Column

اسکرین کے قیدی: کیا ہماری توجہ فروخت ہو رہی ہے؟

اسکرین کے قیدی: کیا ہماری توجہ فروخت ہو رہی ہے؟
کالم نگار :امجد آفتاب
مستقل عنوان:عام آدمی
اگر میں آپ سے پوچھوں کہ آج دنیا کی سب سے قیمتی چیز کیا ہے، تو شاید آپ کا جواب سونا، تیل، قدرتی وسائل یا مصنوعی ذہانت ہو، لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ اکیسویں صدی کی ڈیجیٹل دنیا میں سب سے قیمتی اثاثہ انسان کی توجہ بن چکا ہے۔ آج دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، اشتہاری ادارے اور ڈیجیٹل کاروبار ہماری توجہ حاصل کرنے کی ایک خاموش مگر انتہائی منافع بخش جنگ میں مصروف ہیں۔ عالمی ماہرین اس رجحان کو ’’ توجہ کی معیشت‘‘ (Attention Economy)کا نام دیتے ہیں، جہاں صارف کی توجہ ہی اصل سرمایہ اور منافع کا بنیادی ذریعہ بن چکی ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگ روزانہ درجنوں، بلکہ سیکڑوں مرتبہ اپنا موبائل فون کھولتے ہیں۔ کبھی کسی پیغام کا جواب دینے کے لیے، کبھی کوئی خبر پڑھنے کے لیے اور کبھی صرف چند لمحے تفریح حاصل کرنے کے لیے۔ مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ چند منٹ کے لیے کھولا گیا موبائل گھنٹوں ہماری توجہ اپنے حصار میں رکھتا ہے۔ ایک ویڈیو ختم ہوتی ہے تو دوسری خود بخود سامنے آ جاتی ہے، ایک خبر کے بعد دوسری خبر اور ایک پوسٹ کے بعد دوسری پوسٹ۔ بظاہر یہ سب اتفاق محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے مصنوعی ذہانت اور جدید الگورتھمز کی ایک منظم حکمتِ عملی کارفرما ہوتی ہے۔ یہ الگورتھمز ہر لمحہ ہمارے رویوں کا تجزیہ کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہمیں کس نوعیت کی خبریں پسند ہیں، ہم کن موضوعات پر زیادہ وقت صرف کرتے ہیں، کس ویڈیو کو مکمل دیکھتے ہیں اور کس اشتہار پر ہماری نظر زیادہ دیر تک ٹھہرتی ہے۔ پھر انہی معلومات کی بنیاد پر ایسا مواد ہمارے سامنے لایا جاتا ہے جو ہمیں زیادہ سے زیادہ دیر تک اسکرین سے وابستہ رکھ سکے۔ بظاہر یہ ایک سہولت ہے، مگر حقیقت میں ہماری توجہ ایک تجارتی جنس میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی ڈیجیٹل سروس بظاہر مفت ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کی کوئی قیمت نہیں۔ اس کی اصل قیمت ہماری توجہ، ہمارا وقت اور ہمارا ذاتی ڈیٹا ہے۔ ہماری پسند و ناپسند، خریداری کی عادات، گفتگو، دلچسپیاں اور آن لائن سرگرمیاں ایک ایسی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بن چکی ہیں، جس سے دنیا کی بڑی کمپنیاں اربوں ڈالر کماتی ہیں۔ ایک صحافی اور کالم نگار کی حیثیت سے روزانہ مختلف ذرائع سے خبریں، آراء اور معلومات کا جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے۔ اس دوران مجھے ایک حقیقت شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ اب خبر کی اہمیت سے زیادہ اس کی توجہ حاصل کرنے کی صلاحیت کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ سنسنی خیز سرخیاں، مختصر ویڈیوز اور جذبات کو ابھارنے والا مواد تیزی سے پھیلتا ہے، جبکہ تحقیق پر مبنی متوازن تحریریں اکثر پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ بسا اوقات محسوس ہوتا ہے کہ اب کسی خبر کی کامیابی اس کی سچائی سے نہیں بلکہ اس کے وائرل ہونے کی صلاحیت سے ناپی جا رہی ہے، اور یہی تبدیلی جدید صحافت کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
پاکستان میں بھی اس رجحان کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ مختصر ویڈیوز، لائیو اسٹریمنگ اور سنسنی خیز مواد نے نوجوان نسل کے معلومات حاصل کرنے کے انداز کو تیزی سے بدل دیا ہے۔ کتابوں سے وابستگی کمزور پڑ رہی ہے، جبکہ چند سیکنڈ کی ویڈیوز سے فوری معلومات حاصل کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں یکسوئی، گہرے مطالعے اور تنقیدی سوچ جیسی صلاحیتیں متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔ یہ مسئلہ صرف انفرادی نہیں بلکہ قومی نوعیت بھی اختیار کر چکا ہے۔ جب سنجیدہ قومی مباحث کے بجائے اشتعال انگیز، جذباتی اور سنسنی خیز مواد زیادہ توجہ حاصل کرنے لگے تو عوامی رائے بھی اسی سمت میں مڑنے لگتی ہی۔ غلط معلومات، افواہیں اور ڈیجیٹل پروپیگنڈا نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی بلکہ جمہوری عمل اور قومی سلامتی کے لیے بھی سنگین چیلنج بن سکتے ہیں۔
