معاشی بہتری کا خواب اور گرتے اعداد و شمار

معاشی بہتری کا خواب اور گرتے اعداد و شمار
شاہد ندیم احمد
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ حالیہ معاشی رپورٹ محض کچھ خشک اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں، بلکہ ملکی معیشت کے مستقبل کا ایک تشویشناک آئینہ ہے، اس رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں ملک میں آنے والی براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 28فیصد سے زائد کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، اس جولائی تا مئی کے دوران حجم محض 1ارب 62کروڑ ڈالر تک سمٹ گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی مدت میں یہ 2 ارب 67کروڑ ڈالر کی سطح پر موجود تھا، یہ تقابلی گراوٹ واضح کرتی ہے کہ عالمی سرمایہ کاروں کی نظر میں ہماری مارکیٹ اپنی کشش کھوتی جا رہی ہے، اس کے اثرات اب براہِ راست پاکستان کی صنعتی اور پیداواری صلاحیت پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
اس گراوٹ کے اثرات کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے جاننا ضروری ہے کہ ترقی پذیر اور خصوصاً پاکستان جیسی نازک معیشتوں کے لیے بیرونی سرمایہ کاری دراصل ایک لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہے،جب کسی ملک میں غیر ملکی ڈالر براہِ راست مینوفیکچرنگ، انفراسٹرکچر یا سروسز کے شعبے میں آتے ہیںتو وہ اپنے ساتھ جدید ترین ٹیکنالوجی اور عالمی مہارت بھی لاتے ہیں، یہ ایسا بنیادی ایندھن ہے، جوکہ مقامی صنعتوں کو متحرک کرتا ہے، اس کے نتیجے میں مارکیٹ میں ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، اس لائف لائن میں جب 28فیصد کا بڑا کٹ لگتا ہے تو صنعتی سرگرمیاں جمود کا شکار ہو جاتی ہیں، بے روزگاری کا گراف اوپر جاتا ہے، اور غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دبائو اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ ملک کو اپنے روزمرہ کے اخراجات کے لیے بیرونی قرضوں کا محتاج ہونا پڑتا ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک اتنی بڑی اور منافع بخش مارکیٹ ہونے کے باوجود، سرمایہ کار پاکستان سے رخ کیوں موڑ رہے ہیں؟ اس کا جواب ہمارے داخلی اور ساختی مسائل میں چھپا ہے، ہمارے ہاں بیرونی سرمایہ کاری میں تسلسل کے ساتھ آنے والی کمی کی سب سے پہلی اور بنیادی وجہ پالیسیوں کا عدم تسلسل ہے، پاکستان میں بدقسمتی سے حکومتیں بدلتے ہی معاشی ترجیحات، ٹیکس قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کو یکسر بدل دیا جاتا ہے، اس سے طویل مدتی سرمایہ کار کا اعتماد مکمل طور پر اٹھ جاتا ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال میں مزید جلتی کا کام یہاں کی بلند ترین کاروباری لاگت کر رہی ہے، اس ملک میں توانائی کے سب سے مہنگے نرخ، ایک پیچیدہ اور فرسودہ ریگولیٹری نظام، اور بیوروکریسی کی سرخ فیتہ شاہی نے کاروبار کے آغاز اور این او سی کے حصول کو ایک طویل جدوجہد بنا دیا ہے، اس کی وجہ سے سرمایہ کار پڑوسی ممالک کا رخ کرنے پر مجبور ہیں، اس سنگین اسباب کے پیشِ نظر، اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت زبانی دعوئوں، روایتی اعلانات اور پرجوش غیر ملکی دوروں کے مروجہ دائرے سے باہر نکلے اور زمینی حقائق پر نظر رکھتے ہوئے اقدامات اُٹھائے، تبھی سر مایہ کار کو اپنی جانب متو جہ کیا جاسکتا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو عالمی منڈی کے کچھ اصول ہیں ، سرمایہ کار جذباتی تقریروں پر نہیں، بلکہ زمین پر موجود ٹھوس حقائق اور منافع کے تحفظ کو دیکھ کر سرمایہ کاری کا فیصلہ کرتا ہے، اگر ہم واقعی 28فیصد کے خسارے کو مستقل بنیادوں پر اچھے متبادل میں بدلنا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے سرمایہ کاروں کو اعتماد کے ساتھ ایک شفاف اور طویل مدتی پالیسی ماحول فراہم کرنا ہوگا، ریاست کو سرمایہ کارکو بلا امتیاز قانونی ضمانت دینی ہوگی کہ اگلے پندرہ سال تک ملکی ٹیکس قوانین اور مراعات میں کوئی منفی تبدیلی نہیں کی جائے گی، تاکہ سرمایہ کار بلا خوف و خطر اپنی طویل مدتی منصوبہ بندی کر سکیں، اس پالیسیوں کے تسلسل کو مادی شکل دینے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز توانائی اور ٹیکس کے شعبوں میں فوری اور جامع اصلاحات سے ہونا چاہیے، حکومت کو صنعتی شعبے کے لیے بجلی اور گیس کے نرخوں کو علاقائی سطح پر مسابقتی بنانا ہوگا، تاکہ مینوفیکچرنگ کی لاگت میں کمی لائی جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، ٹیکس کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر کے ون ونڈو آپریشن (One Window Operation)کو فعال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جہاں کاروبار کی رجسٹریشن سے لے کر تمام تر منظوریاں ایک ہی چھت کے نیچے کم سے کم وقت میں حاصل کی جا سکیں۔ جب تک ہم انتظامی رکاوٹوں کا خاتمہ کر کے داخلی اور خارجی سرمایہ کاروں کو یکساں مواقع اور ان کے معاہدوں کے تحفظ کی فول پروف ضمانت فراہم نہیں کریں گے، معاشی بہتری کے تمام خواب ادھورے رہیں گے۔
اگر ہم نے اپنا معاشی بہتری کا خواب پورا کر نا ہے تو ہمیں سب سے پہلے ایک قومی معاشی میثاق تشکیل دینا ہوگا، جو کہ ہر قسم کی سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو، ہمیں اپنی برآمدات کو بڑھانے، مقامی صنعتوں کو سستی توانائی فراہم کرنے، اور زراعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے جدید شعبوں میں انقلابی اصلاحات لانا ہو گی، ہم جب تک کاروبار کرنے کی لاگت میں کمی نہیں لائیں گے اور بیوروکریسی کے پیچیدہ نظام کو ڈیجیٹلائز کر کے آسان نہیں بنائیں گے، تب تک معاشی ترقی کا سفر شروع نہیں ہو سکتا ہے، اگر پاکستان کو ایک واقعی مضبوط اور خود کفیل معیشت بننا ہے، تو ہمیں سرمایہ کاروں کے تحفظ اور ان کے اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دینا ہوگی، کیونکہ سرمایہ کار اعتماد چاہتے ہیں اور یہ اعتماد زبانی وعدوں سے نہیں، بلکہ مستقل، شفاف اور نتیجہ خیز پالیسیوں سے حاصل ہو سکتا ہے۔




