منافع بخش ڈسکوز کی نجکاری، ایک اور مالیاتی غلطی؟
منافع بخش ڈسکوز کی نجکاری، ایک اور مالیاتی غلطی؟
تحریر: خواجہ عابد حسین
پاکستان میں بجلی کے شعبے کے گردشی قرضے، بجلی چوری، لائن لاسز، کمزور ریکوری اور سرکاری اداروں کے بڑھتے ہوئے مالی خسارے نے حکومت کو ایک بار پھر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs)کی نجکاری کی طرف دھکیل دیا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ نجی شعبے کے ذریعے ان اداروں کو بہتر انتظام، جدید ٹیکنالوجی، اسمارٹ میٹرنگ، سرمایہ کاری اور موثر ریکوری حاصل ہوگی، جس سے نہ صرف بجلی کی تقسیم کا نظام بہتر ہوگا بلکہ گردشی قرضے اور قومی خزانے پر بوجھ بھی کم ہوگا۔
بظاہر یہ ایک معقول اور پرکشش منصوبہ دکھائی دیتا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان نے ماضی کی نجکاری سے کوئی سبق سیکھا ہے؟ اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ حکومت پہلے مرحلے میں ان ڈسکوز کو کیوں نجی شعبے کے حوالے کرنے جا رہی ہے جو نسبتاً بہتر کارکردگی اور منافع کی پوزیشن میں ہیں؟ اگر منافع بخش ادارے بھی حکومت کے ہاتھ سے نکل گئے تو پھر مستقبل میں خسارے کا بوجھ کس کے کندھوں پر ہوگا؟
حکومت نے پہلے مرحلے میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (IESCO)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (GEPCO) اور فیصل آباد الیکٹرک پاور کمپنی(FESCO) پر توجہ مرکوز کی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے سعودی عرب، ترکی اور چین سمیت مختلف ممالک میں سرمایہ کاری کے حوالے سے رابطے اور روڈ شوز بھی کیے جا رہے ہیں۔
یہاں حکومت سے ایک بنیادی سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے: اگر کسی ادارے کو منافع ہو رہا ہے، اس کی ریکوری بہتر ہے اور اس کا نظام دوسرے اداروں کی نسبت مستحکم ہے تو اسے نجی شعبے کے حوالے کرنے کی جلدی کیوں؟ٔنجکاری کا بنیادی مقصد خسارے میں چلنے والے اداروں کو بہتر بنانا، قومی خزانے پر بوجھ کم کرنا اور عوام کو بہتر سروس فراہم کرنا ہونا چاہیے۔ لیکن اگر حکومت منافع بخش حصے کو نجی شعبے کے حوالے کر دے اور خسارے میں جانے والے ادارے اپنے پاس رکھے تو یہ پالیسی قومی خزانے کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ حکومت کو مستقبل میں منافع بخش ڈسکوز سے حاصل ہونے والی آمدنی سے محروم ہونا پڑے گا، جبکہ خسارے میں چلنے والی کمپنیوں کی مالی ذمہ داری پھر بھی ریاست ہی کے پاس رہے گی۔
دنیا کے مختلف ممالک کا تجربہ بھی ہمیں احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ لاطینی امریکا، یورپ، ایشیا اور سب صحارا افریقہ کے متعدد ممالک میں بجلی کی تقسیم کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کی گئی، لیکن ہر جگہ نتائج یکساں نہیں رہے۔ بعض ممالک میں نجکاری کامیاب ہوئی، جبکہ کئی جگہوں پر کمزور ریگولیٹری نظام، ناقص گورننس، سیاسی مداخلت اور معاہدوں کی خامیوں کے باعث نجی شعبے کی شمولیت ناکام ہوئی اور بعض تقسیم کار کمپنیاں دوبارہ حکومت کے کنٹرول میں آگئیں۔
