کروسیڈوار

کروسیڈ وار
تحریر: محمد مبشر انوار(ریاض)
مشرق وسطی کے معاملات مزید گھمبیر ہو چکے ہیں اور جو موہوم سی امید امن کی نظر آئی تھی،وہ بھی ختم ہوتی نظر آتی ہے کہ امریکہ ،اسرائیلی خواہشات کے سامنے کہیں یا اپنی عزت بچانے کی خاطر،اسرائیل کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہا ہے ،جانتے ہوئے بھی کہ اسرائیل اس ساری بدامنی کا ذمہ دار ہے،اس کو روکنے میںہی ناکام نہیں بلکہ اس کے اشاروں پر چلنے پر بھی مجبور ہے۔امریکی صدر بارہا ،نیتن یاہو کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی پر ڈانٹ چکے ہیں لیکن نیتن یاہو کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور وہ ڈانٹ کھانے کے باوجود اپنے توسیع پسندانہ عزائم پر قائم ،خطے میں بد امنی کو بڑھا رہا ہے۔ فالس فلیگ آپریشنز کی ایک طویل فہرست ہے کہ کس طرح اسرائیل کی جانب سے خلیجی ممالک میں فالس فلیگ آپریشنز کرکے ،اس کا الزام ایران پر دھرنے کی کوششیں کی گئی،جس کے دو مقاصد صاف نظر آرہے تھے اور آ رہے ہیں کہ ایک طرف وہ ان خلیجی ممالک کو اس جنگ میں ملوث کرنے پر اکسائیں اور دوسری اہم ترین بات یہ کہ اس جنگ کا سارا خرچ ان خلیجی ممالک سے وصول کیا جائے۔ بالفرض اگر خلیجی ممالک اس جنگ کا حصہ بن جاتے،جس کی کوششیں ابھی تک اسرائیل کی جانب سے جاری ہیں ،اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے،اس کے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ،تب یہ جنگ نہ صرف مسلم ممالک کے درمیان لڑی جاتی بلکہ صدیوں سے جو خلیج مسلم مسالک کے درمیان پروان چڑھائی گئی تھی،اس کے ثمرات بھی سمیٹے جاتے اور اس کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کی ترقی و خوشحالی کو بھی ریورس گئیر لگا دیا جاتا جبکہ اس کسمپرسی میں اسرائیل کے لئے آسان ہو جاتا کہ وہ بآسانی ان ممالک کو فتح کر لیتااور گریٹر اسرائیل کا خواب پورا کر لیتا مگر ابھی تک یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ خلیجی ممالک میں اس وقت متحدہ عرب امارات ایک ایسی ریاست ہے جو نہ صرف جی سی سی سے الگ ہو چکی ہے بلکہ اس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی موجود ہیں اور اطلاعات یہ بھی ہیں کہ امارات میں یہودی فوجیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے،جبکہ اسرائیل امارت کے بیشتر معاملات پر اچھا خاصہ اثرورسوخ حاصل کر چکا ہے،اس پس منظر میں اسرائیل ،امارات کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے،کوئی بھی ایسی بھیانک کارروائی کا ارتکاب کر سکتا ہے ،جو خلیجی ممالک کو براہ راست اس جنگ کا ایندھن بنا سکتی ہے اور اسرائیل کے ناپاک عزائم کو بھی کامیاب کر سکتی ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں ،عمان کے پانیوں سے ،بحری تجارتی جہازوں کو ایرانی اجازت کے بغیر گزارنے کی امریکی کوشش میں، ’’ نامعلوم میزائل‘‘ نے اس جہاز کو نشانہ بنایا ،جس کے جواب میں امریکہ بغیر سوچے سمجھے،ایران پر حملہ آور ہو چکا ہے بجائے اس نامعلوم میزائل کی تفصیلات اکٹھی کی جاتی اور جس نے یہ میزائل داغا تھا،اس کو سزا دی جاتی،ایران پر حملے شروع کر دئیے گئے۔ حالانکہ ایران مسلسل یہ کہتا رہا کہ یہ میزائل ایران کی طرف سے نہیں داغا گیا مگر حملوں کے بعد،ایران نے جوابی کارروائی بھی کی اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے،جس کے بعد ٹرمپ ببانگ دہل کہہ چکے ہیں کہ مفاہمتی یادداشت ختم ہو چکی اور اب جنگ ہو گی ایران کو سبق سکھایا جائے گا۔
