Column

بقا کی نفسیات سے آگے

بقا کی نفسیات سے آگے
ڈاکٹر خالد مفتی
پاکستان 79برس کا ہو گیا ہے۔ اس عمر میں کسی فرد سے پوچھا جائے کہ اس نے زندگی میں کیا پایا تو شاید وہ اپنی کامیابیوں کی فہرست گنوائے، مگر قوموں کی عمر کا حساب کچھ مختلف ہوتا ہے۔ قوموں سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ انہوں نے کتنی مشکلیں جھیلیں، بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ ان مشکلوں نے انہیں کیا بنا دیا۔
پاکستان کی کہانی میں مشکلیں کم نہیں رہیں۔ قیام کے وقت ہجرت کا المیہ سامنے تھا، پھر جنگیں آئیں، سیاسی بحران آئے، دہشت گردی نے گھیر لیا، قدرتی آفات نے بستیاں اجاڑیں، معیشت بار بار لڑکھڑائی اور اب موسمیاتی تبدیلی ایک ایسے مستقبل کی خبر دے رہی ہے جس میں غیر یقینی شاید مستقل حقیقت بن جائے۔ مگر ہر بار ایک منظر دہرایا گیا: پاکستان زخمی ہوا، پاکستان سنبھلا، پاکستان پھر کھڑا ہو گیا۔ شاید اسی مسلسل کھڑے ہونے نے ہماری قومی نفسیات میں ایک ایسی صفت پیدا کر دی ہے جس پر ہمیں فخر بھی ہے اور جس کے بارے میں اب سوچنے کی ضرورت بھی ہے: بقا۔
ہم نے زندہ رہنے کو اپنی کامیابی سمجھ لیا ہے۔ بجلی نہ ہو تو گزارا کر لیتے ہیں، مہنگائی بڑھے تو خرچ کم کر لیتے ہیں، روزگار نہ ملے تو کوئی دوسرا راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں، سیلاب آئے تو خیمے لگا لیتے ہیں، شہر ڈوبیں تو چند دن بعد زندگی پھر معمول پر آ جاتی ہے۔ بحران ہمارے لیے خبر کم اور معمول زیادہ بن گئے ہیں۔ ہم نے غیر معمولی حالات کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے، یہاں تک کہ کبھی کبھی یہ سوال بھی بھول جاتے ہیں کہ جو چیز ہر سال بحران بن کر ہمارے سامنے آتی ہے، اسے مستقل مسئلہ کیوں رہنے دیا جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بقا طاقت ہونے کے باوجود کمزوری میں بدلنے لگتی ہے، کیونکہ جو معاشرہ ہر بار تباہی کے بعد خود کو سنبھالنے پر مطمئن ہو جائے، وہ تباہی کے اسباب بدلنے کی خواہش کھو سکتا ہے۔
بقا ہمیں بچاتی ہے، مگر مستقبل نہیں بناتی۔ بقا کہتی ہے کہ آج کا دن گزر جائے؛ ترقی پوچھتی ہے کہ کل کیسا ہوگا۔ بقا ہمیں ملبے سے اٹھاتی ہے؛ امید ہمیں ایسا گھر بنانے کا خواب دیتی ہے جو اگلے طوفان میں ملبہ نہ بنے۔ بقا کے پاس صبر ہے، امید کے پاس سمت۔ بقا میں انسان کہتا ہے کہ ہم کسی نہ کسی طرح دوبارہ کھڑے ہو جائیں گے، امید میں وہ کہتا ہے کہ اگلی بار ہمیں اسی جگہ گرنے نہیں دینا۔
یہی تبدیلی اب پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت ہے: بقا کی نفسیات سے آگے بڑھنا۔
مگر امید کا مطلب یہ نہیں کہ ہم آنکھیں بند کرکے روشن مستقبل کا خواب دیکھیں۔ اندھی امید بھی مایوسی کی ایک شکل ہے، کیونکہ وہ حقیقت سے فرار اختیار کرتی ہے۔ حقیقی امید وہ ہے جو حقیقت کو دیکھتی ہے، اس کے اندر موجود رکاوٹوں کو پہچانتی ہے اور پھر اپنا راستہ تلاش کرتی ہے۔ ایک طالب علم اس وقت امید رکھتا ہے جب اسے یقین ہو کہ اس کی محنت کسی دن اس کے دروازے پر دستک دے گی۔ ایک نوجوان اس وقت امید رکھتا ہے جب اسے معلوم ہو کہ اس کی قابلیت سفارش سے کم نہیں۔ ایک کاروباری شخص اس وقت امید رکھتا ہے جب اسے یقین ہو کہ قانون طاقتور اور کمزور کے لیے ایک ہی ہے۔ ایک شہری اس وقت امید رکھتا ہے جب اسے معلوم ہو کہ عدالت میں اس کی آواز سنی جائے گی۔ ایک عورت اس وقت امید رکھتی ہے جب معاشرہ اس کی صلاحیت کو بوجھ نہیں، سرمایہ سمجھے۔ یوں امید کسی تقریر سے پیدا نہیں ہوتی، امید ریاست کے رویے سے پیدا ہوتی ہے۔
