CM RizwanColumn

آزادی، آبادی، بہبودی یا بربادی 

جگائے گا کون؟

آزادی، آبادی، بہبودی یا بربادی

تحریر: سی ایم رضوان

گزشتہ روز یومِ آزادی کے موقع پر وطن عزیز کے گلی محلوں میں ( پو پو، پلاسٹک کے) باجے بجانے والوں کی کوئی سرکاری یا باقاعدہ شماریاتی تعداد تو سامنے نہیں آ سکی لیکن یہ گواہی پاکستان کے ہر علاقے سے ملی ہے کہ ان باجا بجانے والوں نے یوم آزادی پر سارا دن اودھم مچائے رکھا۔ اس غیر رسمی، عارضی اور فضول سرگرمی کا آبادی کے تناسب، عمر کی ساخت اور عام مشاہدے کی بنیاد پر اگر ایک منطقی تخمینہ لگایا جائے تو باجا بجانے والوں کی تعداد کروڑوں میں بنتی ہے۔ آبادی میں بچوں اور نوجوانوں کے بڑے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تعداد حیران کن طور پر دو سے چار کروڑ کے لگ بھگ بنتی ہے۔ اب اگر ان باجوں پر اخراجات کا تخمینہ لگایا جائے تو وہ یقیناً اربوں روپے میں ہو گا یعنی آبادی میں مثبت اور منفی رحجانات بھی اسی شدت سے اثر انداز ہوتے ہیں جتنی تعداد میں وہ ہوتی ہے۔

آبادی میں اضافے کے حوالے سے تکلیف دہ امر یاد آیا کہ اس وقت پاکستان کی کل آبادی قریباً 25کروڑ 95لاکھ (259.5ملین) سے متجاوز ہے اور پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بنا ہوا ہے۔ قومی مردم شماری 2023 کے مطابق پاکستان کی سالانہ قومی پیدائشی شرح 2.55فیصد درج کی گئی تھی۔ عالمی اداروں، اقوامِ متحدہ کے تخمینے کے مطابق اگر بیرونِ ملک ہجرت کے منفی اثرات کو بھی شامل کر لیا جائے، تب بھی صافی آبادی میں اضافے کی شرح 1.6 فیصد کے قریب بنتی ہے اور پاکستان میں ہر سال قریباً 40سے 50لاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ یعنی ہم ہر سال اپنی آبادی میں ایک نیا آئس لینڈ یا سوئٹزر لینڈ شامل کر رہے ہیں۔

