حُسنِ خُلق: خَلق سے خُلق تک کا سفر
حُسنِ خُلق: خَلق سے خُلق تک کا سفر
صفدر علی حیدری
انسان کائنات کی سب سے حیرت انگیز تخلیق ہے۔ وہ محض گوشت، پوست اور ہڈیوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ مٹی کی عاجزی اور روح کی رفعت کا حسین امتزاج ہے۔ اس کی شخصیت کے دو نمایاں پہلو ہیں: ایک وہ جو آنکھوں سے دکھائی دیتا ہے، اور دوسرا وہ جو دلوں میں اترتا ہے۔ عربی زبان میں ان دو پہلوں کو دو بامعنی الفاظ میں سمویا گیا ہے: خَلق اور خُلق۔ ان کا مادہ ایک ہے ( خ، ل، ق)، مگر ایک حرکت کا فرق پوری کائنات کے معنی بدل دیتا ہے۔
خَلق جسمانی ساخت، ظاہری حسن اور تخلیقی تناسب ہے۔ خُلق کردار، اخلاق، مزاج اور روحانی جمال ہے۔
انسان کا وجود دو متوازی سفر پر محیط ہے۔ پہلا سفر اس کا جسمانی سفر ہے، خَلق۔ دوسرا اس کا روحانی سفر ہے، خُلق۔ خَلق وہ راستہ ہے جس پر جسم چلتا ہے۔ یہ سفر ماں کے پیٹ میں ایک قطرے سے شروع ہوتا ہے، پھر علقہ، پھر مضغہ، پھر ہڈیاں، پھر گوشت، اور بالآخر ایک مکمل انسان بنتا ہے۔ قرآن اس کا ذکر کرتا ہے: ’’ پھر ہم نے نطفہ کو خون کا لوتھڑا بنایا، پھر خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا، پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیاں، پھر ہڈیوں کو گوشت پہنایا، پھر اسے ایک اور مخلوق بنا دیا‘‘ ۔
یہ ہے خَلق کا سفر ، جو جسم کو کامل ترین تخلیق تک پہنچاتا ہے۔
لیکن انسان کا دوسرا سفر ہے، خُلق کا سفر۔ یہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان شعور حاصل کرتا ہے۔ روح کو علم، ایمان، اخلاق، صبر، شکر، عفو، عدل، رحم اور محبت کی منزلیں طے کرنی ہیں۔
خَلق کا سفر جہاں ختم ہوتا ہے ( جسم کی تکمیل) ، وہیں سے خُلق کا سفر شروع ہوتا ہے ( روح کی تکمیل)۔
جسم جب تک اپنی تخلیقی منزل طے کرتا ہے، اسے خَلق کہتے ہیں۔
روح جب تک اپنی عملی منزل کی طرف بڑھتی ہے، اسے خُلق کہتے ہیں۔
پہلا سفر اللہ کی عطا ہے، دوسرا سفر انسان کی کاوش۔
قرآنِ مجید نے انسان کی جسمانی تخلیق کو اپنی نشانی قرار دیا: ’’ بے شک ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا ‘‘۔ لیکن جب اللہ اپنے محبوب نبیؐ کا تعارف کراتا ہے تو ظاہری حسن کا ذکر نہیں، بلکہ ارشاد ہوتا ہے: ’’ اور بے شک آپؐ اخلاق کے بلند ترین مرتبے پر فائز ہیں‘‘۔
یہ ہے خُلق کی تکمیل۔
جب انسان خَلق اور خُلق دونوں پر فائز ہو جائے، تو وہ اشرف المخلوقات کا مرتبہ پا لیتا ہے۔
قرآن مزید ارشاد فرماتا ہے: ’’ اور لوگوں سے اچھی بات کہو‘‘۔ اور:’’ برائی کو اس بھلائی سے دفع کرو جو بہترین ہو‘‘ ۔
یہ اخلاق کا سنہری اصول ہے، نفرت کا جواب محبت سے، تلخی کا جواب نرمی سے، زیادتی کا جواب درگزر سے۔خَلق اللہ کی عطا ہے، خُلق اللہ کی رضا تک پہنچنے کا راستہ۔
خَلق وجود دیتا ہے، خُلق مقصد عطا کرتا ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ سے جب پوچھا گیا کہ آپؐ کے اخلاق کیسے تھے، تو انہوں نے فرمایا تھا : ’’آپؐ کا اخلاق سراپا قرآن تھا ‘‘۔
خود سرکار ختمی مرتبتؐ کا ارشاد ہے: ’’ مجھے اس لیے مبعوث کیا گیا ہے کہ میں اخلاقِ حسنہ کی تکمیل کر دوں‘‘۔ اور ’’ ایمان کے اعتبار سے کامل ترین مومن وہ ہے جس کا اخلاق سب سے بہتر ہو‘‘۔
فتحِ مکہ اس کی روشن مثال ہے۔ وہی لوگ جنہوں نے آپ کو ستایا، جب مغلوب ہو کر سامنے کھڑے ہوئے، تو آپؐ نے فرمایا: ’’ آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جائو تم سب آزاد ہو‘‘۔
یہ معافی نہیں، اخلاق کی وہ بلندی تھی جس نے دشمنوں کو دوست بنا دیا۔
طائف کا واقعہ اس کی روشن مثال ہے۔ یہی وہ اخلاق ہے جو انسان کو نبیوں کے درجے تک پہنچا دیتا ہے۔
