ColumnQadir Khan

مشرقِ وسطیٰ سے اٹھتا دھواں اور دنیا کی بند گلی

مشرقِ وسطیٰ سے اٹھتا دھواں اور دنیا کی بند گلی
پیامبر
قادر خان یوسف زئی
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کبھی صرف گولی سے نہیں لڑی جاتی، کبھی نقشے بھی ہتھیار بن جاتے ہیں، کبھی معاہدے بھی بارود ثابت ہوتے ہیں، اور کبھی خاموشی خود ایک اعلانِ جنگ بن جاتی ہے۔ 2026ء کے تیسرے سہ ماہی میں جو منظر ابھرا ہے، وہ محض ایران اور امریکہ کے درمیان ایک نئی کشیدگی کی کہانی نہیں، بلکہ عالمی نظام کی اس کمزوری کا نوحہ ہے جس میں طاقتور ریاستیں قانون کو اپنی جیب میں رکھنے لگیں تو سمندر بھی سرحد بن جاتے ہیں اور سفارت کاری بھی مذاق معلوم ہونے لگتی ہے۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت جسے وقتی سکون کا نسخہ سمجھا گیا تھا، چند ہی ہفتوں میں اپنے اندر فریقین میں چھپے تضادات کا شکار ہو گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جنگ رکی بھی نہیں اور امن آیا بھی نہیں۔ یہی وہ’’ نہ جنگ، نہ امن‘‘ کی کیفیت ہے جو بظاہر وقفہ لگتی ہے، مگر دراصل آنے والے بڑے دھماکے کا سناٹا ہوتی ہے۔
جون 2026ء میں پاکستان کی ثالثی سے طے پانے والی اسلام آباد یادداشت کا مقصد یہ تھا کہ ایران اور امریکہ کھلی فوجی محاذ آرائی سے نکل کر ایک منظم سفارتی مرحلے میں داخل ہوں۔ کاغذ پر یہ بندوبست برا نہ تھا۔ چودہ نکات تھی، ڈیڈ لائنز تھیں، جنگ بندی کی بات تھی، بحری ناکہ بندی ہٹانے کا ذکر تھا، آبنائے ہرمز میں محفوظ آمدورفت کی ضمانت تھی، پابندیاں نرم کرنے اور ایرانی اثاثے کھولنے کے وعدے تھے، حتیٰ کہ تعمیرِ نو کے لیے ایک بھاری مالیاتی پیکیج بھی شامل تھا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ کاغذ پر لکھی گئی نیت اور میدان میں موجود بداعتمادی ایک دوسرے کی دشمن تھیں۔
یادداشت میں امریکہ سے توقع کی گئی کہ وہ بحری ناکہ بندی نرم کرے، پابندیاں ہٹائے اور ایران کے لیے معاشی راستہ کھولے، جب کہ واشنگٹن کے لیے یہ سیاسی طور پر تقریباً ناممکن تھا کہ وہ پہلے رعایت دے اور بعد میں ایرانی اقدامات کا انتظار کرے۔ دوسری جانب تہران کے نزدیک ناکہ بندی اور پابندیوں کا خاتمہ محض ایک شق نہیں بلکہ ہر آئندہ عمل کی پیشگی شرط تھا۔ یوں ایک فریق کہتا تھا پہلے تم، دوسرا کہتا تھا نہیں، پہلے تم۔ سفارت کاری کبھی کبھی دو قدم آگے بڑھنے کا فن ہوتی ہے، مگر یہاں دونوں فریق ایک دوسرے کے قدم گن رہے تھے، راستہ نہیں بنا رہے تھے۔ اس پر مستزاد یہ کہ اسرائیل جیسے اہم کردار کی عملی شمولیت نہ ہونے کے برابر تھی۔ یعنی ایک دوطرفہ فریم ورک سے کثیرالجہتی بحران قابو کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ ویسا ہی تھا جیسے ٹوٹی ہوئی چھت پر پردہ ٹانگ کر سمجھ لیا جائے کہ بارش رک گئی۔
اس ناکامی کے بعد سب سے خطرناک صورت آبنائے ہرمز کے گرد بنی۔ دنیا کے لیے یہ محض سمندری راستہ نہیں، توانائی کی شہ رگ ہے۔ اسی آبی گزرگاہ سے عالمی تیل کی کھپت کا ایک بڑا حصہ گزرتا رہا ہے، اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل بھی اسی سے جڑی رہی ہے۔ لیکن 2026ء میں یہاں قانون، طاقت اور تمسخر ایک ساتھ جمع ہو گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسا نقشہ پیش کیا جس میں آبنائے ہرمز کو’’ نیا امریکی علاقہ‘‘ دکھایا گیا۔ یہ محض سیاسی بیان نہیں تھا، ایک نفسیاتی حربہ بھی تھا۔ یعنی نقشہ پہلے بنائو، پھر حقیقت کو اس کے پیچھے دوڑائو۔ جواب میں ایران نے بھی لفظی اور سفارتی طنز کے ذریعے اعلان کیا کہ اگر ایسا ہی ہے تو پھر امریکہ کی سرزمین بھی دعوں کے لیے کھلی سمجھ لیجیے۔ سننے میں یہ سب کسی سیاسی تھیٹر کا منظر لگتا ہے، مگر اصل المیہ یہ ہے کہ جب طاقتور ریاستیں بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کو اپنی جاگیر سمجھنے لگیں تو عالمی قانون کی کتاب بند اور بحری بیڑے کھل جاتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ طاقت اگر قانون کا نعم البدل بن جائے تو پھر ہر بڑا ملک اپنی بندوق کے دہانے سے جغرافیہ لکھنے لگے گا۔ ایسی دنیا میں کل کو کوئی اور طاقت کسی اور سمندر پر دعویٰ کر دے گی، اور پھر ہمیں یہ طے کرنے کے لیے بھی توپوں کی ضرورت پڑے گی کہ پانی کس کا ہے۔