اسی لیے تعلیم، صحت، روزگار، انصاف اور میرٹ محض حکومتی شعبے نہیں بلکہ امید کے ستون ہیں۔ جہاں تعلیم کا راستہ بند ہو، وہاں مستقبل سکڑ جاتا ہے۔ جہاں روزگار قابلیت سے نہیں، تعلق سے ملے، وہاں محنت کا مفہوم کمزور پڑ جاتا ہے۔ جہاں انصاف دیر سے ملے، وہاں ریاست پر اعتماد گھٹتا ہے۔ جہاں نوجوان کو اپنی صلاحیت کے اظہار کا موقع نہ ملے، وہاں خواب آہستہ آہستہ ہجرت کے ارادے میں بدلنے لگتے ہیں۔
پاکستان کے نوجوان اس تبدیلی کا سب سے اہم پیمانہ ہیں۔ ہم اکثر ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ ملک کے لیے کیا کر سکتے ہیں، لیکن شاید اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ ملک ان کے لیے کیا امکانات پیدا کر رہا ہے؟ جس نوجوان کے پاس تعلیم ہے مگر روزگار نہیں، ہنر ہے مگر موقع نہیں، خواب ہے مگر راستہ نہیں، اس سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے مستقبل پر یقین رکھے؟ اور جب کسی نوجوان کا سب سے بڑا خواب اپنے ملک میں کچھ بننے کے بجائے کسی دوسرے ملک میں پہنچ جانا بن جائے تو یہ صرف ہجرت کا مسئلہ نہیں رہتا، قومی امید کا سوال بن جاتا ہے۔
ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہوگا جہاں نوجوان بیرونِ ملک جانے کو کامیابی کا واحد راستہ نہ سمجھیں، جہاں کاروبار تعلقات نہیں، قابلیت سے کھڑے ہوں، جہاں تعلیم روزگار سے جڑی ہو، جہاں میرٹ محض کتابی لفظ نہ ہو اور جہاں محنت کرنے والے کو یہ یقین ہو کہ اس کی محنت ضائع نہیں جائے گی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسانی صلاحیت قومی طاقت میں تبدیل ہوتی ہے۔
پاکستان کا مسئلہ انسانی صلاحیت کی کمی نہیں۔ اس ملک میں ذہانت ہے، ہنر ہے، محنت ہے، کاروباری صلاحیت ہے، تخلیقی قوت ہے۔ کمی صرف اس ماحول کی ہے جس میں یہ سب کچھ اپنی پوری توانائی کے ساتھ سامنے آ سکے۔ اگر ایک ملک اپنے بہترین ذہنوں کو مواقع نہ دے تو وہ صرف افراد نہیں کھوتا، اپنا مستقبل بھی دائو پر لگا دیتا ہے۔قومیں صرف مشکلات برداشت کرکے بڑی نہیں ہوتیں؛ وہ مشکلات سے سبق سیکھ کر بڑی ہوتی ہیں۔ اگر ہر بحران ہمیں پہلے جیسی جگہ واپس لے آئے تو ہماری استقامت دائرے میں گھومتی رہے گی۔ لیکن اگر ہر بحران ہمیں ایک بہتر ادارہ، ایک مضبوط نظام، ایک زیادہ منصفانہ معاشرہ اور ایک زیادہ محفوظ مستقبل بنانے پر مجبور کرے تو ہماری تکلیف تعمیر میں بدل سکتی ہے۔
ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ہم گر کر اٹھ سکتے ہیں۔ اب اگلا امتحان یہ ہے کہ کیا ہم ایسا پاکستان بنا سکتے ہیں یا نہیں جس میں بار بار گرنے کی نوبت ہی نہ آئے؟۔

جواب دیں

Back to top button