حکیم اسلام باب مدینتہ العلم حضرت مولا علیؓ نے حسنِ اخلاق کو نہایت گہرائی سے سمجھایا ہے:
حسنِ اخلاق ہر نیکی کی بنیاد ہے۔
جس کا اخلاق اچھا ہو، اس سے محبت کرنے والے بڑھ جاتے ہیں۔
حسنِ ادب و اخلاق سے بڑھ کر کوئی وراثت نہیں۔
اخلاق کی خوبی سب سے بہتر دوستی ہے۔
تین چیزیں شخصیت کو بلند کرتی ہیں: حلم، علم اور حسنِ خلق۔
لوگ دولت کی وجہ سے آتے ہیں، دولت ختم ہو تو چھوڑ جاتے ہیں، خوب صورتی بڑھاپے میں ماند پڑ جاتی ہے، مگر اخلاق کا حسن عمر کے ساتھ بڑھتا ہے۔
اسلام کی تمام عبادات اخلاقی تربیت کا ذریعہ ہیں: نماز، روحانی پاکیزگی کا ذریعہ۔ نماز خشوع اور برائی سے اجتناب سکھاتی ہے۔
قرآن فرماتا ہے: ’’ بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے‘‘۔
روزہ، ضبطِ نفس کی تعلیم: روزہ خواہشات پر ضبط اور صبر سکھاتا ہے۔ یہ صبر، ہمدردی اور تقویٰ کا عملی درس ہے۔زکوٰۃدل سے بخل نکال کر سخاوت پیدا کرتی ہے۔ یہ معاشرتی مساوات اور فلاح کا ذریعہ ہے۔
حج، مساوات اور اخوت کا پیغام: حج رنگ، نسل اور طبقے کے امتیازات مٹا کر مساوات کا درس دیتا ہے۔ احرام کی دو چادریں انسان کو سب سے بڑی حقیقت یاد دلاتی ہیں کہ اللہ کے ہاں سب برابر ہیں۔
اگر عبادات کے باوجود انسان کے لہجے میں تلخی، معاملات میں بے ایمانی اور دل میں نفرت باقی رہے، تو عبادت کی روح ابھی دل میں نہیں اتری۔
نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’ جس شخص نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا، اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے‘‘۔
چھٹا باب: معاشرتی زندگی میں حسنِ خلق کا کردار: حسنِ خلق پوری معاشرتی زندگی کی بنیاد ہے۔ ایک بااخلاق معاشرہ وہ ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کا احترام کریں، جھوٹ معمول نہ بنے، امانت پامال نہ ہو، کمزور کو حقیر نہ سمجھا جائے۔ ایسے معاشرے میں قانون سے پہلے ضمیر بیدار ہوتا ہے، عدالت سے پہلے انصاف زندہ ہوتا ہے۔ خاندان اس کی پہلی مثال ہے۔ جہاں محبت، احترام اور شفقت ہو، وہ گھر جنت کا ٹکڑا بن جاتا ہے۔ والدین کا احترام، اولاد کی تربیت، ہمسایہ کے حقوق، رشتہ داروں کا خیال، یہ سب حسنِ خلق کی عملی صورتیں ہیں۔
نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’ تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔
تجارت، سیاست، تعلیم اور عدلیہ میں اخلاق بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ دیانت دار تاجر، باکردار استاد، منصف قاضی اور رحم دل حکمران کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔
حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے: ’’ دیانت دار تاجر صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہوگا‘‘۔
آج ہمارے پاس رابطے کے ذرائع بے شمار ہیں، مگر تعلقات کمزور ہیں۔ گویا رابطے کے ذرائع بھی بڑھ گئے اور فاصلے بھی۔گھر بڑے ہیں، مگر دلوں کی وسعت کم ہے۔ ہم نے خَلق سنوارنے میں محنت کی، مگر خُلق کو نظر انداز کر دیا۔
ہم چہرے پر میک اپ کرتے ہیں، مگر زبان کو جھوٹ سے نہیں بچاتے۔ فٹنس کا خیال رکھتے ہیں، مگر غصے پر قابو نہیں رکھ پاتے۔
مگر افسوس! انسان خَلق تک پہنچ گیا مگر خُلق تک نہ پہنچ سکا۔
جسم کی تکمیل پر رک گیا مگر روح کی تکمیل کی طرف نہ بڑھ سکا۔ (باقی صفحہ5پر ملاحظہ فرمائیں)
آج ہمارے پاس خوب صورت انسان بہت ہیں، مگر خوب کردار انسان کم ہیں۔
کامل جسم ہیں، مگر نامکمل روح ہیں۔
امام غزالیؒ نے فرمایا تھا: ’’ اخلاق کا حسن ظاہری حسن سے بہتر ہے، کیونکہ ظاہری حسن جسمانی عیبوں سے محفوظ نہیں، جبکہ اخلاقی حسن دائمی اور باطنی ہے‘‘۔
حسنِ خلق کوئی فلسفہ نہیں، عملی زندگی ہے۔