یوکرین میں 1990ء کی دہائی کے آخر میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کی گئی، لیکن بعد کے مراحل میں بدعنوانی کے الزامات اور کمزور ریگولیٹری و گورننس نظام کے باعث عمل مشکلات کا شکار ہوا۔ سب صحارا افریقہ میں بھی نجی شعبے کے متعدد معاہدے منسوخ یا ریاستی کنٹرول میں واپس ہوئے۔ لاطینی امریکا میں بھی بعض ممالک نے نجی کمپنیوں کو دوبارہ قومی تحویل میں لیا۔ بھارت کی ریاست اوڈیشہ میں نجی شعبے کے تحت بجلی کی تقسیم کے تجربے کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر کمپنی دوبارہ ریاستی کنٹرول میں آگئی۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ صرف نجکاری کامیابی کی ضمانت نہیں۔ اصل کامیابی کا دارومدار مضبوط ریگولیٹری فریم ورک، شفاف معاہدوں، موثر نگرانی، سیاسی مداخلت سے پاک انتظامیہ، صارفین کے حقوق کے تحفظ اور سرمایہ کار کی واضح ذمہ داریوں پر ہے۔
پاکستان میں ایک اور اہم مسئلہ بجلی کے نرخ ہیں۔ اگر نجی کمپنیوں کو منافع کمانے کا مکمل اختیار دیا گیا مگر صارفین کے تحفظ کا مثر نظام قائم نہ کیا گیا تو بجلی کے بل مزید بڑھ سکتے ہیں۔ نجی سرمایہ کار قدرتی طور پر منافع چاہے گا؛ اس لیے حکومت کو پہلے ہی یہ طے کرنا ہوگا کہ سرمایہ کار کی منافع کی شرح کیا ہوگی، لائن لاسز میں کمی کی ذمہ داری کس کی ہوگی، بجلی چوری روکنے کے لیے کیا اہداف ہوں گے، اور ناقص سروس کی صورت میں صارفین کو کیا ریلیف ملے گا۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت کو منافع بخش اور خسارے میں چلنے والی ڈسکوز کے درمیان واضح فرق کرنا چاہیے۔ اگر کسی ڈسکو کی مالی کارکردگی اچھی ہے تو اسے محض نجکاری کی عمومی پالیسی کے تحت فروخت کرنا دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔ پہلے اس کی مکمل مالی قدر، مستقبل کی آمدنی، اثاثوں، صارفین کی تعداد، ریکوری، لائن لاسز اور ترقی کے امکانات کا آزادانہ جائزہ لیا جائے۔
حکومت اگر واقعی بجلی کے شعبے میں اصلاحات چاہتی ہے تو ایک متبادل راستہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے: خسارے میں چلنے والی کمپنیوں میں پیشہ ورانہ مینجمنٹ لائی جائے، بورڈز کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کیا جائے، جدید میٹرنگ اور ڈیجیٹل بلنگ متعارف کرائی جائے، بجلی چوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور کارکردگی کی بنیاد پر انتظامیہ کو جواب دہ بنایا جائے۔
نجکاری سے قبل عوام کے سامنے یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ حکومت کو کتنی رقم ملے گی، کمپنی کے اثاثوں کی مالیت کتنی ہے، نجی خریدار کتنی سرمایہ کاری کرے گا، بجلی کے نرخوں پر اس کا کیا اثر پڑے گا اور ریاست مستقبل میں کس مالی ذمہ داری سے آزاد ہوگی۔
پاکستان پہلے ہی گردشی قرضے، مہنگی بجلی، کمزور صنعتی مسابقت اور عوام کی محدود قوتِ خرید جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں کسی بھی نجکاری کو صرف فوری مالی فائدے کے بجائے کم از کم 10سے 20سال کے قومی مفاد کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔
میری رائے میں حکومت کو ڈسکوز کی نجکاری ضرور زیرِ غور لانی چاہیے، لیکن اندھا دھند نہیں۔ منافع بخش کمپنیوں کو فروخت کرنا اور خسارے کا بوجھ حکومت کے پاس رکھنا اصلاحات نہیں بلکہ اثاثوں کی منتقلی اور مستقبل کے مالی بحران کو دعوت دینے کے مترادف ہوسکتا ہی۔