اس پورے بحران کی ایک اور خونچکاں جہت یمن سے ابھری، جہاں حوثی حملوں نے سعودی توانائی تنصیبات اور بحری نقل و حرکت کے لیے خطرات بڑھا دئیے۔ یہ محاذ نئی بات نہیں، مگر نئی بات اس کا وقت اور اس کا عالمی اثر ہے۔ جب ہرمز اور بحیرہ احمر دونوں دبا میں آ جائیں تو دنیا کی منڈیاں صرف تیل کی قیمت نہیں دیکھتیں، وہ خوف کی قیمت بھی ادا کرتی ہیں۔ بحری انشورنس بڑھتی ہے، جہاز متبادل راستوں پر جاتے ہیں، سفر طویل ہوتا ہے، ایندھن زیادہ جلتا ہے، خام مال مہنگا ہوتا ہے، اور آخر میں عام آدمی کی زندگی کی بنیادی اشیا تک متاثر ہوتی ہیں۔ عالمی معیشت پہلے ہی نازک توازن پر کھڑی ہو تو اس نوعیت کی عسکری سیاست صرف مشرقِ وسطیٰ کو نہیں، لندن، سیول، دہلی، بیجنگ اور افریقہ کے ساحل تک ہلا دیتی ہے۔ امریکہ نے اپنے اتحادیوں پر دبا بڑھا کر اس تنازعے کو ہند الکاہل کی سیاست سے جوڑنے کی کوشش کی۔ مشترکہ فوجی مشقوں میں کمی جیسے اشارے دے کر سیول کو یہ باور کرایا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں صف بندی کا اثر مشرقی ایشیا کی سلامتی پر بھی پڑ سکتا ہے۔
اس ساری صورتِ حال میں سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ ہر فریق اپنے آپ کو استحکام کا ضامن بتا رہا ہے، جبکہ عملاً سب مل کر عدم استحکام کو مستقل بنا رہے ہیں۔ امریکہ کہتا ہے کہ وہ راستہ کھول رہا ہے، مگر ناکہ بندی بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ ایران کہتا ہے کہ وہ خودمختاری کا دفاع کر رہا ہے، مگر اس دفاع کے گرد علاقائی نیابتی تنا کی دھند بھی موجود ہے۔ حوثی حملوں کو ایک الگ زاویے سے دیکھا جاتا ہے، لیکن ان کے اثرات پوری عالمی تجارت کو متاثر کرتے ہیں۔ یوں سچ ایک نہیں، کئی تہوں میں بٹا ہوا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کو دور سے دیکھنے والے اکثر ایک غلطی کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ خطہ ہمیشہ سے شور زدہ ہے، اس لیے یہاں کا ایک اور بحران معمول کی بات ہے۔ نہیں، اس بار معاملہ مختلف ہے۔ اس بار جنگ محاذوں کے ساتھ ساتھ راستوں پر لڑی جا رہی ہے، سفارت کاری زبان کے ساتھ ساتھ نقشوں میں ہو رہی ہے، اور اقتصادی دبا صرف پابندیوں سے نہیں بلکہ سمندری گزرگاہوں کی عسکریت سے پیدا کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا مرحلہ ہے جہاں طاقت کی لغت بدل رہی ہے۔ اور جب طاقت کی لغت بدلتی ہے تو کمزور ریاستیں صرف خبریں نہیں بنتیں، عبرت بن جاتی ہیں۔
دنیا کو اگر واقعی امن چاہیے تو اسے صرف جنگ بندی کے جملوں سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ایسے معاہدے جو بداعتمادی، یکطرفہ تشریحات اور تیسرے فریقوں کی عملی عدم شمولیت پر کھڑے ہوں، وہ کاغذ سے آگے نہیں بڑھتے۔ آبنائے ہرمز کسی ایک ملک کی جاگیر نہیں، عالمی ذمہ داری ہے۔ یمن کسی ایک پراکسی کا میدان نہیں، انسانی المیے کا استعارہ ہے۔ اور اتحادی دبائو کے ذریعے چلنے والی عالمی سیاست آخرکار اپنے ہی بوجھ سے لڑکھڑاتی ہے۔ آج اگر دنیا نے اس بحران کو صرف ایک اور علاقائی تنازع سمجھ کر نظرانداز کیا تو کل تجارت، توانائی، سلامتی اور سفارت کاری۔ سب اسی ایک بند گلی میں کھڑے ہوں گے جہاں سے واپسی ہمیشہ مہنگی پڑتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت دھواں صرف بارود سے نہیں اٹھ رہا، عالمی نظام کی ساکھ بھی سلگ رہی ہے۔

جواب دیں

Back to top button