امریکہ کی جانب سے ایران کے 80اہداف کو نشانہ بنایا گیا،جواب میں ایران نے امریکہ کے 85فوجی اہداف کو نشانہ بنا دیا یہ وہ وقت تھا جب امریکہ کی جانب سے ایران کو اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے لئے ایک ہفتے کی مہلت دی گئی تھی لیکن اس کا احترام بھی نہ کیا گیا اور پھر ایران کے 90اہداف کو نشانہ بنایا گیااور اپنے 110اہداف کو نشانہ بنوا لیا۔ سوال تو یہ ہے کہ ان جوابی کارروائیوں سے کیا ایران ،امریکہ کی رسد و کمک کو روک پایا ہے؟ یا اس دوران ایران نے امریکہ کو اپنی طاقت کا تخمینہ لگانے کا موقع فراہم کیا ہے؟تازہ ترین ،تادم تحریر،امریکہ کی جانب سے ایران کے 5صوبوں پر حملے کئے گئے ہیں اور ان حملوں میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا بالخصوص پل،ریلوے سٹیشنز اور ریلوے ٹریکس کو نشانہ بناکر ،ایران کی کمزور معاشی حالت کو مزید خستہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایران کے لئے عالمی مارکیٹ میں تیل فروخت کرنے کی نرم کی گئی پابندی کو بھی ختم کیا جا چکا ہے جبکہ متبادل کے طور پر ریلوے نظام کو بھی بری طرح متاثر کرنے کی کوشش کی ہے تا کہ ایران کسی بھی طرح معاشی طور پر مضبوط نہ ہو سکے اور نہ امریکہ کے سامنے ٹھہر سکے بلکہ جلد از جلد گھٹنے ٹیک دے۔ کیا ایران امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گا؟یہ سوال بڑا اہم ہے اور اس کا جواب یقینی طور پر ایرانی ماضی اور اس کا ردعمل ہی دے سکتا ہے لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا ایران کے پاس طویل جنگ کے لئے ،اسلحہ موجود ہے؟گو کہ ایران کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے اسلحہ سازی میں تعطل پیدا نہیں ہونے دیا اور اس کے کارخانے مسلسل جدید اسلحہ تیار کررہے ہیں جبکہ ایران کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ایران نے ابھی تک اپنا جدید اسلحہ استعمال ہی نہیں کیا اوروہ اپنا پرانا سٹاک استعمال کرکے ،امریکہ کو ناکوں چنے چبوا رہا ہے۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو بہر حال امریکہ نے اپنا وہ اسلحہ استعمال کیا ہے،جس پر اسے ہمیشہ سے ناز رہا ہے بالخصوص سٹیلتھ ٹیکنالوجی کے حامل جنگی طیارے،جنہیں وہ ناقابل تسخیر سمجھتا رہا ہے اور جن کی دھاک ساری دنیا پر بٹھا رکھی تھی۔ بدقسمتی سے یہ جنگی طیارے،ایرانی فضاؤں میں پہلے ہلے کے بعد ،کسی قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائے بلکہ الٹا ایرانی فضاان امریکی جہازوں کا قبرستان ثابت ہوئی ہیں۔ حتی کہ گذشتہ دنوں ایران نے ،امریکی MQ9سٹیلتھ ٹیکنالوجی کا جدید ترین ڈرون ،جو انتہائی مہنگا تقریبا 30ملین ڈالراور ہزاروں فٹ اونچی پرواز کرتا ہے،کو مار گرایا ہے لیکن اس کے بعد،امریکہ نے تاحال جو فضائی حملہ کیا ہے، اس نے ایران کی شہری تنصیبات کو خاصہ نقصان پہنچایا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ایران کا فضائی دفاعی نظام بھی امریکی حملے میں شکار ہو چکا ہے؟
