ColumnImtiaz Aasi

وقت بدلتے دیر نہیں لگتی

وقت بدلتے دیر نہیں لگتی
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
کہتے ہیں وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔ مجھے یاد ہے نوازشریف جب مقتدرہ سے سب اچھا کرکے ملک سے باہر علاج معالجہ کے لئے بھیجے گئے تو عمران خان کی حکومت تھی۔ وہ علیل تھے یا نہیں، ایک سزا یافتہ قیدی تھے، علاج کے لئے ملک کے اندر نجی ہسپتال کی بجائے لندن میں ہی ان کا علاج ممکن تھا۔ عمران خان کی حکومت کو گھر بھیجا گیا تو بھی سب اچھے کے تحت وطن واپس آئے، اپنے خلاف تمام مقدمات ختم کرا لئے، جس پر مسلم لیگ والوں نے خوشی کے شادیانے بجائے۔ پاکستان کی سیاست میں سیاسی اختلافات کو ذاتی اختلافات میں بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔ موجودہ صورتحال میں بانی پی ٹی آئی اور خصوصا مسلم لیگ نون کے درمیان ایک ذاتی لڑائی کا تاثر ملتا ہے۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کو علاج معالجہ کے لئے نجی ہسپتال بھیجنے کا فیصلہ کیا کر دیا، مسلم لیگ کے رہنمائوں کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں۔ وزیر قانون صاحب سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی دائر کرنے کا پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں۔ ایک قانون دان ہونے کی حیثیت سے انہیں اس بات کا ادراک نہیں کہ نظرثانی وہی جج صاحبان سنتے ہیں جنہوں نے پہلے فیصلہ دیا ہوتا ہے صرف ایک جج نیا ہوتا ہے، لہذا کوئی جج اپنا ہی فیصلہ کیسے واپس لے سکتا ہے؟۔ بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹس جو منظر عام ہر آئی ہیں اس میں ہائی بلڈ پریشراور اس کے دل پر اثرات کے علاوہ آنکھ کا معاملہ تو پہلے سے چل رہا تھا۔ عظمیٰ خان کی بھائی سے ملاقات کیا ہوئی طوفان مچا ہوا ہے۔ میرے خیال میں گزشتہ چھ ماہ سے بانی پی ٹی آئی کی اپنے خاندان کے لوگوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ بند تھا اگر بہن نے بھائی سے ملاقات کر لی تو کون سی قیامت آگئی ہے۔ ہر طرف شور برپا ہے ڈیل ہو گئی ہے یعنی اس طرح کے بیانات دینے والے کچھ اس طرح کا تاثر دی رہے ہیں جیسے عدلیہ کے جج صاحبان کسی کے زر خرید غلام ہیں۔ اگر یہ بات غلط نہیں تو آج بھی اعلیٰ عدلیہ میں راست باز اور باضمیر جج صاحبان موجود ہیں۔ چلیں شوکت صدیقی نہ سہی کم از کم ان سے ملتے جلتے جج ضرور موجود ہیں جو ایک روز ایک ایسی عدالت کے روبرو جواب دہی کو ذہنوں میں رکھ کر اپنے فیصلے کرتے جہاں بے لاگ فیصلے ہوں گے نہ کسی کی سفارش کام آئے گی نہ کسی کے دبائو کو خاطر میں لایا جائے گا۔ یہ بات درست ہے بانی پی ٹی آئی سزا یافتہ مجرم ہیں سزائے موت کے قیدی نہیں ہیں۔ آج اسی حوالے سے بات کروں گا میں بھی سینٹرل جیل راولپنڈی میں سزائے موت بی کلاس کا قیدی رہ چکا ہوں، جب مجھے آنکھوں کا عارضہ لاحق ہوا تو سیکرٹری داخلہ پنجاب کے حکم پر مجھے سرکاری ہسپتال میں علاج معالجہ کے لئے بھیجا گیا۔ ہاں اگر سرکاری ہسپتال میں مویتے کے آپریشن کی سہولت موجود نہ ہوتی تو لازمی بات ہے مجھے نجی ہسپتال میں بھیجا جاتا۔ میں سرکاری ہسپتال میں دو ماہ سے زیادہ عرصہ رہا جب میں صحت یاب ہوا تو واپس جیل بھیج دیا گیا۔ نواز شریف اڈیالہ جیل میں ایک ایسی جگہ رکھے گئے جو بی کلاس کے قیدیوں اور حوالاتیوں کے لئے مختص ہے، لیکن عمران خان کو ایک ایسی جگہ رکھا گیا ہی جہاں سی کلاس کے قیدی رکھے جاتے ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے عمران خان کو بی کلاس والی سہولتیں وہیں دے دی گئی ہیں۔ سوال ہے عمران خان کو بی کلاس والی جگہ کیوں نہیں رکھا گیا؟، جس عدلیہ نے نواز شریف کو سزا یافتہ قیدی ہوتے ہوئے علاج کے لئے بیرون ملک بھیجا تھا، آج وہی عدلیہ اگر عمران خان کو نجی ہسپتال میں بھیجنے کا حکم دیتی ہے تو لیگیوں کی پریشانی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اگر ہم نواز شریف اور عمران خان کی عوام میں مقبولیت کا موازنہ کریں تو میاں صاحب اس وقت عوامی حمایت سے محروم ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے ان کی ہونہار بیٹی مسلم لیگ کی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے کوشاں ہے، مگر جب ٹرین سٹیشن سے نکل جائے تو پھر۔۔۔۔۔۔۔ ملک اور عوام کی بدقسمتی دیکھئے ہمیں ایسے حکمرانوں سے پالا بڑا رہا، جو نے اندرون اور بیروں ملک بڑی بڑی جائیدادیں بنانے کے باوجود احتساب سے بچے رہے۔ اگرچہ عمران خان نے انتخابی مہم میں لوگوں سے بے لاگ احتساب کو وعدہ کیا تھا، وہ اپنا وعدہ نبھا نہیں سکا، البتہ کرپشن میں ملوث سیاست دانوں کا پردہ چاک کر دیا۔ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں اگر بی کلاس کی سہولتیں میسر ہیں تو کسی کا اس پر احسان نہیں، مروجہ جیل مینوئل کے مطابق سہولتیں اس کا قانونی حق ہے۔ چند ماہ پہلے سینٹرل جیل کے ایک ذرائع نے مجھے بتایا تھا ایک روز عمران خان نے انہیں کہا آپ جیتنا مرضی مجھے ٹارچر کر لیں، میں اب عادی ہو چکا ہوں۔ عمران خان کی یہ بات اس امر کی غماز ہے اس کے ساتھ بہتر سلوک روا نہیں رکھا جا رہا ہے۔ ان دنوں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے مابین تعلقات میں کچھ سرد مہری آ چکی ہے، بلاول بھٹو کی اپوزیشن لیڈر اور پی ٹی آئی رہنمائوں سے ملاقاتیں اس بات کی نشاندہی ہے کہ پیپلز پارٹی اور نواز شریف کی پارٹی میں دراڑ پڑ چکی ہے ۔ جس کی سب سے بڑی وجہ آزاد کشمیر میں انتخابات ہیں، مسلم لیگ نون کی کامیابی نے پیپلز پارٹی کے شکوک بڑھا دیئے ہیں۔ ویسے بھی مسلم لیگ نون کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو نواز شریف کی جماعت نے طاقتور حلقوں کے سامنے ڈٹ جانے کی بجائے سرنگوں ہونے میں عافیت سمجھی ہے، جو نواز شریف کی پارٹی کا بار بار اقتدار میں آنے کی وجہ ہے۔ عمران خان اگر پابند سلاسل ہے تو اس کی واضح وجہ یہی ہے وہ طاقتور حلقوں کی غلامی سے نکلنے کا عہد کر چکا ہے، جو شخص غلامی کو موت پر ترجیح دیتا ہو ایسا شخص جیلوں سے گھبرانے والا نہیں ہوتا۔ میرے ذاتی خیال میں عمران خان مضبوط اعصاب کا مالک ہے، اور ایک روز کندن بن کر نکلے گا۔ ہمیں پاکستان کی افواج کے ہر سپاہی سے محبت اور پیار ہے، ان کی ملک و قوم کے لئے لازوال خدمات ہیں۔ اگر ادارہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے فرائض کی انجام دہی کرے تو ملک کے بہت سے مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button