پاکستان کا اگر خطے کے دیگر ممالک سے تقابل کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جنوبی ایشیا اور ہمسایہ ممالک کی آبادی میں اضافے کی شرح کے مقابلے میں پاکستان کے اعداد و شمار انتہائی تشویش ناک ہیں۔ ہماری آبادی میں اضافے کی شرح میں قومی اعداد و شمار کے مطابق سالانہ 2.55%اور عالمی اعداد و شمار کے مطابق سالانہ 1.6%اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی طرح یہاں 3.4 سے 3.5 بچے فی خاتون پیدا ہوتے ہیں جبکہ بنگلہ دیش میں 1.0%سے 1.9فیصد بچے فی خاتون پیدا ہوتے ہیں۔ بھارت میں 0.7%سے 0.8%یعنی 2.0بچے فی خاتون، ایران میں 0.7%یعنی 1.7بچے فی خاتون، سری لنکا میں 0.4%یعنی 1.8بچے فی خاتون پیدا ہوتے ہیں۔ ان ممالک سے پاکستان کے تقابل سے ظاہر ہونے والے اہم انکشافات یہ ہیں کہ ایک تو ہمیں ریپلیسمنٹ لیول حاصل کرنے میں ناکامی ہوئی ہے یعنی دنیا اور خطے کے بیشتر ممالک نے یہ ’’ ریپلیسمنٹ لیول‘‘ ( یعنی 2.1بچے فی خاتون، جس پر آبادی مستحکم رہتی ہے) حاصل کر لیا ہے یا اس سے بھی نیچے چلے گئے ہیں جبکہ اس کے برعکس، پاکستان میں ایک خاتون اوسطاً 3.4تا 3.5بچوں کو جنم دے رہی ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارا آبادی کا گراف قابو سے باہر ہے۔ دوسرا یہ کہ بنگلہ دیش کے ماڈل کے مقابلے میں ہمارے ماڈل کی ناکامی یہ ہے کہ 1971ء میں بنگلہ دیش ( سابقہ مشرقی پاکستان) کی آبادی پاکستان سے زیادہ تھی۔ بنگلہ دیش نے خاندانی منصوبہ بندی، خواتین کو بااختیار بنانے اور بنیادی تعلیم پر توجہ دے کر اپنی شرحِ نمو 1فیصد پر لا کھڑی کی۔ آج بنگلہ دیش کی آبادی قریباً 17کروڑ ہے جبکہ پاکستان 26کروڑ کے نزدیک پہنچ چکا ہے۔ تیسرا یہ کہ خطے کے دیگر ممالک ( مثلاً بھارت) اپنے نوجوانوں کی بڑی تعداد کو تعلیم اور ہنر دے کر معاشی ترقی حاصل کر رہا ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان میں آبادی کی اوسط عمر 20.8سال ہے۔ یعنی ملک کی آدھی آبادی بچوں اور نوجوانوں پر مشتمل ہے لیکن وسائل نہ ہونے کے باعث یہ نوجوان معاشی اطمینان کا ذریعہ بننے کی بجائے بے روزگاری اور غربت کے بحران میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ تقابل سے چوتھا نقطہ ثابت کرتا ہے کہ مذہبی یا ثقافتی رکاوٹیں صرف پاکستان سے مخصوص نہیں تھیں ( ایران اور بنگلہ دیش دونوں مسلم اکثریتی ممالک ہیں) ۔ لیکن ان ممالک نے ریاست اور علمائے کرام کے اشتراک سے کامیابی حاصل کی، جبکہ پاکستان سیاسی اور پالیسی عدم استحکام کا شکار رہا۔ پانچواں نقطہ ہماری معاشی ترقی کے ثمرات کے ضیاع کی نشان دہی کرتا ہے۔ ہماری بدقسمتی کا باعث یہ ہے اگر پاکستان کی جی ڈی پی 3یا 4فیصد کی شرح سے بڑھے بھی، تو 2.5فیصد آبادی کا اضافہ اس تمام تر ترقی کو نگل جاتا ہے۔ خطے کے دیگر ممالک کی معاشی پیش رفت اسی لئے نظر آتی ہے کیونکہ انہوں نے اپنی آبادی کے اضافے کو 1فیصد سے نیچے رکھا ہوا ہے۔ مجموعی طور پر یہ تقابل واضح انکشاف کرتا ہے کہ پاکستان خطے کا واحد ملک ہے جو ایک غیر کنٹرول شدہ آبادی کے دھماکے کا شکار ہو کر معاشی طور پر بے بس ہو گیا ہے اور اگر فوری، قومی اور ہنگامی بنیادوں پر اس تباہی کا تدارک نہ کیا گیا تو یہ شرح ملک کے تمام معاشی و انتظامی فریم ورک کو مفلوج کر دے گی۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح خطے کے دیگر ممالک ( جنوبی ایشیا اور ہمسایہ ممالک) کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ ہر پہلو سے تقابل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دیگر مسلم اور ہمسایہ ممالک نے تو اپنی آبادی پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے مگر پاکستان ابھی تک آبادی کے شدید دبا کا شکار ہے۔ جو لوگ آبادی بم کے پھٹنے کی نوید دے رہے ہیں وہ نوٹ کر لیں کہ پاکستان میں پاپولیشن بم ( آبادی کا دھماکہ) کوئی ہونے والا آئندہ واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ بم خاموشی سے پھٹ چکا ہے اور اس بم کی تباہ کاری کے اثرات ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید گہرے ہو رہے ہیں۔ آبادی کا بم کب اور کیسے پھٹا؟ مردم شماری اور سالانہ شرحِ نمو کے اعداد و شمار اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ 1947ء میں پاکستان کی آبادی قریباً 3.4کروڑ تھی۔ 1998ء تک یہ 13کروڑ سے تجاوز کر گئی اور 2023ء کی ساتویں قومی مردم شماری کے مطابق یہ 24کروڑ 14لاکھ (241.5ملین) تک پہنچ چکی ہے۔ اگر یہ پوچھا جائے کہ یہ ابادی بم کیسے پھٹا تو اس کا جواب یہ ہے کہ پاکستان میں آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح 2.55فیصد ہے، جو خطے کے تمام ممالک ( بشمول بھارت، بنگلہ دیش اور ایران) سے کہیں زیادہ اور پاکستانی معیشت پر ناقابل برداشت بوجھ ہے۔ اس بم کے پھٹنے کی بنیادی وجوہات میں خاندانی منصوبہ بندی کی ناکامی سر فہرست ہے کیونکہ ہمارے ہاں متعدد معاشی، سماجی اور مذہبی مغالطوں کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی کے پروگراموں کا موثر طریقے سے نفاذ آج 79ویں سال تک نہ ہو سکا ہے۔ جس کی وجہ سے شرحِ پیدائش اور شرحِ اموات میں توازن نہیں ہے۔ جدید ادویات اور علاج کی وجہ سے شرحِ اموات میں تیزی سے کمی آئی، لیکن شرحِ پیدائش پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ ہمارے معاشرے میں لڑکے کی خواہش اور ناخواندگی بھی آبادی میں اضافے کا باعث ہے۔ معاشرتی رویوں اور تعلیم کی کمی کے باعث بڑے کنبوں کا رجحان مسلسل قائم ہے۔

