ColumnQadir Khan

سمندروں کی سیاست اور امن کی نئی سفارت

سمندروں کی سیاست اور امن کی نئی سفارت
قادر خان یوسف زئی
اوراقِ تاریخ گواہ ہیں کہ دنیا کے عروج و زوال، طاقت کے توازن اور تہذیبوں کے فروغ کا فیصلہ ہمیشہ سمندروں کی لہروں پر ہوا ہے۔ سمندر محض کھارے پانی کے ذخائر نہیں، بلکہ وہ عالمی شریانیں ہیں جن میں بین الاقوامی تجارت اور معیشت کا لہو دوڑتا ہے۔ عالمگیریت کے اس دور میں جب فاصلوں نے سمٹ کر دنیا کو ایک عالمی گاں بنا دیا ہے، یہ آبی گزرگاہیں عالمی بقا کی ضامن بن چکی ہیں۔ بحیرہ احمر، خلیجِ عدن اور باب المندب میں اٹھنے والا کوئی بھی تلاطم محض پانی کا ابال نہیں ہوتا، اس کے جھٹکے یورپ کی منڈیوں سے لے کر ایشیا کے غریب ترین گھرانوں کے باورچی خانوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے مشرقِ وسطیٰ کے پانیوں میں برپا طوفان نے عالمی سپلائی چین کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہر بار نئے بحران کے سر اٹھانے اور معاشی تباہی کے دہانے تک پہنچنے کا انتظار کرتے رہیں گے، یا وقت آ گیا ہے کہ طوفان سے پہلے ہی بادبان مضبوط کر لیے جائیں؟
اسی تناظر میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم ہونے والا ’’ کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد‘‘ ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے۔ یہ کوئی معمول کی خبر یا رسمی سفارتی اعلامیہ نہیں، بلکہ خطے کی بحری سلامتی کے حوالے سے طرزِ فکر کی ایک بنیادی تبدیلی ہے۔ گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ نیا اتحاد فوری خطرات پر محض ہنگامی ردِعمل کی روایتی حکمتِ عملی کا خاتمہ ہے۔ یہ وقتی آگ بجھانے کے بجائے ایک مستحکم، ادارہ جاتی اور پائیدار شراکت داری قائم کرنے کی طویل المدتی اور تزویراتی سوچ کا آغاز ہے۔ یہ اس عزم کا اعلان ہے کہ بحری تجارتی راستوں کا تحفظ اب عارضی اتحادوں کا محتاج نہیں رہے گا، بلکہ اس کے لیے ایک باقاعدہ نظام اور مربوط حکمتِ عملی وضع کی جا رہی ہے۔
اس اتحاد کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اعداد و شمار اور جغرافیائی حقائق پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیجِ عدن کا شمار دنیا کی اہم ترین معاشی شہ رگوں میں ہوتا ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق دنیا کی سمندری تجارت کا قریباً 12سے 15فیصد حصہ تنہا آبنائے باب المندب سے گزرتا ہے، جس میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی بھاری مقدار شامل ہے۔ جب اس راستے میں جہاز رانی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں تو تجارتی جہازوں کو مجبوراً افریقہ کے کیپ آف گڈ ہوپ کا طویل اور صبر آزما چکر کاٹنا پڑتا ہے۔ اس متبادل راستے کا مطلب سفر میں 10سے 15دن کا اضافہ ہے، جس سے نہ صرف ایندھن اور مال برداری کے اخراجات آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں، بلکہ عالمی سطح پر مہنگائی کا ایک نیا طوفان جنم لیتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ہی نہیں بلکہ ترقی پذیر اور غریب ممالک بھی اس کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا ان بحری راستوں میں آزادانہ جہاز رانی کا تسلسل اور توانائی کی بلا تعطل ترسیل محض چند ممالک کا نہیں، پوری انسانیت کا مسئلہ بن چکا ہے۔
اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر اس نئے اتحاد کی ساخت ہی اس کی سنجیدگی کی گواہ ہے۔ جولائی 2026ء میں ریاض میں منعقدہ اس کے تاسیساتی اجلاس میں چند ممالک نہیں، بلکہ 43ممالک اور یورپی یونین کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کے 14بانی ارکان میں سعودی عرب بطور بانی و قائد، کویت، بحرین، قطر، پاکستان، ترکیہ، مصر، اردن، یمن، بنگلہ دیش، نائجیریا، سوڈان، جبوتی اور صومالیہ شامل ہیں۔ یہ وسیع اور متنوع شراکت اس بات کا ثبوت ہے کہ سمندری سلامتی اب ایک مشترکہ ذمہ داری تسلیم کر لی گئی ہے۔ یہ اتحاد محض کاغذی معاہدہ نہیں، بلکہ ریاض میں مستقل ہیڈکوارٹر، جوائنٹ کمانڈ اور جوائنٹ میری ٹائم آپریشنز سینٹر جیسے فعال اداروں پر مشتمل ہوگا۔ معلومات کا بروقت تبادلہ، رکن ممالک کی عسکری و تکنیکی استعداد میں اضافہ اور مشترکہ آپریشنل رابطہ کاری اس کے وہ بنیادی ستون ہیں جو سرحد پار سے ابھرنے والے بحری خطرات کا موثر علاج ثابت ہوں گے۔
موجودہ جیو پولیٹیکل بساط پر سعودی عرب کا یہ اقدام باوقار سفارت کاری کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ یہ وہ سفارت کاری ہے جو چیخ و پکار یا جارحانہ عزائم کے بجائے خاموشی سے اداروں کی تعمیر پر یقین رکھتی ہے۔ بدقسمتی سے مشرقِ وسطیٰ کو ہمیشہ تنازعات کی آماجگاہ کے طور پر دیکھا گیا، جہاں ادارے بحران کے بعد حرکت میں آتے ہیں۔ لیکن اس اتحاد کی صورت میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ بحرانوں کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہی ان کی روک تھام کے لیے سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ یہی بصیرت افروز سوچ خطے میں پائیدار امن کی ضمانت بن سکتی ہے۔
یہاں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا پہلے سے کشیدگی اور گروہ بندیوں کے شکار مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے عسکری بلاک کی تشکیل صورتحال کو مزید پیچیدہ نہیں کر دے گی؟ کیا اس سے بحیرہ احمر کی حد سے زیادہ عسکریت کو فروغ نہیں ملے گا؟ یہ خدشات بظاہر وزن رکھتے ہیں اور عالمی سیاست پر گہری نظر رکھنے والا کوئی بھی تجزیہ کار انہیں یکسر نظر انداز نہیں کر سکتا۔
لیکن جب ہم اس اتحاد کے چارٹر، مقاصد اور بانی ممالک کے واضح بیانات کا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں تو تصویر کا دوسرا رخ زیادہ روشن نظر آتا ہے۔ بانی ممالک نے نہایت صراحت سے واضح کیا ہے کہ اس میں شمولیت ہر ملک کا خودمختار فیصلہ ہے اور اس کی نوعیت خالصتاً دفاعی ہے۔ اس کا ایجنڈا کسی پر حملہ آور ہونا نہیں، بلکہ اس کی اساس اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر رکھی گئی ہے۔ اس کا واحد مقصد ان تجارتی راستوں کو محفوظ بنانا ہے جن پر عالمی معیشت کا دارومدار ہے۔ جب ایک مشترکہ خطرہ پوری دنیا کو معاشی مندی کی طرف دھکیل رہا ہو تو اجتماعی دفاع کو جارحیت نہیں، بقا کی جنگ کہا جاتا ہے۔ اتنے وسیع پیمانے پر مختلف الخیال ممالک کا ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا ہی اس بات کی نفی کرتا ہے کہ یہ کسی ایک ملک کے توسیع پسندانہ عزائم کا آلہ کار ہے۔
بدلتی دنیا میں سلامتی کے تقاضے بھی بدل چکے ہیں۔ آج کوئی بھی ملک، چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، تنہا بین الاقوامی سمندروں کی حفاظت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ سعودی عرب نے قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے کثیر القومی شراکت داری کا جو بیج بویا ہے، وہ وقت کی اہم ترین ضرورت تھا۔ تزویراتی شراکت، دفاعی رابطہ کاری اور ادارہ جاتی مضبوطی کا یہ ماڈل مستقبل کی سفارت کاری کے لیے ایک روشن مثال بنے گا۔ عالمی منڈیوں کا تسلسل، توانائی کی محفوظ ترسیل اور انسانیت کی مجموعی فلاح کا انحصار اب اس بات پر ہے کہ ہم سمندروں کو تنازعات کے میدان کے بجائے تعاون اور امن کی گزرگاہیں کیسے بناتے ہیں۔ یہ اتحاد اسی سمت میں ایک دور رس اور خوش آئند قدم ہے، جس کی کامیابی دنیا کے امن اور خوشحالی کی ضامن ہے۔

جواب دیں

Back to top button