آنے والے انتخابات میں بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اگر پیپلز پارٹی ان سوالات کا جواب اپنی حکومتی کارکردگی سے دیتی ہے تو اس کی سیاسی پوزیشن مضبوط رہ سکتی ہے۔ اگر تحریک انصاف ان سوالات کا جواب ایک قابل عمل متبادل پروگرام سے دیتی ہے تو وہ سندھ میں اپنی سیاسی جگہ بنا سکتی ہے۔ لیکن اگر دونوں جماعتیں صرف ایک دوسرے پر الزام لگانے تک محدود رہیں تو عوام کی مایوسی میں اضافہ ہوگا۔
سیاست کا اصل حسن مقابلے میں ہے۔ اگر حکومت کو معلوم ہو کہ ایک مضبوط اپوزیشن موجود ہے تو اسے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اگر اپوزیشن کو معلوم ہو کہ عوام صرف نعروں سے مطمئن نہیں ہوں گے تو اسے بہتر منصوبہ اور مضبوط تنظیم بنانا پڑتی ہے۔ اس لحاظ سے سندھ میں سیاسی مقابلہ بڑھنا جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ نہیں بلکہ فائدہ مند بھی ہو سکتا ہے، بشرطیکہ یہ مقابلہ تشدد، نفرت اور تقسیم کے بجائے پالیسی اور کارکردگی کی بنیاد پر ہو۔
سندھ کی سیاست میں پیپلز پارٹی کے پاس طویل سیاسی تاریخ، مضبوط تنظیم اور عوامی جڑیں ہیں۔ تحریک انصاف کے پاس اپنی قومی سطح کی مقبولیت اور متحرک کارکنوں کی طاقت ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان مقابلہ آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو سکتا ہے۔ لیکن اس مقابلے کا فیصلہ سیاسی بیانات سے نہیں بلکہ عوامی اعتماد سے ہوگا۔
سندھ کے عوام کو اب ایسی سیاست چاہیے جو ان کے مسائل کو سمجھ سکے۔ انہیں ایسے نمائندے چاہیے جو انتخابات کے بعد بھی ان کے درمیان موجود رہیں۔ انہیں ایسی حکومت چاہیے جو سرکاری وسائل کو عوامی امانت سمجھے۔ انہیں ایسی اپوزیشن چاہیے جو صرف حکومت گرانے کی بات نہ کرے بلکہ حکومت سنبھالنے کی صلاحیت بھی ثابت کرے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ سندھ میں سیاسی اختلاف کو دشمنی نہ بنایا جائے۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، لیکن سیاسی نفرت معاشرے کو تقسیم کرتی ہے۔ ایک دوسرے کو غدار، دشمن یا ملک دشمن قرار دینے کے بجائے پالیسیوں پر بحث ہونی چاہیے۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس جماعت کو چاہیں ووٹ دیں اور جس جماعت کو چاہیں مسترد کریں۔
آج سندھ ایک ایسے سیاسی مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے جہاں پرانی سیاسی طاقت اور نئی سیاسی کوششیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہیں۔ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تحریک انصاف سندھ میں پیپلز پارٹی کی سیاسی بالادستی کو ختم کر دے گی، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر تحریک انصاف نے اپنی سرگرمیوں کو مستقل تنظیم، مقامی قیادت اور عوامی مسائل کے ساتھ جوڑ دیا تو سندھ کی سیاست میں ایک نیا مقابلہ ضرور پیدا ہو سکتا ہے۔
آخرکار سیاست میں کوئی جماعت ہمیشہ کے لیے فاتح نہیں ہوتی اور کوئی جماعت ہمیشہ کے لیے شکست خوردہ نہیں رہتی۔ عوامی اعتماد وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ جو جماعت عوام کے مسائل حل کرے گی، عوام اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے، اور جو جماعت عوام سے دور ہوتی جائے گی، اس کے لیے مشکلات بڑھتی جائیں گی۔
سندھ کی سیاست کا اگلا باب شاید آج نہیں لکھا جا رہا، لیکن اس کی ابتدائی سطریں ضرور لکھی جا رہی ہیں۔ تحریک انصاف کی سرگرمیاں، پیپلز پارٹی کی حکمرانی، نوجوانوں کی بے چینی، کسانوں کے مسائل اور عوام کی بڑھتی ہوئی توقعات مل کر آنے والے سیاسی منظرنامے کو تشکیل دیں گے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ سندھ میں تحریک انصاف واپس آ رہی ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ سندھ کا عوامی مزاج کس طرف جا رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے دعوے کرتی رہیں گی، جلسے بھی ہوں گے، احتجاج بھی ہوں گے اور تقاریر بھی ہوں گی، لیکن آخری فیصلہ سندھ کے عوام کریں گے۔ کیونکہ سیاست میں سب سے طاقتور آواز جلسے کا نعرہ نہیں، عوام کا ووٹ ہوتا ہے۔
غلام مصطفیٰ جمالی

جواب دیں

Back to top button