ColumnImtiaz Ahmad Shad

بلاامتیازاحتساب   

ذرا سوچئے

بلاامتیاز احتساب

امتیاز احمد شاد

بازاروں کی رونقیں برقرار ہیں، دکانیں کھلی ہیں، اشیائے خورونوش بھی دستیاب ہیں، مگر عام آدمی کی جیب مسلسل سکڑتی جا رہی ہے۔ پاکستان میں مہنگائی صرف ایک معاشی اصطلاح نہیں رہی بلکہ یہ ہر گھر، ہر خاندان اور ہر فرد کی روزمرہ زندگی کا سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ تنخواہیں محدود ہیں، ضروریات بڑھ رہی ہیں اور زندگی کی بنیادی سہولتیں حاصل کرنا پہلے سے زیادہ مشکل محسوس ہوتا ہے۔ حکومت کی جانب سے معاشی استحکام اور بہتری کے دعوے اپنی جگہ، لیکن عوام کی بڑی تعداد آج بھی روزمرہ اخراجات پورے کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق مہنگائی کا اثر صرف اشیائے ضروریہ تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ پورے معاشرتی ڈھانچے کو متاثر کرتی ہے۔ جب خوراک، توانائی، تعلیم اور صحت مہنگی ہو جائیں تو متوسط اور کم آمدنی والے طبقے سب سی زیادہ دبا کا شکار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگائی کا موضوع محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کے معیارِ زندگی، قوتِ خرید اور مستقبل کی امیدوں سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ آج سوال یہ نہیں کہ مہنگائی کی شرح کتنی ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عام شہری کی زندگی آسان ہو رہی ہے یا مزید مشکل؟

مہنگائی کسی ایک فیصلے، ایک حکومت یا ایک شعبے کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ یہ معاشی نظام میں موجود کئی کمزوریوں کا مجموعی اظہار ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات محض مقامی منڈیوں تک محدود نہیں بلکہ عالمی حالات، توانائی کی ضروریات، مالیاتی پالیسیوں اور انتظامی مسائل سے جڑی ہوئی ہیں۔ جب معیشت کا بڑا حصہ درآمدات پر انحصار کرے اور مقامی پیداوار مطلوبہ رفتار سے نہ بڑھ سکے تو عالمی منڈی میں ہونے والی معمولی تبدیلی بھی عوام کی جیب پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگائی کا مسئلہ وقتی اقدامات کے بجائے طویل المدتی معاشی اصلاحات کا تقاضا کرتا ہے۔

اگر پاکستان کے حالات کو خطے کے دیگر ممالک کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک دلچسپ تصویر سامنے آتی ہے۔ بھارت، افغانستان اور ایران تینوں مختلف معاشی اور سیاسی حقائق کے حامل ممالک ہیں، لیکن ان سب کو کسی نہ کسی شکل میں مہنگائی اور معاشی دبا کا سامنا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہر ملک اپنے وسائل، پالیسیوں اور معاشی ڈھانچے کے مطابق ان چیلنجز کا مقابلہ کر رہا ہے۔ بھارت نے صنعتی ترقی، برآمدات اور سرمایہ کاری پر توجہ دے کر اپنی معیشت کو نسبتاً مستحکم بنانے کی کوشش کی، جبکہ ایران نے بیرونی پابندیوں کے باوجود بعض شعبوں میں خود انحصاری کی پالیسی اختیار کی۔ دوسری طرف افغانستان کی صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ صرف کم مہنگائی کسی قوم کی خوشحالی کا معیار نہیں، بلکہ روزگار، آمدنی اور بنیادی سہولیات کی دستیابی بھی اتنی ہی اہم ہے۔

پاکستان کے لیے سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ معاشی استحکام صرف قیمتوں کو کنٹرول کرنے سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ مضبوط پیداوار، مستحکم پالیسیوں اور موثر حکمرانی سے آتا ہے۔ جب تک زراعت، صنعت اور توانائی کے شعبوں میں بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں، تب تک مہنگائی کا مسئلہ وقفے وقفے سے دوبارہ سر اٹھاتا رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں شفافیت، ذخیرہ اندوزی کے خاتمے، سرمایہ کاری کے فروغ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

