پرچارک

پرچارک
پرچارک
بے نظیر بھٹو ٹائون کے پانچ ہزار الاٹیز اپنے مکان کے منتظر
’’ روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کے وعدے کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آ گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی برصغیر کی ان چند سیاسی جماعتوں میں شامل ہے جنہوں نے ہمیشہ عام آدمی کے حقوق، سماجی انصاف اور عوامی فلاح کو اپنی سیاست کا بنیادی ستون قرار دیا۔ پارٹی کے بانی قائد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ’’ روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کا نعرہ دیا، جسے بعد ازاں شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے بھی اپنی عوامی سیاست کا مرکز بنایا۔ آج بھی یہی نعرہ پاکستان پیپلز پارٹی کی پہچان اور عوام سے کیے گئے وعدوں کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اسی وژن کے تحت سندھ حکومت نے سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے دور میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ٹان منصوبے کے تحت قرعہ اندازی کے ذریعے قریباً پانچ ہزار رہائشی پلاٹ مستحق شہریوں کو الاٹ کیے۔ اس موقع پر ہزاروں خاندانوں کے چہروں پر خوشی تھی، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ اب برسوں کی محنت کے بعد وہ اپنے ذاتی گھر کی بنیاد رکھ سکیں گے۔
مگر افسوس کہ سات برس گزر جانے کے باوجود یہ خوشی ادھوری ہے۔ الاٹمنٹ لیٹر تو جاری کیے گئے، لیکن آج بھی ہزاروں الاٹیز لیز کے اجرا کے منتظر ہیں۔ ایک سرکاری دستاویز کی عدم فراہمی نے ہزاروں خاندانوں کے خواب روک رکھے ہیں۔
یہ صرف ایک انتظامی تاخیر نہیں بلکہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو شدید معاشی اور ذہنی مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔ لیز نہ ہونے کے باعث بینک اور دیگر مالیاتی ادارے تعمیراتی قرض فراہم نہیں کرتے، جبکہ دوسری جانب مہنگائی نے تعمیرات کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔ گزشتہ سات برسوں میں سیمنٹ، سریا، اینٹ، بجری، مزدوری اور دیگر تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اگر لیز بروقت جاری ہو جاتی تو آج ہزاروں خاندان اپنے گھروں میں آباد ہوتے۔
رہائش صرف ایک مکان کا نام نہیں بلکہ عزت، تحفظ، استحکام اور بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔ آئینِ پاکستان بھی شہریوں کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری ریاست پر عائد کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہونی چاہیے، جن میں رہائش ایک اہم ضرورت ہے۔
یہ منصوبہ صرف پلاٹوں کی تقسیم تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کا حقیقی مقصد لوگوں کو اپنے گھروں میں آباد کرنا ہے۔ اگر الاٹمنٹ کے بعد لیز ہی جاری نہ ہو تو منصوبے کا بنیادی مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔ اس تاخیر کی وجوہات جو بھی ہوں، اب وقت آ گیا ہے کہ متعلقہ ادارے تمام رکاوٹیں دور کرتے ہوئے لیز کے اجرا کا عمل فوری مکمل کریں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نوجوان قیادت کی علامت ہیں اور وہ متعدد مواقع پر عوامی مسائل کے حل کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔ آج شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ٹان کے پانچ ہزار الاٹیز بھی ان کی توجہ کے منتظر ہیں۔ یہ مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ خالصتاً انسانی اور عوامی نوعیت کا ہے۔ اس کے حل سے ہزاروں خاندانوں کو براہِ راست ریلیف ملے گا۔
ہم پرزور اپیل کرتے ہیں کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اس معاملے کا ذاتی نوٹس لیں، سندھ حکومت اور متعلقہ اداروں کو فوری ہدایات جاری کریں اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ٹائون کے تمام الاٹیز کو بلا تاخیر لیز فراہم کرنے کا عمل مکمل کرائیں۔ یہ اقدام نہ صرف ہزاروں خاندانوں کے خوابوں کو حقیقت میں بدل دے گا بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے تاریخی منشور ’’ روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کو عملی شکل دینے کی ایک روشن مثال بھی ثابت ہوگا۔
عوام حکومتوں کو صرف وعدوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان وعدوں کی تکمیل پر یاد رکھتے ہیں۔ اگر آج پانچ ہزار خاندانوں کو ان کا جائز حق مل جاتا ہے تو یہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ عوامی خدمت، سیاسی بصیرت اور سماجی انصاف کی ایسی مثال ہوگی جسے آنے والے برسوں تک قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔
یہ وقت وعدوں کو حقیقت میں بدلنے کا ہے، کیونکہ ہر خاندان کا خواب صرف ایک پلاٹ کا کاغذ نہیں بلکہ اپنے بچوں کے لیے ایک محفوظ اور باوقار گھر ہے۔





