
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان پر ردِعمل دیا ہے جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی کارگو پر 20 فیصد فیس عائد کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔
عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے والے فریق کو معاوضہ ملنا چاہیے تاہم ایران ہمیشہ اس اہم آبی گزرگاہ کا محافظ رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔
انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے 20 فیصد فیس کے اعلان کو زیادہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ’منصفانہ‘ نِرخ لے گا
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا اب آبنائے ہرمز کا ’محافظ‘ ہو گا اور سیکیورٹی و تحفظ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے تمام کارگو پر 20 فیصد فیس وصول کی جائے گی۔
امریکی مرکزی کمان کے مطابق امریکا 14 جولائی کو شام 4 بجے (مشرقی امریکی وقت) سے ایرانی بندرگاہوں کی جانب آنے اور جانے والی بحری آمد و رفت کی ناکہ بندی دوبارہ شروع کرے گا، امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس پابندی کا نفاذ ایرانی بندرگاہوں سے منسلک جہازوں پر ہو گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان دوسرے روز بھی حملوں کا تبادلہ جاری رہا جبکہ دونوں ممالک آبنائے ہرمز پر اپنے اپنے مؤقف اور اختیار کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ ہونے والے عبوری امن معاہدے کے تحت اسے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو منظم کرنے اور ٹول وصول کرنے کا حق حاصل ہے جبکہ امریکا کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت بحری راستوں میں آزادانہ نقل و حرکت یقینی ہے