آج پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں محض معاشی اعداد و شمار سے کامیابی یا ناکامی کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ اصل پیمانہ عوام کی زندگی میں آنے والی بہتری، قوتِ خرید میں اضافہ اور مستقبل کے بارے میں اعتماد ہے۔ اگر ریاست ایسی پالیسیاں اختیار کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے جو مقامی پیداوار کو بڑھائیں، درآمدی انحصار کم کریں اور عام شہری کو معاشی تحفظ فراہم کریں تو مہنگائی کا دبائو بتدریج کم ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر قیمتوں میں وقتی اتار چڑھائو کے باوجود عام آدمی کے مسائل اپنی جگہ برقرار رہیں گے، اور یہی پاکستان کی معیشت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔

مہنگائی کے اعداد و شمار چاہے کچھ بھی کہیں، عام آدمی کی زندگی کا اصل حساب کتاب اس کی جیب اور دسترخوان سے ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی ایک بڑی وجہ صرف عالمی حالات یا معاشی چیلنجز نہیں بلکہ برسوں سے جاری بدانتظامی، غیر ضروری سرکاری اخراجات، ناقص منصوبہ بندی اور قومی وسائل کا ضیاع بھی ہے۔ جب حکمران طبقہ کفایت شعاری کے بجائے شاہانہ طرزِ حکمرانی اپنائے، سرکاری ادارے خساروں کا بوجھ عوام پر منتقل کریں اور قومی خزانے سے چلنے والے محکمے کارکردگی کے بجائے مراعات کا مرکز بن جائیں تو اس کی قیمت بالآخر عام شہری کو ادا کرنا پڑتی ہے۔

پاکستان میں کئی سرکاری ادارے سالہا سال سے اربوں روپے کے خسارے میں چل رہے ہیں، لیکن ان کی اصلاح کے بجائے قومی خزانے سے انہیں سہارا دیا جاتا ہے۔ بدعنوانی، نااہلی، اقربا پروری اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے معیشت پر اضافی بوجھ ڈالا ہے۔ دوسری جانب عوام سے مزید ٹیکس وصول کیے جاتے ہیں جبکہ سرکاری اخراجات اور مراعات میں خاطر خواہ کمی دکھائی نہیں دیتی۔ یہی تضاد عوام میں احساسِ محرومی اور بے اعتمادی کو جنم دیتا ہے۔

اگر حکومت واقعی مہنگائی پر قابو پانا چاہتی ہے تو اسے صرف قیمتوں کی نگرانی نہیں بلکہ اپنے اخراجات کا بھی سخت محاسبہ کرنا ہوگا۔ وزرائ، بیوروکریسی، سرکاری اداروں اور ریاستی ڈھانچے میں کفایت شعاری کو عملی شکل دینا ہوگی۔ قومی وسائل کی لوٹ مار، کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کے بغیر معاشی استحکام کا خواب ادھورا رہے گا۔ دنیا کے کامیاب ممالک نے عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے سب سے پہلے حکومتی نظام کو موثر اور جوابدہ بنایا، جبکہ پاکستان میں بھی یہی راستہ دیرپا معاشی بہتری کی ضمانت بن سکتا ہے۔

دراصل سوال صرف مہنگائی کا نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے۔ جب تک قومی وسائل کا درست استعمال، شفاف حکمرانی اور احتساب کا مضبوط نظام قائم نہیں ہوتا، تب تک عوام مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کے بوجھ تلے دبے رہیں گے۔ پاکستان کو معاشی استحکام کے لیے صرف نئے ٹیکسوں یا قرضوں کی نہیں بلکہ دیانت دار قیادت، موثر اداروں اور قومی دولت کے تحفظ کی ضرورت ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک مضبوط، خوشحال اور خودمختار پاکستان تعمیر ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button