پاکستان ایک نوجوان آبادی والا ملک ہے، اور یہی نوجوان ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ اگر ان کی توانائیاں بے مقصد اسکرولنگ، غیر ضروری تفریح اور غیر مصدقہ معلومات کے پیچھے صرف ہوتی رہیں تو اس کے منفی اثرات صرف تعلیم تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ معیشت، تحقیق، اختراع اور قومی ترقی بھی متاثر ہوگی۔ لیکن اگر یہی وقت علم، تحقیق، ہنر، آن لائن تعلیم، ڈیجیٹل کاروبار اور نئی ٹیکنالوجی سیکھنے پر صرف کیا جائے تو یہی نوجوان پاکستان کی ترقی کی رفتار بدل سکتے ہیں۔ توجہ کی اس تجارت کا سب سے بڑا نقصان عام آدمی کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ وہ یہ سمجھے بغیر کہ اس کا وقت اور ذہنی یکسوئی اس کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں، روزانہ گھنٹوں ایسی سرگرمیوں میں صرف کر دیتا ہے جن سے نہ اس کی علمی ترقی ہوتی ہے، نہ معاشی بہتری آتی ہے اور نہ ہی عملی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ وقت کا یہ خاموش ضیاع آہستہ آہستہ فرد کی صلاحیتوں کو محدود اور معاشرے کی مجموعی پیداواری صلاحیت کو کمزور کر دیتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مسئلہ خود ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کا غیر متوازن استعمال ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے تعلیم، تجارت، تحقیق، رابطوں اور معلومات تک رسائی کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنایا ہے۔ لاکھوں نوجوان انہی ذرائع سے آن لائن تعلیم حاصل کر رہے ہیں، فری لانسنگ کے ذریعے روزگار کما رہے ہیں اور اپنے کاروبار کو عالمی منڈی تک پہنچا رہے ہیں۔ اس لیے ٹیکنالوجی کو دشمن سمجھنا دانش مندی نہیں، بلکہ اسے شعور، ذمہ داری اور اعتدال کے ساتھ استعمال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرے میں ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دیا جائے۔ والدین بچوں کے اسکرین ٹائم پر مثبت انداز میں توجہ دیں، اساتذہ طلبہ میں تنقیدی سوچ اور مطالعے کی عادت پیدا کریں، جبکہ ریاست، میڈیا اور ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی ذمہ دارانہ ڈیجیٹل ماحول کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔ اسی طرح ہر فرد کو چاہیے کہ غیر ضروری نوٹیفکیشنز محدود کرے، مستند ذرائع سے معلومات حاصل کرے، کتاب بینی اور تحقیق کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائے اور وقتاً فوقتاً خود سے یہ سوال ضرور کرے کہ وہ ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے یا ٹیکنالوجی اسے استعمال کر رہی ہے۔ آج دنیا میں مقابلہ صرف معیشت، عسکری طاقت یا ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ انسانی توجہ کا بھی ہے۔ جس معاشرے کی توجہ علم، تحقیق، اختراع اور مثبت مقاصد پر مرکوز ہوگی، وہی ترقی کی نئی منزلیں طے کرے گا۔ اس کے برعکس جو معاشرے اپنی توجہ کو افواہوں، سنسنی، بے مقصد تفریح اور مسلسل ڈیجیٹل انتشار کے حوالے کر دیں گے، وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور فکری آزادی سے محروم ہوتے جائیں گے۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی اچھی ہے یا بری، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس کا اختیار کس کے پاس ہے۔ اگر ہم اپنی توجہ، اپنے وقت اور اپنی سوچ کے محافظ خود بن گئے تو ٹیکنالوجی ہماری ترقی کا ذریعہ بنے گی، لیکن اگر ہم نے اپنی توجہ دوسروں کے سپرد کر دی تو آہستہ آہستہ ہماری ترجیحات، فیصلے اور سوچ بھی دوسروں کے زیرِ اثر آ جائیں گے ۔ اگر ہم اپنی توجہ کے محافظ نہ بن سکے تو آنے والے وقت میں شاید ہماری سوچ بھی ہماری اپنی نہ رہے۔ یہی ڈیجیٹل دور کا سب سے بڑا چیلنج ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنا آج ہر موبائل صارف، ہر والدین، ہر استاد، ہر صحافی اور ہر پالیسی ساز کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ کیونکہ مستقبل صرف مصنوعی ذہانت یا جدید ٹیکنالوجی کا نہیں ہوگا، بلکہ ان لوگوں کا ہوگا جو اپنی توجہ کو محفوظ رکھ کر اسے علم، کردار، تحقیق اور انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کرنا جانتے ہوں گے۔

جواب دیں

Back to top button