آج ملک کے 79ویں یومِ آزادی کے تناظر میں اس مسئلے کی سنگینی یہ ہے کہ جب ہم ہر سال 14اگست کو آزادی کی خوشیاں مناتے ہیں، تو ہمیں یہ غور کرنا چاہیے کہ آیا ہم اپنے شہریوں کو آزادی کے حقیقی ثمرات یعنی معیاری تعلیم، صحت، روزگار اور تحفظ دے پا رہے ہیں؟ اس کا جواب یکسر نفی میں ہے کیونکہ ہم ہر سال اپنی آبادی میں قریباً 50تا 60لاکھ افراد شامل کر رہے ہیں، لیکن ہمارے معاشی اور بنیادی وسائل اسی جگہ پر منجمد ہیں یا سکڑ رہے ہیں اور اگر یہ بے ہنگم اضافہ مزید جاری رہا تو آئندہ 20۔25سالوں میں آبادی 40کروڑ سے تجاوز کر جائے گی، جس کا مطلب ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کو پینے کا صاف پانی اور روٹی فراہم کرنے سے بھی قاصر ہو جائے گی جبکہ آج بھی یہ بڑھتی آبادی ایک ایسا بوجھ بن چکی ہے جو ملکی معیشت کی کمر توڑ رہا ہے اور فی کس آمدنی میں کمی ہو گئی ہے ۔ ظاہر ہے کہ جب معاشی نمو کی شرح ( مثلاً 2یا 3فیصد) آبادی کے اضافے کی شرح (2.55فیصد) سے کم ہو، تو فی کس آمدنی بڑھنے کے بجائے کم ہو جاتی ہے۔ اس خوش نصیبی کے باوجود کہ ملک کی 60فیصد سے زائد آبادی 30سال سے کم عمر جوانوں پر مشتمل ہے اور ہر سال لاکھوں نئے نوجوان مارکیٹ میں آتے ہیں، لیکن اسی قدر شدید بدنصیبی کہ معیشت ان کے لئے روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، جس سے غربت کا چکر روز بروز گہرا ہو رہا ہے اور معیشت کے بنیادی ڈھانچے اور وسائل پر دبائو بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے سب سے مہلک تعلیمی بحران پیدا ہو گیا ہے ۔ مردم شماری 2023ء کے مطابق 5سے 16سال کی عمر کے 2کروڑ 50لاکھ سے زائد بچوں کے اسکول نہ جانے کی سب سے بڑی وجہ آبادی کا تیز اضافہ ہے۔ پانی اور غذائی عدم تحفظ اس سے بڑا عذاب ہے۔ زرعی زمینیں ہاسنگ سوسائٹیوں کی نذر ہو رہی ہیں اور ملک میں فی کس پانی کی دستیابی خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ ان حالات میں درآمدات پر انحصار بھی ایک ڈرائونا منظر پیش کر رہا ہے۔ گندم، دالیں اور خوراک کی بنیادی اشیاء جو کبھی پاکستان خود پیدا کرتا تھا، اب بڑھتی آبادی کا پیٹ بھرنے کے لئے غیر ملکی زرِ مبادلہ خرچ کر کے منگوانا پڑتی ہیں۔ اس بے ہنگم آبادی نے پاکستان کے سیاسی اور انتظامی نظام کو بھی دبائو میں لا کھڑا کیا ہے۔ صوبوں کے درمیان این ایف سی ایوارڈ اور وسائل کی تقسیم کا بنیادی معیار آبادی ہے۔ اس سے صوبوں میں کنٹرول کے بجائے آبادی بڑھانے کی مہلک مسابقت پیدا ہوتی ہے۔ شہری علاقوں میں ابادی میں اضافے کی وجہ سے افراتفری پیدا ہو گئی ہے۔ دیہاتوں سے شہروں کی طرف بے ہنگم منتقلی سے کراچی، لاہور اور راولپنڈی جیسے بڑے شہر انتظامی کنٹرول سے باہر ہو رہے ہیں۔ روزگار سے محرومی سے تنگ نوجوان نسل میں جرم، منشیات اور انتہا پسندی کی طرف مائل ہونے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے، ہسپتال، عدالتیں، پولیس اور بلدیاتی ادارے اس قدر بڑی آبادی کو خدمات فراہم کرنے میں ناکام اور نااہل ثابت ہو رہے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان میں آبادی کا بم بہت پہلے ہی پھٹ چکا ہے جس کی گونج غربت، مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام کی صورت میں سنائی دے رہی ہے۔ یومِ آزادی کے موقع پر سچی حب الوطنی کا تقاضا یہ ہے کہ آبادی کے مسئلے کو قومی سلامتی کے ہنگامی مسئلے کے طور پر لیا جائے۔ جب تک ہم ہنگامی بنیادوں پر لڑکیوں کی تعلیم اور بالیدگی پر سرمایہ کاری نہیں کرتے، خاندانی منصوبہ بندی کو معاشرتی اور مذہبی سطح پر مقبول نہیں بناتے اور اپنے وسائل کو آبادی کے تناسب سے منظم نہیں کرتے، تب تک حقیقی معاشی اور سیاسی آزادی کا خواب پورا ہونا ممکن نہیں۔ ورنہ بہبودی کی بجائے ہماری قومی بربادی کا نظارہ کرنے کے لئے کیلنڈر تو ہر سال ہمیں چودہ اگست کا ہندسہ فراہم کرتا رہے گا اور ہمارے بچے باجا بجا کر ہماری عقل کا مذاق اڑاتے رہیں گے۔

جواب دیں

Back to top button