لہجے کی نرمی لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔
نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے، اسے زیب دیتی ہے، اور جس چیز سے چھین لی جاتی ہے، اسے بے رونق کر دیتی ہے‘‘ ۔
’’ معاف کرنے کی عادت انسان کو بلند کرتی ہے‘‘۔
’’ اور وہ جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرتے ہیں، اور اللہ نیکو کاروں کو پسند کرتا ہے‘‘۔
’’ جھوٹ اور خیانت سے بچنا‘‘۔
’’ تم صدق کو لازم پکڑو، کیونکہ صدق نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف‘‘۔
’’ مدد کرنا، تکلیف دور کرنا‘‘۔
’’ جو شخص کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیف دور کرے گا، اللہ اس سے قیامت کی ایک تکلیف دور کرے گا‘‘۔
’’ جو غصے کو پی لے، وہی حقیقی بہادر‘‘۔
’’ وہ شخص زبردست نہیں جو لوگوں کو پچھاڑ دے، بلکہ زبردست وہ ہے جو غصے کے وقت خود کو قابو میں رکھے‘‘۔
’’ لوگوں کی اچھائی کو سراہنا‘‘۔
’’ جو شخص لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا‘‘۔
’’ رحم کرو زمین والوں پر، آسمان والا تم پر رحم کرے گا‘‘۔
تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اپنے اخلاق کی بدولت عروج پاتی ہیں اور اپنے اخلاق کی کمزوری سے زوال پذیر ہوتی ہیں۔قرآن میں ارشاد ہے: ’’ بے شک اللہ کسی قوم کا حال نہیں بدلتا جب تک وہ اپنے حال کو خود نہ بدلیں‘‘۔
یہ تبدیلی اخلاقی انقلاب کے بغیر ممکن نہیں۔
ابن خلدون نے ’’ مقدمہ‘‘ میں لکھا ہے: ’’ قومیں اپنی اخلاقی کمزوری کی وجہ سے زوال پذیر ہوتی ہیں، اس سے پہلے کہ ان کی فوجی طاقت کمزور ہو‘‘ ۔
مکرر عرض ہے کہ انسان کی زندگی دو منزلوں کا سفر ہے۔
پہلی منزل: خَلق، ظاہری وجود، جسمانی خوب صورتی۔ دوسری منزل: خُلق، کردار، اخلاق، روحانی بلندی۔
پہلی منزل اللہ کی عطا ہے، دوسری انسان کی کمائی۔
خَلق وہ سفر ہے جس میں جسم تخلیق سے تکمیل تک پہنچتا ہے۔
خُلق وہ سفر ہے جس میں روح ابتدا سے کمال تک بڑھتی ہے۔
پہلا سفر اللہ کی صناعی، دوسرا انسان کی کاوش۔
پہلا پیدائش، دوسرا کردار۔
پہلا جسم کو حسین بناتا ہے، دوسرا روح کو حسین بناتا ہے۔
جب یہ دونوں سفر اکٹھے ہو جائیں، تو انسان وہ مقام پا لیتا ہے، اللہ کی رضا اور انسانیت کی خدمت۔
قرآن کا پیغام ہے: ’’ بے شک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو پرہیزگار ہیں اور جو نیکو کار ہیں‘‘۔
آج ہمیں اپنی توجہ خَلق سے ہٹا کر خُلق کی طرف کرنی چاہیے۔ بچوں کو صرف دولت نہیں، ایمان، اخلاق اور انسانیت کا ورثہ دینا چاہیے۔
انسان اپنے آپ کو جانچے: کیا میری گفتگو نرم ہے؟، کیا میں معاف کرنے والا ہوں؟، کیا میرا معاملہ امانت داری پر ہے؟، کیا میں غصے پر قابو رکھتا ہوں؟، کیا میں دوسروں کے دکھ میں شریک ہوں؟۔
یہ وہ سوالات ہیں جو ہمیں اپنے خُلق کی جانچ کرواتے ہیں۔
الغرض: خَلق انسان کو وجود دیتا ہے، مگر خُلق اسے انسانیت عطا کرتا ہے۔ خَلق زندگی بخشتا ہے، مگر خُلق زندگی کو مقصد دیتا ہے۔
یہی وہ سفر ہے جو انسان کو مٹی سے اٹھا کر اخلاق کی بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے، جہاں اس کی رضا میں رب کی رضا اور اس کی محبت میں انسانیت کی بقا پوشیدہ ہے۔
خَلق سے خُلق تک کا یہ سفر، ہر انسان کے لیے بہترین راستہ ہے۔
حسنِ خلق صدقہ ہے، محبت ہے، انسانیت ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے ۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حسنِ اخلاق کی دولت سے نوازے، ہمارے ظاہر کو حسین بنائے اور ہمارے باطن کو مزین فرمائے۔ ہمیں اپنے محبوب نبیؐ کے اخلاق کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین، یا رب العالمین۔
صفدر علی حیدری






