Column

بھیڑیوں کے جھپٹنے کی طاقت

بھیڑیوں کے جھپٹنے کی طاقت
سیدہ عنبرین
برسوں پہلے پرائمری جماعت کے انگریزی کتاب میں پڑھی کہانی یاد آرہی ہے، عنوان تھا لالچی کتا۔ عنوان کے ساتھ ہی تصویر میں بھیڑیئے کی شکل کا کتا تھا، جو منہ میں گوشت کا ایک بڑا ٹکڑا دبائے نہر کے پل سے گزر رہا تھا۔ کہانی میں بتایا گیا کہ پل سے گزرتے ہوئے اس نے پانی میں اپنا عکس دیکھا تو سمجھا کہ پانی کے اندر ایک اور کتا ہے، اس کے منہ میں بھی گوشت کا ایک بڑا ٹکڑا ہے، اسے خیال گزرا کہ پانی کے اندر موجود کتے سے اس کے منہ کا گوشت چھین لینا چاہیے، اس سوچ کے ساتھ ہی کتے نے منہ کھولا اور اپنے عکس پر جھپٹا، منہ کھولتے ہی اس کے اپنے منہ میں موجود گوشت کا ٹکڑا پانی میں جا گرا، یوں لالچی کتے کو اپنے لالچ کے سزا مل گئی، اسے منہ میں پکڑے گوشت سے محروم ہونا پڑا۔
وقت گزرنے کے ساتھ عہد حاضر میں اس کہانی میں کچھ تبدیلیاں آئی ہیں۔ بھیڑیئے نما کتے کے منہ میں وینزویلا کے تیل سے بھری بالٹی تھی، اپنے ٹھکانے پر جاتے ہوئے وہ نہر کا پل عبور کرنے لگا تو اسے یوں محسوس ہوا جیسے پانی کے اندر ایک اور کتا ہے، جس کے منہ میں ایرانی تیل سے بھری بالٹی ہے، اسے خیال آیا کہ جس آسانی سے اس نے وینزویلا کا تیل حاصل کر لیا ہے، وہ اس آسانی سے ایرانی تیل کی بالٹی بھی حاصل کر سکتا ہے، بس اس سوچ کے تحت اس نے ایرانی تیل حاصل کرنے کیلئے ایران پر حملہ کر دیا، پہلے حملے میں اسے بہت زخم لگے، وہ کئی ماہ تک اپنے زخم چاٹتا رہا، اس نے دوبارہ، سہ بارہ، اور اب تک جانے وہ کتنے حملے کر چکا ہے، لیکن ایرانی تیل تک نہیں پہنچ سکا۔ ہر مرتبہ نئے حملے میں اسے نئے زخم ملے ہیں، لیکن وہ حملوں سے باز نہیں آ رہا ،آخر وہ کتا ہے۔ بھیڑیئے کی نسل کا ہو یا کسی اور نسل کا، اس کا ’’ کت پنا‘‘ اس میں موجود رہتا ہے، اور اسے چین سے نہیں بیٹھنے دیتا۔ دنیا تبدیلیوں کی زد میں ہے اس کا اثر ایسا پر قدرے زیادہ ہے کیونکہ ’’ گریڈی ڈاگز‘‘ کی نظریں اس خطے کے مختلف ممالک کے وسائل پر ہیں۔ پہلے افغانو ں نے غیرت کا مظاہرہ کیا، انہوں نے پانی بقا کی جنگ لڑی، اپنے ملک اور اس کے وسائل پر امریکہ کو قبضہ نہ کرنے دیا، یہ جنگ قریباً دس برس جاری رہی۔ اس سے قبل افغانوں نے روسیوں کے دانت کھٹے کئے، یہ عرصہ بھی قریباً دس برس بنتا ہے۔ یوں افغان بیس برس تک امریکہ اور روس سے برسر بیکار رہے، دونوں جنگوں میں روسیوں اور امریکیوں کو بے حد نقصان اٹھانا پڑا، لیکن ایرانیوں نے جس طرح اپنی بقا کی جنگ لڑی ہے وہ داستان ہی مختلف ہے۔ ایران کے مقابل دو ایٹمی ملک اور ان کی پشت پر دو درجن نیٹو ممالک تھے، جن کی درپردہ جنگ میں شمولیت کے رازوں سے اب پردہ اٹھنے لگا ہے۔ امریکہ اور روس کو افغانستان میں بیس برس کی جنگ میں جو نقصان اٹھانا پڑا، ایران کے ہاتھوں سو روزہ جنگ میں امریکہ اور اس کے حواریوں کو جو نقصان اٹھانا پڑا اس کی کوئی نسبت طے ہی نہیں ہو سکتی، یہ کمر توڑ نقصان ہے۔ انگریزی کی کتاب والا گریڈی ڈاگ تو گوشت کا ٹکڑا کھو کر کسی کونے میں منہ دے کر بیٹھ گیا ہو گا، لیکن جاری زمانے کا گریڈی ڈاگ اپنی ٹوٹی کمر کے ساتھ کئی برس گھسٹتا نظر آئے گا۔