امریکہ تو ایران میں زمینی فوج تک اتارنے کو تیار ہے کہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ،امریکہ کسی بھی حد تک جاتا ضرور ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ اس کے وہ تمام مقاصد،جن کا اظہار امریکہ ببانگ دہل کرتا ہے ،وہ اسے حاصل بھی ہو جائیں،ایسا ماضی میں بارہا دیکھا جا چکا ہے کہ امریکی مقاصد کماحقہ حاصل نہیں ہوئے بلکہ امریکہ اپنا اچھا خاصہ نقصان کروا کر نکلتا ہے ۔ امریکہ نے پہلے بھی خطے کے ان ممالک پر قبضہ کیا یا اپنی فوجیں بٹھائی،جو تیل کی پیداوار کرتے ہیں ،مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجیں بٹھانے سے قبل ہی ،یہاں تیل نکالنے کے بہانے کہ ٹیکنالوجی ہی امریکہ کے پاس تھی،اور بعد ازاں عراق جنگ کے ہنگام،یہاں براہ راست فوجیں بٹھائی جا چکی ہیں اور ایران انہی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ عراق میں عملا تیل کی فروخت عراق کرتا ہے مگر اس کی آمدن ،امریکی خزانوں میں جاتی ہے جہاں سے قطرہ قطرہ عراقی حکومت کو ،ضروریات کا بل بھیجنے کے بعد ادا کی جاتی ہے یعنی دولت عراق کی مگر بھیک کی طرح امریکہ سے ملتی ہے،ایسی ہی خواہشات ایران کو دبا کر اور مشرق وسطی کے ممالک کو اس جنگ میں لپیٹ کر یہاں کی دولت سمیٹنے کے حوالے سے ہیں،جو تاحال کامیاب نہیں ہورہی۔جبکہ ایران ،تمام تر امریکی پابندیوں کے باوجود،چین کے ساتھ تیل کی تجارت کررہا تھا اور چین ،ایران کا 90%تیل خرید رہا تھا،یوں ایک طرف ایران کی معیشت گو کہ بارٹر سسٹم پر یا عالمی مارکیٹ سے کم قیمت پر چین کو فروخت کرکے،چل رہی تھی لیکن امریکہ کو یہ بھی منظور نہیں تھالہذا ایران پر جنگ مسلط کی جا چکی ہے۔ایران کی مدد میں چین کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ درپردہ یہ چین اور روس ہیں جو ایران کو بھرپور مدد فراہم کررہے ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں ،جب ایران کا انفراسٹرکچر بھی نشانہ بنا دیا گیا ہے،سمندری راستے پر پہرے ہیں تو کیا چین براہ راست اس جنگ میں ملوث ہو گا کہ اس کی صنعت کا پہیہ ایک طرف ایرانی تیل تو دوسری طرف روسی تیل سے متحرک تھا اور یہ دوذریعہ جنگ سے شدید متاثر ہو چکے ہیں جبکہ وینزویلا پر امریکہ قبضہ کر چکا ہے۔ ان حقائق کے باوجود ،ماضی کے جھرونکوں میں جھانکیں تو دوسری حقیقت بھی واضح نظر آتی اور یہ بدامنی بے سبب دکھائی نہیں دیتی۔امریکہ اس صدی کے آغاز میں ہی اپنی طاقت کے زعم میں ’’ کروسیڈ وار‘‘ کا نعرہ لگا چکا ہے اور سید مشاہد حسین نے ٹی وی گفتگو کے دوران امریکی جنرل ویزلے کلارک کا دعوی یاد کرواتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ 2001ء میں ہی مختلف ممالک میں ’’ رجیم چینج‘‘ کرنے کا اعلان کر چکا تھا جس میں افغانستان،عراق،شام،سوڈان،صومالیہ ،یمن اور ایران کا نام لیا گیا تھا،پاکستان میں رجیم چینج تو یونہی ذائثہ بدلنے کے لئے تھا،البتہ امریکہ شام،عراق،لیبیا اور سوڈان میں رجیم تبدیل کر پایا جبکہ افغانستان میں عبرتناک شکست کھا کر اور اپنا اسلحہ چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوا جبکہ یمن میں حالات ابھی تک غیر یقینی ہیں اور ایران اس ’’ کروسیڈ وار‘‘ کا فی الوقت وقت تختہ مشق ہے،دیکھتے ہیں اس کروسیڈ وار کا حتمی نتیجہ کیا ہوتا ہے۔







