تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیاتپاکستان

*ایف بی آر کی ٹیکس ہدف میں کامیابی پر لاہور چیمبر کی مبارکباد، ٹیکس دینے والی صنعتوں کو بھی ریلیف دینے کا مطالبہ

*ایف بی آر کی ٹیکس ہدف میں کامیابی پر لاہور چیمبر کی مبارکباد، ٹیکس دینے والی صنعتوں کو بھی ریلیف دینے کا مطالبہ*

صنعتوں کی منتقلی کی کارروائیاں فوری روکی جائیں، متبادل صنعتی زونز بنائے بغیر صنعتوں پر دباؤ معیشت کے مفاد میں نہیں: صدر لاہور چیمبر

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ٹیکس وصولی کا سالانہ ہدف حاصل کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کامیابی صرف ایف بی آر کی نہیں بلکہ پاکستان کی کاروباری برادری، صنعتکاروں، برآمدکنندگان اور تمام ٹیکس دہندگان کی مشترکہ کامیابی ہے، جنہوں نے مشکل معاشی حالات کے باوجود قومی خزانے میں اپنا حصہ ڈالا۔
لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ ایف بی آر کی ہر ٹیکس وصولی دراصل صنعت، تجارت اور کاروباری سرگرمیوں کی بدولت ممکن ہوتی ہے۔ صنعتکاروں نے مہنگی بجلی، زیادہ شرح سود، مہنگائی جیسے سخت حالات کے باوجود ٹیکس ادا کیے، اس لیے وہ تعریف اور حکومتی تعاون دونوں کے مستحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس کامیابی سے یہ سیکھنا ہو گا کہ مضبوط صنعت ہی زیادہ ٹیکس، زیادہ برآمدات اور بہتر معیشت کی ضمانت ہے۔ اگر صنعتوں کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہوگا تو مستقبل میں ٹیکس آمدن بھی متاثر ہوگی۔
فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک طرف صنعتیں قومی خزانے میں بھرپور حصہ ڈال رہی ہیں جبکہ دوسری طرف لاہور میں کئی صنعتی یونٹس کو لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کی جانب سے سیل کرنے، نوٹس جاری کرنے اور منتقلی کے اقدامات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کے لیے متضاد پیغام ہے۔ حکومت ایک طرف زیادہ ٹیکس، زیادہ برآمدات اور نئی سرمایہ کاری چاہتی ہے جبکہ دوسری طرف صنعتوں کو ایسے وقت میں منتقل کیا جا رہا ہے جب نئے صنعتی زونز اور ضروری سہولیات موجود ہی نہیں۔
صدر لاہور چیمبر نے واضح کیا کہ لاہور چیمبر ماحولیاتی تحفظ، منصوبہ بندی اور قوانین پر عملدرآمد کی مکمل حمایت کرتا ہے، لیکن صنعتوں کی منتقلی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مکمل سہولیات سے آراستہ نئے صنعتی زونز قائم نہ کیے جائیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ صنعتیں کہاں منتقل ہوں جبکہ ابھی تک ایسے صنعتی زونز موجود نہیں جہاں سڑکیں، بجلی، گیس، پانی، سیوریج اور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ جیسی بنیادی سہولیات دستیاب ہوں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صنعتوں کو متبادل انتظام کے بغیر بند یا منتقل کرنے پر مجبور کیا گیا تو نہ صرف پیداوار اور روزگار متاثر ہوگا بلکہ حکومت کی مستقبل کی ٹیکس آمدن بھی کم ہو سکتی ہے کیونکہ قومی خزانے میں سب سے زیادہ حصہ یہی صنعتیں ڈالتی ہیں۔
فہیم الرحمن سہگل نے وفاقی اور پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ صنعتوں کی منتقلی سے متعلق سخت اقدامات فوری طور پر روکے جائیں اور کاروباری برادری سے مشاورت کے بعد جدید اور مکمل سہولیات والے متبادل صنعتی زونز قائم کیے جائیں۔انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ لاہور چیمبر، صنعتی تنظیموں اور متعلقہ سرکاری اداروں پر مشتمل ایک مشترکہ مشاورتی فورم بنایا جائے تاکہ ماحولیات کے تقاضوں اور صنعتی ترقی کے درمیان متوازن، مرحلہ وار اور قابلِ عمل پالیسی تیار کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کا ٹیکس ہدف حاصل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اور نجی شعبہ مل کر قومی معیشت کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ صنعتوں کو تحفظ، سرمایہ کاری کو فروغ اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے تاکہ ٹیکس وصولی، روزگار اور معاشی ترقی کا یہ سفر مزید مضبوط ہو سکے۔

جواب دیں

Back to top button