پنجاب میں بے چہرہ عدالتی کاروائی کا قانون

پنجاب میں بے چہرہ عدالتی کاروائی کا قانون
تحریر : روشن لعل
مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہونیوالی ہوشربا ترقی کے موجودہ دور میں کسی کی شناخت اور چہرے کو پوشیدہ رکھنا ناممکن حد تک مشکل تصور کیا جاتا ہے۔ ایسے دور میں مسلم لیگ ن کی پنجاب حکومت نے صوبائی اسمبلی میں اپنی قطعی اکثریت کے بل پر ایک ایسا قانون منظور کرایا ہے جس کے تحت دہشت گردی کے مقدمات میں عدالتی کاروائی کے دوران صرف ججوں کی نہیں بلکہ استغاثہ اور صفائی کے وکلاء سمیت گواہوں کی شناخت اور شکلوں کو بھی پوشیدہ رکھا جائے گا ۔ یہ قانون جسے انسداد دہشت گردی ( پنجاب ترمیم) ایکٹ 2026کا نام دیا گیا ہے ، ایک بل کی شکل میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی صدارت میں پنجاب کابینہ نے مئی 2026ء کے دوران اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے منظور کیا۔ یہ بل 8جون 2026ء کو پنجاب اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی کے سپر د کیا گیا اور 31اگست 2026ء کو اراکین اسمبلی نے واضح اکثریت کے ساتھ اس کی منظوری دی۔ اس قانون کی مزید تفصیل یہ ہے کہ حکومت پنجاب کے مقرر کردہ گریڈ بیس کے ایک افسر کو یہ تعین کرنے کا اختیار ہوگا کہ دہشت گردی کا کونسا مقدمہ نئے قانون کے تحت ججوں وکیلوں اور گواہوں کی شناخت اور شکلیں پوشیدہ رکھ کر آگے بڑھایا جائے گا اور کس کیس کی سماعت حسب سابق ہوگی۔ پاکستان کی سول سوسائٹی نے انسداد دہشت گردی ( پنجاب ترمیم) ایکٹ 2026( بے چہرہ عدالتی کاروائی کا قانون) کی منظوری پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیموں سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس قانون پر عمل درآمد سے ایک طرف تو دنیا میں یہ پیغام جائے گا کہ ہم دہشت گردوں کے سامنے اس حد تک بے بس ہیں کہ اپنے ججوں ، وکلا اور گواہان کو ان کی دہشت گردی سے تحفظ فراہم نہیں کر سکتے اور دوسری طرف مقدمات کی کھلی سماعت نہ ہونے کی وجہ سے، ہمارے نظام انصاف کے غیر شفاف ہونے کے پہلے سے موجود تاثر کو مزید تقویت ملے گی۔
انسداد دہشت گردی ( پنجاب ترمیم) ایکٹ 2026کی منظوری سے قبل پنجاب اسمبلی میں اس پر ہونیوالی بحث کے دوران پی ٹی آئی کے قائد حزب اختلاف معین ریاض قریشی اور ان کی جماعت کے فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایم پی اے رانا آفتاب احمد خان نے اس قانون کے خلاف بھر پور دلائل دیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا آئین دہشت گردوں سمیت ہر ملزم کو اپنے خلاف مقدمات کی کھلی اور شفاف سماعت کا حق دیتا ہے ، جب انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 میں بنایا گیا اس وقت پہلے سے موجود آئینی شقوں کی پاسداری کی گئی تھی ۔ اس قانون میں جب سال 2013ء اور 2018ء میں قومی اسمبلی نے ترامیم کیں اس وقت بھی گواہوں کے تحفظ کو مقدم رکھتے ہوئے جیل میں مقدمات کی سماعت کا قانون تو منظور کیا گیا لیکن مقدمات کی شفاف اور کھلی سماعت پر کوئی قدغن نہیں لگائی گئی تھی۔ تحریک انصاف کے اراکین پنجاب اسمبلی نے اجلاس کے دوران انسداد دہشت گردی ( پنجاب ترمیم) ایکٹ 2026( بے چہرہ عدالتی کاروائی کا قانون) کی جس حد تک ممکن تھا مخالفت کی لیکن اس بل پر ووٹنگ کے دوران واک آئوٹ کے باوجود مسلم لیگ کی حکومت کو اس کی منظوری سے نہ روک سکے۔ پاکستان تحریک انصاف کے پنجاب اسمبلی میں موجود منتخب اراکین نے اجلاس کے دوران تو مذکورہ بل کی مخالفت کی لیکن یہ بل منظوری سے ایک دو روز پہلے تک اگر میڈیا میں زیر بحث نہ آسکا تو ایسا ہونے میں مسلم لیگ ن کی حکمت عملی کے ساتھ پی ٹی آئی کی کوتاہیوں کا بھی عمل دخل ہے۔ انسداد دہشت گردی ( پنجاب ترمیم) بل 2026( بے چہرہ عدالتی کاروائی کا قانون) کا مسودہ مئی میں پنجاب کابینہ نے منظور کیا اورمزید نوک پلک سنوارنے کے لیے 8جون کو اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا۔ تحریک انصاف کے اراکین، صوبائی اسمبلی کے اجلاسوں کی کارروائیوں میں تو حصہ لیتے ہیں لیکن عمران خان کے حکم پر انہوں نے اکتوبر 2025ء کے بعد سے اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ پی ٹی آئی کے رانا آفتاب احمد خان ، جنہوں نے اسمبلی اجلاس کے دوران اس بل کی کھل کر مخالفت کی وہ اس کمیٹی کے بھی رکن ہیں، جسے اسمبلی میں منظوری سے قبل یہ بل سپر د کیا گیا تھا، رانا آفتاب نے اگر مذکورہ اسمبلی کمیٹی کا بائیکاٹ نہ کیا ہوتا تو وہ نہ صرف کمیٹی اجلاس میں اس بل کے خلاف اپنا موقف پیش کرتے بلکہ اس کی ان شقوں کو بھی قبل از وقت منظر عام پر لے کر آتے جن پر اب میڈیا اور سول سوسائٹی تنقید کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پنجاب میں انسداد دہشت گردی کے نام پر بے چہرہ عدالتی کاروائی کا جو قانون متعارف کرایا گیا ہے اس کا تصور مسلم لیگ ن یا پنجاب حکومت کا اپنا ہر گز نہیں ہے۔ موجودہ پنجاب حکومت نے خود یہ بل تخلیق کرنے کی بجائے اس کا تصور لاطینی امریکہ کے ملکوں سے مستعار لیا ہے۔ لاطینی امریکہ کے کچھ ملکوں میں 1980ء اور 1990ء کی دہائیوں کے دوران ڈرگ لارڈز نے اپنی دہشت اور اثر و رسوخ کے بل پر ریاستی مشینری کو اس حد تک بے بس کر دیا تھا کہ جج ان کے خلاف فیصلہ دینے کی صورت میں مارے جانے کے ڈر سے ان کے مقدمات کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے وہاں اٹلی کی پیروی کرتے ہوئے ججوں کو ایسے شیشوں کے پیچھے بٹھا کر مقدمات کی سماعت کا انتظام کیا گیا جہاں ان کے چہرے ملزمان سے پوشیدہ رہیں۔ اس انتظام کو بے چہرہ عدالتی کاروائی کا نام دیا گیا۔ لاطینی امریکہ میں بے چہرہ عدالتی کارروائیوں کے آغاز کے بعد ، بیرونی دنیا میں اس عمل کو طے شدہ انسانی حقوق سے متصادم قرار دے کر اس قدر تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ ان ملکوں کو بہت جلد معمول کی عدالتی کارروائیوں کے نظام کی طرف واپس آنا پڑا۔
بے چہرہ عدالتی کارروائیوں کے جس نظام کو بیرونی دنیا کچھ دہائیاں پہلے انسانی حقوق کے منافی قرار دے چکی ہے ، ہمارے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب یہ نظام اختیار کرنے کے لیے بل منظور کر چکا ہے۔ سننے میں آرہا ہے کہ مسلم لیگ ن ، اس بل کو پنجاب اسمبلی کی بجائے قومی اسمبلی میں پیش کرنا چاہتی تھی لیکن وہاں پیپلز پارٹی کی ممکنہ مخالفت کا خدشہ پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب کو اسے منظور کرانے کا ٹاسک دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز کی پنجاب حکومت ، صوبائی اسمبلی سے بے چہرہ عدالتی کارروائی کا بل منظور کرانے کے بعد اسے حتمی قانون بنانے کی غرض سے پیپلز پارٹی کے گورنر پنجاب سلیم حیدر کو ارسال کر چکی ہے۔ پیپلز پارٹی کے گورنر پنجاب نے تاحال اس بل پر دستخط نہیں کیے۔ ان کی طرف سے معینہ مدت کے دوران دستخط نہ کیے جانے کے باوجود پنجاب حکومت چاہے کچھ دیر سے سہی مگر اس بل کو قانون بنانے کی مکمل استعداد رکھتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس دوران ہماری سول سوسائٹی ، پنجاب حکومت پر انسانی حقوق کے منافی قرار دیئے گئے بے چہرہ عدالتی کارروائیوں کے قانون سے دستبردار ہونے کے لیے کس حد تک دبائو ڈالتی ہے۔





