یومِ استحصالِ کشمیر اور عالمی ضمیر

اداریہ۔۔۔
یومِ استحصالِ کشمیر اور عالمی ضمیر
ہر قوم کی تاریخ میں بعض دن محض تقویم کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ وہ اس کے اجتماعی شعور، قومی عزم اور تاریخی جدوجہد کی علامت بن جاتے ہیں۔ پاکستان کے لیے 5اگست بھی ایسا ہی ایک دن ہے، جو کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی، ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت میں 5اگست 2019ء کو کی جانے والی تبدیلیوں کے خلاف قومی موقف کی تجدید کا استعارہ بن چکا ہے۔ ہر سال یومِ استحصالِ کشمیر اس عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ کشمیری عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کے جائز حقوق کے لیے سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ اس سال بھی ملک بھر میں یومِ استحصالِ کشمیر قومی جذبے سے منایا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر صبح 9بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی، سائرن بجائے گئے، ریلیاں، سیمینارز، واکس، تصویری نمائشیں اور دعائیہ اجتماعات منعقد ہوئے۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو مسئلہ کشمیر کے تاریخی، قانونی اور سفارتی پہلوں سے آگاہ کیا گیا جبکہ بیرونِ ملک پاکستانی اور کشمیری برادری نے بھی مختلف ممالک میں تقریبات منعقد کرکے عالمی برادری کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی۔ یہ سرگرمیاں اس حقیقت کی عکاس ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان کے قومی شعور کا مستقل حصہ ہے۔ پاکستان کا موقف واضح اور دوٹوک ہے کہ 5اگست 2019ء کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنا ایک یک طرفہ اقدام تھا، جس نے نہ صرف خطے کی سیاسی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنایا بلکہ جنوبی ایشیا میں اعتماد سازی کی کوششوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ پاکستان مسلسل یہ موقف اختیار کرتا آیا ہے کہ جموں و کشمیر ایک متنازع خطہ ہے، جس کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مطابق ہونا چاہیے۔ یہی اصول پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو صرف سیاسی یا سفارتی زاویے سے دیکھنا کافی نہیں۔ اس کے انسانی پہلو بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ جب کسی تنازع کا دورانیہ دہائیوں پر محیط ہوجائے تو اس کے اثرات صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ عام شہری، بچے، خواتین، بزرگ، طلبہ اور نوجوان اس کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقے بن جاتے ہیں۔ پاکستان کا موقف ہے کہ کشمیری عوام کو ایک ایسا ماحول میسر آنا چاہیے جہاں وہ امن، عزت، تحفظ اور بنیادی انسانی حقوق کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ یہی وہ اصول ہیں جن پر بین الاقوامی انسانی حقوق کے نظام کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ یہ امر بھی حقیقت ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری صلاحیت رکھنے والے ممالک ہیں۔ ایسے میں خطے میں کشیدگی صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات پورے جنوبی ایشیا اور عالمی امن پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان مسلسل مذاکرات، سفارت کاری اور پُرامن ذرائع سے مسائل کے حل پر زور دیتا آیا ہے۔ پاکستان نے متعدد مواقع پر اس بات کا اظہار کیا ہے کہ جنوبی ایشیا کی ترقی، معاشی خوش حالی اور علاقائی استحکام کا راستہ محاذ آرائی سے نہیں بلکہ باہمی احترام، اعتماد سازی اور بامقصد مذاکرات سے ہو کر گزرتا ہے۔ تاہم پاکستان کا یہ بھی موقف ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے بھارت کو ایسے یک طرفہ اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو کشیدگی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ عالمی برادری کے لیے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اپنے ہی طے کردہ اصولوں پر کس حد تک عمل درآمد یقینی بناتی ہے۔ اگر بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادیں عالمی نظام کی بنیاد ہیں تو ان کی یکساں پاسداری بھی ضروری ہے۔ پاکستان بارہا اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو نظرانداز کرنے کے بجائے سنجیدہ سفارتی کوششوں کے ذریعے اس کے منصفانہ اور پائیدار حل کی راہ تلاش کی جائے۔ عالمی اداروں کی ذمے داری ہے کہ وہ ایسے تنازعات کے حل میں موثر کردار ادا کریں تاکہ خطے میں امن و استحکام کی نئی راہیں ہموار ہوں۔آج کے دور میں سفارت کاری صرف حکومتی سطح تک محدود نہیں رہی۔ ڈیجیٹل میڈیا، عوامی سفارت کاری اور نوجوان نسل کی علمی و فکری شرکت بھی عالمی رائے عامہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ پاکستان کے نوجوان، دانشور، صحافی اور اوورسیز پاکستانی اس حوالے سے ایک اہم ذمے داری رکھتے ہیں کہ وہ تحقیق، دلیل اور شائستگی کے ساتھ پاکستان کا موقف دنیا کے سامنے پیش کریں۔ جذبات کے بجائے حقائق اور بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر پیش کیا جانے والا موقف زیادہ موثر اور دیرپا ثابت ہوتا ہے۔ میڈیا کا کردار بھی اس ضمن میں انتہائی اہم ہے۔ ذمے دارانہ صحافت کا تقاضا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے سیاسی اور سفارتی پہلوں کے ساتھ ساتھ اس کے انسانی اثرات کو بھی اجاگر کیا جائے۔ جب دنیا عام شہریوں کی مشکلات، امن کی ضرورت اور انسانی وقار کے تقاضوں کو سمجھتی ہے تو عالمی رائے عامہ زیادہ مثر انداز میں متحرک ہوتی ہے۔ اسی لیے پاکستانی میڈیا ہر سال یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر خصوصی نشریات، اداریوں، دستاویزی پروگراموں اور تجزیوں کے ذریعے اس مسئلے کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان کی یہ بھی خواہش ہے کہ جنوبی ایشیا غربت، موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، صحت، تعلیم اور معاشی ترقی جیسے مشترکہ چیلنجز پر اپنی توانائیاں صَرف کرے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ دیرینہ تنازعات کو انصاف، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق حل کیا جائے۔ ایک ایسا خطہ جہاں امن ہو، وہاں تجارت فروغ پاتی ہے، سرمایہ کاری آتی ہے، عوامی روابط مضبوط ہوتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے خوش حالی کے نئے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ یومِ استحصالِ کشمیر صرف ایک احتجاجی دن نہیں بلکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ایک مسلسل کوشش ہے۔ پاکستان اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل کشمیری عوام کی خواہشات، اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ پاکستان سفارتی، سیاسی اور اخلاقی سطح پر کشمیری عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ عالمی برادری بھی انصاف، امن اور انسانی وقار کے تقاضوں کو مقدم رکھتے ہوئے اس دیرینہ تنازع کے منصفانہ حل کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرے گی۔ یہی جنوبی ایشیا کے پائیدار امن، ترقی اور خوش حالی کی ضمانت بھی ہے۔
شذرہ۔۔۔
بڑھتی بے روزگاری، سنگین چیلنج
اقتصادی ترقی کا حقیقی پیمانہ صرف شرحِ نمو یا سرمایہ کاری میں اضافہ نہیں بلکہ عوام کو باعزت روزگار کی فراہمی بھی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان اکنامک سروے 2025۔26میں شامل تازہ ترین لیبر فورس سروے کے مطابق ملک میں بے روزگاری کی شرح 6.3فیصد سے بڑھ کر 7.1فیصد ہوچکی ہے جب کہ بے روزگار افراد کی تعداد 45لاکھ 10ہزار سے بڑھ کر 59لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف معیشت کے لیے تشویش ناک ہیں بلکہ اس بات کی نشان دہی بھی کرتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی افرادی قوت کے مقابلے میں روزگار کے مواقع مطلوبہ رفتار سے پیدا نہیں ہورہے۔ رپورٹ کے مطابق کام کرنے کی عمر کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور لیبر مارکیٹ میں نوجوانوں اور خواتین کی شرکت بھی بڑھی ہے، جو ایک مثبت رجحان ہے۔ تاہم اگر اس بڑھتی ہوئی افرادی قوت کو مناسب روزگار نہ ملے تو یہی صلاحیت معاشی ترقی کے بجائے سماجی مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ بے روزگاری غربت، مہنگائی، جرائم، ذہنی دبا اور سماجی بے چینی کو جنم دیتی ہے، جس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ اگرچہ برسرِ روزگار افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور خدمات، تعمیرات، تجارت اور دیگر غیر زرعی شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، لیکن یہ اضافہ لیبر مارکیٹ میں شامل ہونے والے نئے افراد کی تعداد کے مقابلے میں ناکافی ثابت ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ بے روزگاری کی شرح میں کمی کے بجائے اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستان جیسے نوجوان آبادی والے ملک کے لیے یہ صورت حال ایک اہم پالیسی چیلنج ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ صنعتی ترقی، برآمدات، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، زرعی ویلیو ایڈیشن، آئی ٹی، فری لانسنگ اور ہنرمندی کے فروغ پر خصوصی توجہ دے۔ اس کے ساتھ ساتھ فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کو صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا بھی ناگزیر ہے تاکہ نوجوانوں کو مارکیٹ کی طلب کے مطابق مہارتیں فراہم کی جاسکیں۔ اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ نجی شعبہ روزگار پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول، توانائی کی مستحکم فراہمی، کاروباری لاگت میں کمی اور پالیسیوں کا تسلسل ہی نئی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ بے روزگاری صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ قومی ترقی، سماجی استحکام اور مستقبل کی خوش حالی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اگر افرادی قوت میں اضافے کے ساتھ روزگار کے مواقع بھی تیزی سے پیدا نہ کیے گئے تو پاکستان کا قیمتی انسانی سرمایہ بوجھ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، نجی شعبہ اور تعلیمی ادارے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کریں، تاکہ نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم کرکے معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جاسکے۔





