ColumnImtiaz Aasi

، امریکہ ایران جنگ بندی پر عمل نہیں ہو سکا 

امریکہ، ایران جنگ بندی پر عمل نہیں ہو سکا

تحریر : امتیاز عاصی

بدقسمتی سے امریکہ، ایران جنگ بندی پر عمل نہیں کرسکے جس کے نتیجہ میں امریکہ، ایران ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں۔ دونوں ملکوں کے مابین جنگ بندی سے امید پیدا ہوئی تھی کہ خطے میں پائیدار امن کی کوئی راہ ہموار ہو سکے گی مگر امریکی صدر ٹرمپ ایران پر بھرپور حملہ کرنے کے لئے پہلے سے ذہین بنا چکے تھے۔ ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامہ نائی کی ایران کے مختلف شہروں میں نماز جنازہ کے موقع پر اس بات کا امکان تھا امریکہ کہیں سوگواروں کے ہجوم میں کہیں حملہ آور نہ ہوجائے مگر حق تعالیٰ نے ایران کو ایک بہت بڑے حادثے سے بچا لیا۔ امریکہ کی طرف سے ایران پر حملوں سے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا امریکہ اسرائیل کی ایماء پر ایران پر وقفے وقفے سے حملوں کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ یہ ناچیز اس سے قبل اپنے کالموں میں کئی بار کہہ چکا ہے ایران آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔ سوال ہے آخر ایران اپنا جوہری پروگرام کیوں جاری نہیں رکھ سکتا جب کہ آبنائے ہرمز ایران اور سلطنت آف عمان کی ملکیت ہے۔ ایک ایسے موقع پر جب دونوں ملکوں کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کا آخری رائونڈ ہونا تھا کہ ایران پر امریکی حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔ دیکھا جائے تو امریکہ ایران معاہدے میں اسرائیل کو بھی شامل ہونا چاہیے تھا جنگ بندی کے دوران اسرائیل کی طرف سے لبنان اور غزہ پر حملوں سے یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا امریکی صدر اسرائیل کے دبائو میں ہیں اور ایران کے ساتھ ساٹھ روزہ جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ گزشتہ دو روز میں امریکہ نے ایران کے اسی سے زیادہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں ایک ریلوے پل، چار فوجیوں کی شہادت، بندرعباس کی بندرگاہ،چاہ بہار اور ایرانی گارڈز کے استعمال میں آنے والی کشتیوں کے علاوہ دیگر کئی اہم مقامات پر حملوں نے دونوں ملکوں کے مابین مستقل امن کے امکانات معدوم کر دیئے ہیں۔ اب سوال ہے امریکہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کیوں کی ہے۔ امریکہ صدر ٹرمپ کو شکایت ہے ایران معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز سے گزرنی والے کمرشل جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ درحقیقت صدر ٹرمپ کی اپنی جماعت اور ایران میں ایک مخصوص طبقہ دونوں ملکوں کے درمیان اس معاہدے کے خلاف ہے۔ امریکہ جب ایران پر حملے کر رہاہے تو لامحالہ ایران خلیج میں واقع امریکہ اڈوں کو نشانہ بنائے گا ۔یہ تو نہیں ہو سکتا امریکہ ایران پر حملے کرتا رہے اور ایران امریکی اڈوں کی طرف پھول بھیجتا رہے۔ تعجب ہے دنیا کا کوئی ملک ٹرمپ کو یہ کہنے کو تیار نہیں اگر اسرائیل اور بھارت اٹیم بم بنا سکتے ہیں تو ایران اپنا جوہری پروگرام جاری کیوں نہیں رکھ سکتا۔ آج اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے اس معاملے پر خاموش تماشائی بنائے ہوئے ہیں آخر ان اداروں کے قیام کا کیا مقصد ہے اگر عالمی اداروں کو امریکہ کے زیر اثر رہنا ہے تو ایسے اداروں کے قواعد و ضوابط کیا صرف مسلمان ملکوں کے لئے ہیں؟۔ چالیس روزہ جنگ میں امریکہ نے اسکول کے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا اور دیگر شہری آبادی پر حملے کرکے لوگوں کو شہید کیا۔ اگر مسلمان ملک امریکہ کے خلاف متحد ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت مسلمانوں کو زیر نہیں کر سکتی لیکن امہ میں اتفاق و اتحاد کے فقدان نے غیر مسلم قوتوں کو مسلمانوں پر مسلط کر دیا ہے۔ مسلمانوں کی تباہی کی وجہ صاف ظاہر ہے جب سے ہم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ؐ کے فرمودات کو بھلا ہے مسلمان کمزور سے کمزور ہو کر اغیار کے زیر نگیں ہو چکے ہیں۔ آپ دیکھیں امریکہ نے مسلمان ملکوں میں اپنے فوجی اڈے محض ان ملکوں کی حفاظت کے لئے قائم کرکے ان کے اخراجات انہی ملکوں سے وصول کئے جا رہے لیکن حالیہ امریکہ ایران جنگ میں یہ بات مسلم ملکوں پر آشکار ہو چکی ہے امریکہ اڈوں کے قیام کا مقصد ایران کو نشانہ بنانا تھا نہ کہ ان ملکوں کی حفاظت مقصود تھی۔ امریکہ کی طرف سے ساٹھ روزہ جنگ بندی کے دوران ایرانی تیل کی فروخت پر پابندی اٹھائی گئی مگر امریکہ نے اب اسے ختم کر دیا ہے۔ معاہدے میں کہا گیا تھا کہ جنگ بندی کے دوران امریکہ اپنے جہاز پانی سے ہٹا لے گا مگر اس پر بھی عمل نہیں ہو سکا ہے۔ جنگ بندی کے معاہدے کی ایک شق یہ تھی امریکہ ایرانی پانیوں کے قریب فوجی قوت میں اضافہ نہیں کرے گا لیکن امریکہ نے اس پر بھی عمل نہیں کیا بلکہ اپنے بحری بیٹرے میں دو ہزار میرینز کا اضافہ کر دیا ہے۔ ان حالات میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت رک جانے سے خطے میں پھر سے بحران پیدا ہونے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ آبنائے ہرمز کی امریکہ کی طرف سے دوبارہ ناکہ بندی کی صورت میں ایرانی تیل کی بہت بڑی مقدار کے ضائع ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ عجیب تماشا ہے صدر ٹرمپ مذاکرات کے لئے بھی رضامند اور جنگ بندی کے لئے تیار نہیں ہیں جو ان کے دوہرے معیار کا عکاس ہے۔ تعجب ہے ابھی آبنائے ہرمز بند ہونے کی خبر آنے کی دیر ہے حکومت پاکستان پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے لئے پہلے سے تیار رہتی ہے۔ اس کے ساتھ پٹرول لیوی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف جماعت اسلامی نے مہنگائی کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کر دی ہے، جس میں ان کا مطالبہ ہے ملک سے مہنگائی کا خاتمہ مقصود ہے۔ حیرت طلب پہلو یہ ہے جماعت اسلامی تن تنہا احتجاجی تحریک چلا رہی ہے جب اپوزیشن کی دیگر جماعتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ درحقیقت ملک سے مہنگائی کا خاتمہ اس لئے ممکن نہیں موجودہ حکومت کا تعلق بھی کاروباری طبقے سے ہے وہ تاجروں کی ناراضگی نہیں لینا چاہتی انہیں پتہ ہے عوام تو ویسے انہیں ووٹ نہیں دیتے جیسا کہ گزشتہ الیکشن میں سب نے دیکھ لیا ووٹ کے تقدس کو جس طرح پامال کیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ ہم بات کر رہے تھے امریکہ، ایران جنگ بندی کی، مجھے نہیں لگتا دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات معمول پر آسکیں گے، کیونکہ صدر ٹرمپ جن چیزوں کا مطالبہ ایران سے کئے ہوئے ہیں ایران کسی صورت ان سے دستبردار نہیں ہوگا۔

جواب دیں

Back to top button