نیٹو کے سیکرٹری جنرل کے بیانات نے نیٹو مالک کو دنیا کے سامنے ننگا کر دیا، ان کے مطابق دوران جنگ کئی نیٹو ممالک نے امریکہ کی مدد کی۔ مارک روٹے کے اعترافات نے امریکہ اور اسرائیل کو خوب رسوا کیا ہے، وہ کہتے ہیں اٹلی نے قریباً پانچ سو امریکی فوجی طیاروں کیلئے اڈے فراہم کئے، جبکہ یورپی ممالک کے مختلف اڈوں سے قریباً پانچ ہزار حملوں کیلئے جہازوں نے پروازیں کیں، مزید برآں یورپی فوجی دستے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے بھی بلائے گئے، لیکن انہیں ایرانی حملوں کے بعد ناکا م لوٹنا پڑا۔ عالمی تجزیہ کاروں کی متفقہ رائے ہے کہ نیٹو مالک کی مدد کے بغیر امریکہ اس پیمانے پر جنگ کارروائیاں نہیں کر سکتا تھا، لیکن انہیں حیرانی اس امر پر ہے کہ تمام تر جنگی صلاحیت اور نیٹو ممالک کی مدد کے باوجود امریکہ اور اسرائیل کوئی ہدف حاصل نہیں کر سکے۔ اس طرح درجن سے زائد ممالک کی جارحیت کا مقابلہ کرنے والا ملک ایران ایک بڑی عالمی فوجی طاقت بننے کا اعزاز اور مقام حاصل کر چکا ہے۔
عالمی تجزیہ کار اور تجزیہ نگار ایک اہم نکتے کو سمجھ نہ پائے کہ جس طرح کی نیٹو ممالک در پردہ امریکہ کو جنگی معاونت فراہم کرتے رہے، اس کے برعکس بعض اسلامی ممالک در پردہ امریکہ ایران کے خلاف سہولتیں فراہم کرتے رہے۔ یوں ایران کیلئے اپنا دفاع مزید مشکل بنا دیا گیا، لیکن ایران پھر بھی ڈٹا رہا۔ جنگ بندی کیلئے امریکہ منتیں کرتا نظر آیا، اس نے جب بھی مذاکرات کے دوران جنگ کی دھمکی دی، ایرانی قیادت نے کاغذ قلم ہاتھ سے رکھ دیئے، اور جواب دیا کوئی بات نہیں پہلے آپ حملے کا شوق پورا کر لیں، مذاکرات اس کے بعد کر لیں گے۔ امریکہ کے ایران پر آخری حملے کے بعد بھی یہی منظر ہے، امریکی قطر پہنچ کر مذاکرات کی سیج سجائے بیٹھے رہے، ایرانی قیادت کا انتظار کرتے رہے، وہ نہیں آئے۔ اب ان کی طرف سے کیا گیا ہے کہ امریکیوں کے ساتھ براہ راست کوئی بات نہیں ہوگی، مذاکرات بذریعہ قطر ہونگے۔ ایرانی قیادت قطر میں براہ راست مذاکرات کے حوالے سے غیر مطمئن ہے، جس کی ٹھوس وجوہات ہیں۔ قطر میں جاری مذاکرات کے دوران امریکہ کی شہ پر اسرائیل نے حملہ کیا تھا۔ اسرائیل اور امریکہ ایک مرتبہ پھر یہ سب کچھ کر سکتے ہیں، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ابھی تک ایک وکٹری کی تلاش میں ہے، جو اسے کئی بلین ڈالر چرچ کر کے، اپنا بے تحاشہ جنگی ساز و سامان ضائع کر کے بھی نہیں مل سکی، وہ ضرور چاہے گا کہ مذاکرات کے دوران دھوکہ دہی کرتے ہوئے ایرانی قیادت کو نشانہ بنائے، اور امریکیوں کے ساتھ ساتھ اپنے حواریوں کو دکھائے کہ بالآخر اس نے ایران کو زیر کر لیا۔ ایران دو مکار طاقتوں کو یہ فیس سونگ نہیں دے گا، جس کیلئے دو باولے مرے جا رہے ہیں، دونوں ہی پل عبور کرتے ہوئے اپنا عکس پانی میں دیکھ کر غراتے ہیں، اور اس پر جھپٹ پڑتے ہیں۔ ایران نے مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے اپنے کامیاب دفاع کی جنگ لڑی ہے، اور دو بھیڑیوں سے جھپٹنے کی طاقت چھین لی ہے۔

جواب دیں

Back to top button